اشاعتیں

اِنتِظار

  ہر صبح ٹھیک سات بجے وہ پارک کی سب سے پُرانی بینچ پر آ بیٹھتا۔ لوہے کی اُس بینچ کا سبز رنگ جگہ جگہ سے اُکھڑ چکا تھا اور بارش کے بعد اُس میں سے زنگ کی ایک بُو اُٹھتی تھی۔ بوڑھا ہمیشہ سفید کُرتا، خاکی پتلون اور سر پر میلی سی ٹوپی پہنے ہوتا۔ ہاتھوں میں ایک بوسیدہ کاغذ دبا رہتا، جیسے کسی ڈوبتے آدمی نے آخری لکڑی پکڑی ہو۔ پارک کے درخت بھی اب اُس کے معمول سے واقف ہو چکے تھے۔ صبح کی ہوا آتی، پتے ہلتے، کوّے شور مچاتے، بچے اسکول جاتے، دوڑنے والے پسینہ پونچھتے گزر جاتے… مگر وہ وہیں بیٹھا رہتا۔ کبھی آہستہ سے کاغذ کھولتا، دیر تک اُسے دیکھتا، پھر بڑی احتیاط سے تہہ کر کے جیب میں رکھ لیتا، جیسے کاغذ نہیں، کوئی سانس ہو۔ عالیہ کئی دن سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ وہ روز صبح دوڑنے آتی تھی۔ پہلے اُس نے صرف تجسس سے دیکھا، پھر اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس بینچ کے گرد وقت ذرا دھیرے چلتا ہے۔ ایک صبح وہ دوڑتے دوڑتے اُس کے سامنے رُک گئی۔ ” چچا جان… آپ روز یہاں کس کا انتظار کرتے ہیں؟“ بوڑھے نے گردن اُٹھائی۔ آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی، جیسے بہت پرانا پانی۔ ” کسی کا نہیں بیٹی… وقت کا۔“ عالیہ ہنس دی۔ ” وقت...

اَنگُوٹھے کا نِشان

  سردیوں کی دُھند ابھی پوری طرح زمین پر نہیں اُتری تھی، مگر سیالکوٹ کی گلیاں پہلے ہی دھوئیں، گرد اور تھکن سے اَٹی پڑی تھیں۔ تھانے کے صحن میں کھڑی سفید وین کے نیچے تیل کی باریک لکیر رینگ رہی تھی، جیسے کوئی زخمی جانور پوری رات کراہتا رہا ہو۔ عابدہ حسبِ عادت دروازے سے لٹکی ہوئی تھی۔ ” راحت، اگر یہ کھٹارا آج بھی راستے میں بند ہوا نا، تو قسم سے اِسے دفنا کر فاتحہ پڑھوں گی۔ “ راحت نے سگریٹ دانتوں میں دبایا، آئینے میں اُسے دیکھا اور بےدِلی سے بولا: ” وین نہیں مرتی، عابدہ… آدمی گھِس جاتا ہے۔ “ پیچھے بیٹھی اِنْسپکٹر ترسیل فاطمہ — جِنہیں سب “آپا” کہتے تھے — ایک بوسیدہ فائل کے کنارے سیدھے کر رہی تھیں۔ اُن کے ناخنوں میں نیلی سیاہی جمی ہوئی تھی۔ یاسمین نے ہنستے ہوئے کہا: ” آپا فائل ایسے پکڑتی ہیں جیسے مُصحف ہو۔ “ آپا نے سر نہیں اُٹھایا۔ ” کاغذ بعض اوقات قرآن سے زیادہ خون مانگتے ہیں۔ “ ایک لمحے کو وین کے اندر ایسی خاموشی اُتری جیسے کسی نے سب کے حلق میں مٹی بھر دی ہو۔ باہر دھند میں بجلی کے کھمبے پیچھے بھاگ رہے تھے، جیسے اندھیرے کے لمبے نیزے زمین میں گاڑے جا رہے ہوں۔ نورکوٹ پہنچتے پہنچ...

آپ نَہ ہُود

  ہَوا میں ایک عجیب سی بجلی گھُلی ہوئی تھی۔ وہ آسمانی بجلی نہیں تھی جو بادلوں کو چیرتی ہے، بلکہ وہ باریک، خفیف سنسناہٹ تھی جو آدمی کی جِلد کے نیچے رینگتی رہتی ہے۔ راہی نے اپنا کوٹ ذرا اور سمیٹا اور خاموشی سے گاڑی سے نیچے اُتر آیا۔ سامنے زنگ آلود بورڈ پر مدھم حروف اب بھی باقی تھے: ” سیلینٹ ویلی “ اور اُس کے نیچے ایک جملہ، جو نمی اور وقت کے باوجود صاف پڑھا جا سکتا تھا: ” یہاں آواز مر جاتی ہے۔” راہی نے ایک لمحے کو وادی کی طرف دیکھا۔ دُور تک پھیلی ہوئی دھند، بے حرکت درخت، اور اُن کے درمیان ایسی خاموشی جو سکون نہیں دیتی تھی بلکہ آدمی کے اندر کسی پوشیدہ اضطراب کو جگا دیتی تھی۔ وہ خاموشی جو کانوں میں بَجتی ہے۔ وہ یہاں ایک گمشدہ سائنس دان، ڈاکٹر عرفان کی تلاش میں آیا تھا؛ وہی ڈاکٹر عرفان جو ” آواز کے غار” کے متعلق تحقیق کرتے کرتے خود لاپتا ہو گیا تھا۔ راہی نے قدم آگے بڑھائے۔ چند ہی لمحوں بعد اُسے احساس ہوا کہ اُس کے جوتوں کی چاپ بھی غائب ہو چکی ہے۔ اُس نے رُک کر انگلیاں چٹخائیں۔ کوئی آواز پیدا نہ ہوئی۔ اُس نے اپنا نام پکارا، مگر لفظ حلق سے نکل کر جیسے فضا میں تحلیل ہونے سے پہلے ہی...

تَصْوِیر

  تَصْوِیر اُسے والد کے اِنتِقال کے تقریباً سات ماہ بعد ملی۔ بارِش کی ایک نم آلود دوپہر تھی۔ گھر کے پچھلے کمرے میں رکھی لکڑی کی پُرانی الماری سے نمی اور بوسیدگی کی ملی جُلی بُو اُٹھ رہی تھی۔ زین پُرانی کتابیں الگ کر رہا تھا کہ ایک موٹی لُغت کے اندر سے کوئی چیز پھسل کر فرش پر آ گری۔ ایک سیاہ و سفید تَصْوِیر۔ وہ جھکا، تَصْوِیر اُٹھائی، اور دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔ تین لوگ تھے۔ ایک نوجوان لڑکا۔ اُس کے ساتھ ایک لڑکی۔ اور درمیان میں ایک بوڑھا آدمی۔ لڑکا مسکرا رہا تھا، مگر اُس کی مُسکراہٹ میں ایک انجانا اِحتیاط تھا، جیسے کسی نے سخت لہجے میں کہا ہو: ” ذرا سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ “ لڑکی کی آنکھیں سیدھی کیمرے میں پیوست تھیں، مگر اُن میں عجیب سی تھکن تھی۔ بوڑھا آدمی دونوں کے درمیان کھڑا تھا، لیکن یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اُن کے ساتھ ہو کر بھی اُن سے الگ کھڑا ہو۔ تَصْوِیر کے پچھلے حصّے پر مدھم پنسل سے لکھا تھا : ” رَیحان، ثناء، اور اَلطاف۔ چکوال — ۱۹۷۵ ء “ زین نے تَصْوِیر دوبارہ پلٹی، پھر ایک بار اور۔اُسے اچانک محسوس ہوا کہ وہ اپنے والد کے بارے میں جتنا جانتا تھا، شاید اُس سے کہیں ...

گرگٹ

پولیس انسپکٹر اوچومیلوف نیلا اوور کوٹ پہنے، ہاتھ میں ایک بنڈل تھامے بازار کے چوک سے گزر رہا ہے۔ سرخ بالوں والا کانسٹیبل ضبط کیے ہوئے کروندوں سے بالکل اوپر تک بھری ٹوکری اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا ہے.... چوک میں ایک متنفس بھی نہیں نظر آتا.... چھوٹی چھوٹی دوکانوں اور شراب خانوں کے کھلے ہوئے دروازے بہت سے بھوکے جبڑوں کی طرح خدا کی دنیا کو اداسی کے ساتھ تکے جا رہے ہیں۔ ان کے قریب کہیں کوئی بھکاری تک نہیں کھڑا ہے۔ ”اچھا تو تُو کاٹے گا، آوارہ کتے!“ اچانک اوچو میلوف کے کانوں میں آواز پڑتی ہے۔ ”ارے لڑکو! جانے نہ دینا اِسے! کاٹنے کی آج کل اجازت نہیں ہے۔ پکڑ لو کمبخت کو! او!....“ پھر کسی کتے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اوچو میلوف اس جانب نظریں اٹھاتا اور یہ سب دیکھتا ہے۔ تاجر پیچوگین کے عمارتی لکڑی کے گودام سے ایک کتا تین ٹانگوں پر دوڑتا ہوا باہر نکلتا ہے۔ ایک شخص اس کا تعاقب کر رہا ہے جس کی چھینٹ کی قمیض کلف دار ہے، واسکٹ کے بٹن کھلے ہوئے ہیں اور سارا جسم آگے کی طرف جھکا ہوا ہے۔ آدمی ٹھوکر کھاتا اور کتے کی پچھلی ٹانگوں کو پکڑنے میں کامیاب ہو جاتاہے ای...