ریڈیو پر خاموشی
جو آواز باہر نہیں سنائی دیتی، وہی اندر گونج بن جاتی ہے وہ ریڈیو مر چکا تھا، مگر راتوں کو سانس لیتا تھا۔ عمران اسے دیوار پر لٹکائے رکھتا تھا، جیسے ایک پرانی یاد جسے پھینکا نہیں جا سکتا۔ بیٹریاں ختم ہو چکی تھیں، تاریں خاموش تھیں، مگر بارش کی راتوں میں وہی ریڈیو بولنے لگتا تھا۔ ”تمہارے بغیر بھی دنیا چلتی رہے گی … “ یہ آواز اس کی اپنی تھی—مگر وہ یقین سے کہہ نہیں سکتا تھا کہ اس نے کبھی یہ جملہ کہا تھا۔ عمران تنہا تھا۔ آرکائیوز میں کام کرتا تھا، جہاں تاریخیں بولتی ہیں مگر لوگ نہیں۔ اس کی زندگی میں سوال کم اور خاموشی زیادہ تھی۔ پھر ریڈیو نے دوبارہ کہا : ”لیکن ہر وجود کچھ روشنی چھوڑ جاتا ہے … “ وہ چونک گیا۔ روشنی؟ وہ تو خود اندھیرے میں رہتا تھا۔ راتیں بڑھنے لگیں، اور ریڈیو ہر رات ایک بجے زندہ ہو جاتا۔ کبھی اس کی آواز، کبھی کسی اور کی، کبھی کوئی جملہ جو اس کے دل کے اندر کہیں پہلے سے موجود ہوتا۔ عمران نے کیمرہ لگا دیا۔ اب وہ خود کو دیکھ رہا تھا—اور ریڈیو کو نہیں۔ مگر آواز آتی رہی : ”ہم صرف اس لیے نہیں ہوتے کہ ہمیں یاد رکھا جائے … “ وہ رک گیا۔ ” … بلکہ اس لیے کہ ہم کس...