بعض دروازے گھر کے اندر ہوتے ہیں، اور ان کی چابی ہم جیب میں لیے پھرتے ہیں۔ مرکزی خیال: جو دروازہ ہم باہر ڈھونڈتے ہیں وہ اندر لگا ہوتا ہے۔ اسے کھولو تو سامنا صرف اپنے عکس سے ہوتا ہے۔ وہی عکس ساری جستجو کا جواب ہے۔ رات کے دو بجے تھے۔ شہر کی آوازیں مر چکی تھیں۔ اس کے کان میں بچے کا رونا تھا۔ آنکھ کھولی۔ چھت پر دراڑ تھی۔ سالوں میں مکڑی کا گھر بن گیا تھا۔ مکڑی جالا بُن رہی تھی۔ ٹوٹے دھاگے جوڑ رہی تھی۔ بیوی کے شانے کانپ رہے تھے۔ نیند میں بھی۔ اس نے چادر اوڑھا دی۔ اٹھا۔ باہر نکل گیا۔ گلی میں کتا لیٹا تھا۔ تین ٹانگیں۔ چوتھی زخمی۔ شام کی روٹی آگے رکھ دی۔ کتے نے بھوک سے دیکھا۔ کھائی نہیں۔ آنکھیں بند کر لیں۔ چلتا رہا۔ صبح میں دو گھنٹے باقی تھے جب دریا کے کنارے پہنچا۔ بیس سال پہلے اسی کنارے پر کہا تھا: "میں تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا۔" آج بیوی اکیلی سو رہی تھی۔ بچہ اکیلا۔ وہ ایک دروازے کی تلاش میں تھا۔ دریا کے پار روشنی تھی۔ ایک گھر۔ بوڑھی عورت رہتی تھی۔ تین بیٹے تھے۔ ایک جنگ میں مرا۔ دوسرا شہر چھوڑ گیا۔ تیسرا… اس کے گھر کے اندر تھا۔ وہ اسے چھو کر نہ گزرتا تھا۔ ایک بار پوچھا ت...
یہ افسانہ یہ سبق دیتا ہے کہ وقت پر رشتوں کو اہمیت نہ دی جائے اور احساسات کو دبا دیا جائے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان ساتھ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو کھو دیتے ہیں، اور پیچھے صرف اداسی اور پھیکی (یا کم چینی والی) چائے کی طرح بے ذائقہ یادیں رہ جاتی ہیں۔ شام کے چھ بج رہے تھے جب چھت پر پھیلی ہوئی چادر کی سلوٹوں سے دھوپ سرک کر صحن میں اتری اور پھولوں کی کیاری کے پاس دم توڑ گئی۔ وہ دونوں برآمدے میں رکھی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، بیچ میں رکھی ہوئی چائے کی پیالی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ ’’چائے پی لو، ٹھنڈی ہوئی جا رہی ہے۔‘‘ عائشہ نے کہا، مگر اس کی نظریں سامنے کمرے کے بند دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ دروازے پر لٹکا ہوا پردہ ہوا کے ایک جھونکے سے ذرا سا ہلا اور پھر ساکن ہو گیا۔ شہزاد نے چپ چاپ پیالی اٹھائی اور ایک گھونٹ بھرا۔ چائے میں چینی کم تھی، بالکل ویسے جیسے وہ پچھلے سترہ سالوں سے پیتا آیا تھا، مگر آج حلق سے نیچے اترتے ہوئے اس کا ذائقہ کچھ اور تھا۔ جیسے کوئی پرانی تصویر دھندلا گئی ہو اور آنکھیں ملنے کے بعد بھی صاف نہ ہو رہی ہو۔ ’’میں نے صوفہ درزی کو دے دیا ہے،‘‘ عائشہ نے بغیر اس کی...