اشاعتیں

وہ جو مسکراتے نہیں

  مصنف: عبدالرزاق واحدی بارش اُس رات بھی نہیں ہوئی تھی، مگر کھڑکی کے شیشوں پر نمی جمی ہوئی تھی۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی پھیلی تھی جو وقت کے ساتھ بوڑھی ہو جاتی ہے۔ دروازے پر تین دستکیں ہوئیں۔ ایک… وقفہ… پھر دوسری… پھر تیسری۔ ہر بار ایک ہی ترتیب، جیسے کسی نامعلوم خوف کا پاس ورڈ ہو۔ میں نے دروازہ کھولا۔ وہ ہمیشہ کی طرح سیدھا کھڑا تھا۔ کالے اوورکوٹ کا کالر گردن تک چڑھا ہوا، چہرہ بے تاثر، آنکھیں ایسی جیسے نیند نے برسوں سے اُن کے قریب آنے کی جرأت نہ کی ہو۔ اُس کے کپڑوں سے ہلکی سی جراثیم کش دوا کی بُو آتی تھی۔ " آج بھی وہی معمول؟" میں نے آہستہ سے پوچھا۔ وہ جواب دیے بغیر اندر آیا اور کمرے کے اُس کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں کھڑکی کی روشنی پوری طرح نہیں پہنچتی تھی۔ جیسے وہ شعاعوں سے نہیں، صرف سایوں سے مانوس ہو۔ میں نے چائے بنائی۔ کیتلی کی سیٹی اُس خاموشی میں عجیب لگ رہی تھی۔ وہ بیٹھا مجھے دیکھتا رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔ ڈاکٹر فیضان۔ وہ میرا معالج نہیں تھا۔ کم از کم اب مجھے یہی لگنے لگا تھا۔ تین مہینوں سے وہ ہفتے میں دو بار آتا، چند گھنٹے بیٹھتا، میری حرکات دیکھتا،...

چوکھٹ

(1) ثناء کی چیخ ابھی تک اُس اسپتال کی دیواروں میں پھنسی ہوئی تھی۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ کے باہر لمبے، نم آلود کوریڈور میں عارف لوہے کی بنچ پر بیٹھا تھا۔ سفید بتیوں کی بے رحم روشنی میں اُس کا چہرہ راکھ جیسا لگ رہا تھا۔ ہوا میں فینائل، دوا، خون اور پسینے کی ملی جلی بُو تیر رہی تھی۔ دور کہیں ایک بچہ رویا، پھر خاموش ہو گیا۔ جیسے اس عمارت کے اندر ہر آواز تھوڑی دیر بعد مر جاتی ہو۔ عارف نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ اُس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ہوئی تھیں۔ دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں چل رہی تھیں، مگر وقت رکا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ جیسے پوری دنیا ایک ایسی چوکھٹ پر کھڑی ہو جہاں سے آگے یا تو زندگی تھی… یا اندھی خاموشی۔ اچانک دروازہ کھلا۔ ” عارف میاں؟ “ سفید یونیفارم میں نرس کھڑی تھی۔ اُس کی آواز میں تھکن تھی، ہمدردی نہیں۔ عارف تقریباً دوڑتا ہوا اندر گیا۔ کمرے میں تیز روشنی تھی۔ اتنی تیز کہ آنکھیں جلنے لگیں۔ ثناء اندر اسٹریچر پر پڑی تھی۔ بال ماتھے سے چپکے ہوئے، ہونٹ پھٹے ہوئے، سانس بے ترتیب۔ اُس کی انگلیاں ہوا میں کسی سہارے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے ماسک نیچے کیا۔ آ...