اشاعتیں

ریڈیو پر خاموشی

تصویر
  جو آواز باہر نہیں سنائی دیتی، وہی اندر گونج بن جاتی ہے وہ ریڈیو مر چکا تھا، مگر راتوں کو سانس لیتا تھا۔ عمران اسے دیوار پر لٹکائے رکھتا تھا، جیسے ایک پرانی یاد جسے پھینکا نہیں جا سکتا۔ بیٹریاں ختم ہو چکی تھیں، تاریں خاموش تھیں، مگر بارش کی راتوں میں وہی ریڈیو بولنے لگتا تھا۔ ”تمہارے بغیر بھی دنیا چلتی رہے گی … “ یہ آواز اس کی اپنی تھی—مگر وہ یقین سے کہہ نہیں سکتا تھا کہ اس نے کبھی یہ جملہ کہا تھا۔ عمران تنہا تھا۔ آرکائیوز میں کام کرتا تھا، جہاں تاریخیں بولتی ہیں مگر لوگ نہیں۔ اس کی زندگی میں سوال کم اور خاموشی زیادہ تھی۔ پھر ریڈیو نے دوبارہ کہا : ”لیکن ہر وجود کچھ روشنی چھوڑ جاتا ہے … “ وہ چونک گیا۔ روشنی؟ وہ تو خود اندھیرے میں رہتا تھا۔ راتیں بڑھنے لگیں، اور ریڈیو ہر رات ایک بجے زندہ ہو جاتا۔ کبھی اس کی آواز، کبھی کسی اور کی، کبھی کوئی جملہ جو اس کے دل کے اندر کہیں پہلے سے موجود ہوتا۔ عمران نے کیمرہ لگا دیا۔ اب وہ خود کو دیکھ رہا تھا—اور ریڈیو کو نہیں۔ مگر آواز آتی رہی : ”ہم صرف اس لیے نہیں ہوتے کہ ہمیں یاد رکھا جائے … “ وہ رک گیا۔ ” … بلکہ اس لیے کہ ہم کس...

امانت

تصویر
  ماں کی محبت جب عدم تحفظ اور شک میں بدل جائے تو حقیقت اور وہم کے درمیان لکیر مٹ جاتی ہے، اور رشتے اپنی پہچان کھو دیتے ہیں۔ ہال قہقہوں سے بھرا ہوا تھا، تالیاں تھیں، تصویریں تھیں، روشنی تھی—مگر صدف کے اندر ایک لفظ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا: ”لے جاؤ بھئی، تمہیں چاہئیں تو … “ یہ جملہ زارا نے ہنستے ہوئے کہا تھا، مذاق میں، بے ضرر انداز میں—لیکن بعض لفظ مذاق نہیں رہتے، وہ ذہن کے اندر اپنی جڑیں اتار لیتے ہیں۔ صدف کے تین بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے تھے: عرفان، حارث اور چھوٹا احمد—زندگی کی مکمل تصویر۔ مگر اب اس تصویر کے کنارے دھندلا رہے تھے۔ جیسے کسی نے اس پر انگلی سے نمی پھیلا دی ہو۔ اس رات نیند نہیں آئی۔ دیواریں قریب محسوس ہونے لگیں، اور خاموشی میں آوازیں پیدا ہونے لگیں۔ ”لے جاؤ… “ اب صرف ایک جملہ نہیں تھا، ایک امکان تھا، ایک شک تھا، ایک زہر تھا جو آہستہ آہستہ رگوں میں اتر رہا تھا۔ صبح وہ اپنے بڑے بیٹے کو سینے سے لگائے کھڑی رہی۔ زیادہ دیر۔ بہت زیادہ۔ جیسے وہ اسے یاد نہیں، محفوظ کرنا چاہتی ہو۔ بچے نے پوچھا، مگر جواب نہ ملا۔ صدف اب سوالوں کے جواب نہیں دیتی تھی، وہ صرف چہروں کو پڑھتی تھی۔ ...

ٹوٹا ہوا شیشہ

تصویر
ٹوٹے ہوئے شیشے جھوٹ نہیں بولتے… وہ صرف چہرے دو حصوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ کمرے میں ہوا یوں چل رہی تھی جیسے کسی پرانے راز کی تہہ میں سانس رک گیا ہو۔ پرانی الماری کے شیشے پر وقت کی گرد جمی تھی، اور اس گرد میں سورج کی آخری کرنیں ایسے پھنس گئی تھیں جیسے کسی نے روشنی کو بھی قید کر لیا ہو۔ زینب نے انگلی اٹھائی اور شیشے پر ایک باریک لکیر کھینچ دی۔ وہ لکیر صرف شیشہ نہیں چیر رہی تھی… اس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش سرحد قائم کر دی تھی۔ " تم نے کبھی سوچا ہے، عمیر؟" اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، بس ایک تھکن تھی۔ "شیشہ ٹوٹنے سے پہلے کم خطرناک ہوتا ہے… اور ٹوٹنے کے بعد زیادہ سچ بولتا ہے۔ " عمیر نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر اس کے اندر کا سوال ابھی گرم تھا۔ وہ سوال جو تین مہینوں سے اس کی آنکھوں میں بند دروازے کی طرح کھڑا تھا۔ " تم نے میرا فون دیکھا تھا، نا؟ " لفظ کمرے میں گر کر ٹوٹ گئے۔ زینب نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا—ادھورا، جیسے کسی نے تصویر کے درمیان سے روشنی کاٹ دی ہو۔ " ہاں۔ " یہ جواب اتنا سادہ تھا کہ اس میں کوئی گناہ بھی...

آئینہ

تصویر
  بعض رشتے ٹوٹتے نہیں، آہستہ آہستہ اپنے اصل چہرے میں بدل جاتے ہیں۔ شام جیسے کسی بیمار چراغ کی آخری لو تھی۔ احمد نے دروازہ کھولا تو اندر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا نکلا، جیسے گھر کئی گھنٹوں سے سانس روکے بیٹھا ہو۔ دروازہ اس کے پیچھے خودبخود بند ہوا اور لکڑی کے بھاری پٹ کی آواز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کہیں اتر گئی۔ ” احمد… اِدھر آؤ۔ “ زینب کی آواز اندر سے آئی۔ آواز وہی تھی، مگر اس میں وہ مانوس حرارت نہیں تھی جو برسوں سے اس گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ یہ آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے نکل کر آئی ہو۔ اس نے جوتے اتارے۔ ایک جوتا الٹا پڑا تھا۔ دوسرا دروازے سے دور۔ سلیپر کہیں نظر نہ آئے۔ وہ ننگے پاؤں سنگِ مرمر پر چلا تو فرش کی ٹھنڈک اس کے جسم میں چپک گئی۔ ڈرائنگ روم نیم تاریک تھا۔ صرف کھڑکی کے پاس رکھی زرد لیمپ کی روشنی جل رہی تھی۔ زینب صوفے پر بیٹھی تھی، پشت کھڑکی کی طرف۔ باہر اندھیرا تھا، ایسا اندھیرا جس میں شہر کی روشنیاں بھی ڈوب جاتی ہیں۔ ” کہاں تھیں تم آج؟ فون بھی نہیں اُٹھایا۔ “ احمد نے معمول کی نرمی پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اپنی ہی آواز اسے اجنبی لگی۔ زینب نے آہستہ س...