مرکزی خیال : انسانی رویوں میں منافقت اور طبقاتی برتری کی نفسیات وقتاً فوقتاً انسان کو اندر سے توڑتی ہے۔ اصل تبدیلی بیرونی اصلاح نہیں بلکہ داخلی شعور کی بیداری سے جنم لیتی ہے۔ ضمیر سے فرار ممکن نہیں، وہ دیر یا سویر اپنی آواز واپس لے آتا ہے۔ رانا اعجاز نے چائے کا آخری گھونٹ ایسے نگلا جیسے کسی فیصلے کو حلق سے نیچے اتار رہے ہوں۔ ان کی کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی ہال کی مدھم سنہری روشنی میں لمحوں کو کاٹتی جا رہی تھی۔ شمیم میموریل ہال کا وسیع بال روم دولت کی بے آواز چیخوں سے بھرا ہوا تھا—چمکتے فانوس، پالش شدہ فرش، اور مہنگے عطر کی تہہ در تہہ گھٹن۔ یہ ظہیر سلطان کی دعوت تھی۔ شہر کے ان لوگوں کے لیے جو اپنی موجودگی سے محفلیں معتبر کرتے تھے۔ رانا اٹھے۔ کوٹ کی شکنیں درست کیں اور ہال میں آہستہ قدم رکھنے لگے۔ ہر چہرہ ایک حساب تھا، ہر مسکراہٹ ایک سودے کی پیشگی قسط۔ کونے میں ان کی نظر ٹھہر گئی۔ ایک بوڑھا آدمی۔ سید صاحب۔ پچاس برس پہلے یہی آدمی دفتر کی فائلوں میں جھکا ہوا کلرک تھا، اور رانا اسی میز پر اس کے برابر بیٹھا خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب خواب رانا کے پاس تھے، اور سید صاحب کے پاس ...
بعض ڈھالیں پہن لی جائیں تو چہرہ نہیں، شناخت بچتی ہے۔ *مرکزی خیال* چادر صرف کپڑا نہیں۔ یہ ڈھال ہے، امانت ہے۔ جو عورت کو گرنے سے نہیں، ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ فاطمہ کی عمر پچاس تھی۔ پچاس سال سے چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ حنا نے کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ ہر صبح وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی۔ چادر سنبھالتی۔ کنارہ انگلیوں سے چھوتی۔ جیسے پرانی یاد کا دھاگہ ہو۔ حنا جدید خیالوں والی ہو گئی تھی۔ ایک دن بولی: "اماں، اب کوئی پردہ نہیں کرتا۔ یہ پرانا رواج ہے۔" فاطمہ مسکرائی۔ مسکراہٹ میں کچھ چھپا تھا۔ جیسے کہانی خود موت لکھ رہی ہو۔ صندوق سے پرانی تصویر نکالی۔ ایک نوجوان لڑکی۔ بغیر چادر کے۔ ساتھ بزرگ۔ "یہ میں ہوں۔" فاطمہ نے کہا۔ "یہ میرے والد ہیں۔" حنا چونکی۔ "تم پردہ کرتی تھی؟" فاطمہ نے تصویر الٹ دی۔ پشت پر لکھا تھا: "میری بیٹی کی پہلی اور آخری تصویر بغیر چادر کے۔" "کیوں؟" حنا نے پوچھا۔ فاطمہ نے چادر اتاری۔ حنا نے پہلی بار ماں کا چہرہ دیکھا۔ خوبصورت تھا۔ دائیں گال پر گہرا، سکڑا نشان۔ جیسے پنجہ کھنچ گیا ہو۔ "اس دن اسکول بغیر چادر گئی۔ وال...