نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

آخری چائے Aakhri Chaye

یہ افسانہ یہ سبق دیتا ہے کہ وقت پر رشتوں کو اہمیت نہ دی جائے اور احساسات کو دبا دیا جائے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان ساتھ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو کھو دیتے ہیں، اور پیچھے صرف اداسی اور پھیکی (یا کم چینی والی) چائے کی طرح بے ذائقہ یادیں رہ جاتی ہیں۔ شام کے چھ بج رہے تھے جب چھت پر پھیلی ہوئی چادر کی سلوٹوں سے دھوپ سرک کر صحن میں اتری اور پھولوں کی کیاری کے پاس دم توڑ گئی۔ وہ دونوں برآمدے میں رکھی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، بیچ میں رکھی ہوئی چائے کی پیالی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ ’’چائے پی لو، ٹھنڈی ہوئی جا رہی ہے۔‘‘ عائشہ نے کہا، مگر اس کی نظریں سامنے کمرے کے بند دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ دروازے پر لٹکا ہوا پردہ ہوا کے ایک جھونکے سے ذرا سا ہلا اور پھر ساکن ہو گیا۔ شہزاد نے چپ چاپ پیالی اٹھائی اور ایک گھونٹ بھرا۔ چائے میں چینی کم تھی، بالکل ویسے جیسے وہ پچھلے سترہ سالوں سے پیتا آیا تھا، مگر آج حلق سے نیچے اترتے ہوئے اس کا ذائقہ کچھ اور تھا۔ جیسے کوئی پرانی تصویر دھندلا گئی ہو اور آنکھیں ملنے کے بعد بھی صاف نہ ہو رہی ہو۔ ’’میں نے صوفہ درزی کو دے دیا ہے،‘‘ عائشہ نے بغیر اس کی...
حالیہ پوسٹس

Aaine ke us paar آئینے کے اُس پار

نسان جب اندر سے ٹوٹا ہو تو دنیا اسے مسخ نظر آتی ہے۔ شیشہ صاف ہوتے ہی شہر، رشتے اور خود اپنی شکل واپس مل جاتی ہے۔ہے۔ مرکزی خیال: دنیا کو بدلنے کی بجائے اپنے ادراک کی تبدیلی حقیقی سکون کا ذریعہ ہے — آئینہ فریب نہیں دیتا، آنکھیں دیتی ہیں۔ بارش تھم چکی تھی۔ مچھر ابھی باقی تھے۔ اسامہ نے کھڑکی بند کی تو چوکھٹ سے پلستر کا ٹکڑا ٹوٹ کر چٹخ گیا۔ اس نے گالی دی۔ گھر کو۔ مستری کو۔ اس موسم کو جو دیواروں سے پانی ٹپکاتا ہے۔ بیوی نے کہا، "چائے پی لو۔" "کون سی چائے؟ باسکٹ والی ختم ہو گئی، تمہیں خبر بھی نہیں۔" وہ باہر نکل گیا۔ گلی کی نکاسی بند تھی۔ کیچڑ سا جم گیا تھا۔ ایک بلی سوکھے ڈبے کو سونگھ رہی تھی۔ اسامہ نے ٹھوکر ماری۔ بلی بھاگی۔ پھر مڑ کر دیکھا۔ جیسے پوچھ رہی ہو، ملا کیا؟ نثار کی دوکان پر بیٹھ کر بولا، "یہ شہر اب بسنے لائق نہیں رہا۔ لوگ، جانور، ہوا۔ سب سڑے ہوئے۔" نثار خاموش رہا۔ گرم پکوڑے آگے رکھ دیے۔ اسامہ نے پکوڑا توڑا۔ اندر سے کچی ہلدی سی بہی۔ پلیٹ سرکا دی۔ "دیکھا؟ اندر سے گلے ہوئے۔" نثار نے اپنا پکوڑا کھایا۔ مسکرایا۔ کچھ نہ بولا۔ واپسی پر پرانی عمارت کے ش...

Saans Ka Qarz سانس کا قرض

کیا ہم واقعی اپنے وجود کے مالک ہیں یا صرف ایک قرض اتار رہے ہیں؟ مرکزی خیال : انسان کی اپنی ذات کے بنیادی نظام (سانس، دھڑکن) پر عدمم اختیار، اور اسی بے بسی کے احساس سے جنم لینے والی وہ غلط فہمی کہ وہ دوسروں کو اپنی خوشی کا مرکز بنا سکتا ہے۔ آخر میں شکر اور قناعت ہی حقیقی سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔ وہ بستر پر لیٹا تھا۔ چھت پر چھپکلی جمی تھی۔ آنکھیں بند۔ اسے لگا وہ بھی جم گیا ہے۔ سوائے سینے کے۔ وہاں دل تھا۔ دھڑک۔ دھڑک۔ دھڑک۔ انگلیاں سینے پر رکھیں۔ گننے لگا۔ ایک، دو، تین۔ پچاس پر ہاتھ اٹھا لیا۔ پھر رکھ دیا۔ نل بند کرنا چاہتا تھا۔ دل نوکر نہ تھا۔ بیوی نے آواز دی، "کھانا کھاؤ گے؟" جواب نہیں دیا۔ سوچ رہا تھا۔ اگر دھڑکن روک لوں تو کسی کی ضرورت نہ رہے۔ نہ بیوی کی۔ نہ بیٹے کی۔ جو پردیس میں تھا۔ فون کبھی نہیں کرتا تھا۔ بیوی پلیٹ لے کر آئی۔ اس نے منہ پھیر لیا۔ پلیٹ رکھی گئی۔ "اتنی دیر سے کیا سوچ رہے ہو؟" بیوی نے پوچھا۔ "سانس میرے بس میں نہیں۔ تو تم کون ہوتی ہو میرے بس میں؟" بیوی چپ ہو گئی۔ باہر چلی گئی۔ رات کو نیند ٹوٹی۔ سینے میں درد تھا۔ بیوی سو رہی تھی۔ ہاتھ بڑھایا۔ جگا...

Sang-e-Tarasah سنگِ تراش

مرکزی خیال :  انسان عزتِ نفس کے بل بوتے پر دوسروں کے زخموں (پتھروں) کو اپنی تعمیر کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ سب سے بڑی فتح خاموشی سے اپنی قدر منوانا ہے۔ گلی کے کونے پر وہ ہمیشہ تنہا بیٹھتا تھا۔ پاؤں پھٹے۔ قمیض بے آستین۔ آنکھیں گہری جھیلیں۔ کبھی ہلچل نہ تھی۔ بچے کہتے، "بوڑھا دیوانہ۔" پتھر اٹھاتے۔ گول، ہاتھ میں آنے والے۔ پہلا پتھر کندھے پر لگا۔ بوڑھے نے آنکھ نہ کھولی۔ دوسرا سینے پر گرا۔ اٹھایا۔ پلٹ کر دیکھا۔ بچے بکھر گئے۔ پتھر قمیض کے دامن میں رکھ لیا۔ تین سال گزر گئے۔ پتھر آتے رہے۔ بازو پر۔ پیٹھ پر۔ پیشانی کی ہڈی پر۔ بوڑھا نہ چلایا۔ نہ رویا۔ دامن بڑھاتا۔ پتھر سمیٹتا۔ غروب سے پہلے غائب ہو جاتا۔ لوگ کہتے، "پتھر جمع کرتا ہے۔" کچھ ہنستے۔ کچھ راستہ بدل لیتے۔ ساتویں سال دامن بھاری ہو گیا۔ چلتے ہوئے لڑکھڑاتا۔ شام کو جھونپڑی جاتے ہوئے زمین پر نشان بن جاتے۔ بارہویں سال لوگوں نے دیکھا۔ اب پتھر نہیں اٹھاتا۔ بچے پھینکتے، وہ مسکراتا رہتا۔ ایک دن چند لوگ پیچھے ہو لیے۔ جھونپڑی کے اندر پتھر گم تھے۔ ان کی جگہ تین فٹ کی منار تھی۔ ہاتھوں کی رگڑ سے چمکتی ہوئی۔ کوئی اوزار نہیں۔ کوئی گارا نہیں...

آخری چٹکی Aakhri Chutki

بعض چٹکیاں نمک کی نہیں، عمر کی ہوتی ہیں۔ :مرکزی خیال   انتظار جب حد سے گزر جائے تو محبت بھی چولھے پر سوکھ جاتی ہے۔ ماں کا "کوئی بات نہیں" دراصل آخری چٹکی ہے جو وہ اپنی عمر پر ڈالتی ہے۔ شام ڈھل رہی تھی۔ اماں جی نے آنگن میں پرندوں کو دانہ ڈالا۔ ہاتھ کانپے۔ دانے مٹی میں بکھر گئے۔ ایک فاختہ اڑی۔ چھت پر بیٹھ گئی۔ فون بجا۔ "جی بیٹا؟" "اماں، آج نہیں آ سکوں گا۔ میٹنگ ہے۔" "کوئی بات نہیں۔" "کل ضرور آؤں گا۔" "کل کا کیا بھروسہ؟" فون کٹ گیا۔ اماں جی نے فون گود میں رکھا۔ ڈسپلے کی نیلی روشنی چہرے پر پڑی۔ ریڈ ڈائل دبایا۔ چار بار بجی۔ بند ہو گئی۔ رات کو سوئی نہیں۔ الماری کھولی۔ شادی کا جوڑا نکالا۔ بیٹے کے پہلے جوتے۔ شوہر کی آخری قمیض۔ نیچے ڈائری تھی۔ صفحہ چھبیس پر خشک پھول گرا۔ جس دن بیٹے نے پہلا "اماں" کہا تھا۔ صبح چائے نہیں بنی۔ نہانے نہیں گئیں۔ کرسی پر بیٹھیں۔ دیوار دیکھی۔ تصویر نہیں تھی۔ پلاسٹر چھل رہا تھا۔ دوپہر کو اٹھیں۔ چادر اوڑھی۔ تالے کی چابی لی۔ باہر نکل گئیں۔ پڑوسن بولی، "عصمت جی، کہاں؟" جواب نہیں دیا۔ شہر تک پہ...

آئینۂ اغیار کی نیند Aaina-e-aghyaar ki neend

  جو شیشہ دوسروں کی خوشی دکھائے، وہ آخر میں آدمی کا اپنا چہرہ نگل لیتا ہے۔ مرکزی خیال : انسانی حسد جب شعور اور طاقت میں بدل جائے تو وہ صرف دوسروں کی خوشیوں کو نہیں بلکہ خود انسان کے اندر کے توازن کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ اصل آزمائش خواہش کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنا ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے نانا کی بات کو ایک سادہ سی اخلاقی نصیحت سمجھا تھا—کہ آدمی اپنی خواہشات کی بھوک کو اتنا سلیقے سے پالے کہ وہ دوسروں کی مسکراہٹوں تک نہ پہنچے۔ وہ درویش تھے، الفاظ کم بولتے تھے مگر ان کی خاموشی میں بھی ایک درس ہوتا تھا۔ مگر آج جب یہ سیاہ لفافہ اور اس کے اندر رکھا ہوا عجیب سا گول شیشہ میرے ہاتھ میں ہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ نصیحت نہیں تھی، ایک پیشگی وارننگ تھی… جو میں نے وقت پر نہ پڑھی۔ لفافہ ایک عام دن آیا تھا۔ نہ بھیجنے والے کا نام، نہ پتے کا سراغ۔ بس میرے نام کی سادہ سی تحریر۔ اندر کاغذ نہیں تھا، صرف ایک چھوٹا سا شیشہ—گول، مدھم، جیسے کسی پرانی چیز کی آنکھ ہو جو اب بھی دیکھ رہی ہو۔ اسے ہاتھ میں لیتے ہی میری انگلیوں میں ایک سرد سی لرزش اتر گئی تھی، جیسے شیشہ میرے لمس کو پہچانتا ہو۔ ...

پانی Paani

بعض گھونٹ پیاس بجھانے کے لیے نہیں، محبت ثابت کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔   مرکزی خیال: وہ خاموش قربانی جو کبھی الفاظ نہیں مانگتی — ماں کا بھوکے رہ کر بچے کو کھلانا، بیٹے کا پیاسے رہ کر ماں کو پانی دینا۔ ایک دوسرے کی پیاس اپنی موت سے پہلے بجھانا۔ شام کا جھلسا دینے والا سورج ڈھل چکا تھا۔ گلیاں اب بھی گرم تھیں۔ رضیہ نے برتن میں آخری گھونٹ پانی ڈال کر دیکھا۔ پھر برتن الٹ دیا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ "کون؟" آواز خشک تھی۔ "اماں، میں ہوں۔" رضیہ نے دوپٹے کے پلو میں ہاتھ چھپا لیے۔ سوکھے، کھردرے، جھریوں سے بھرے۔ دروازہ کھولا۔ بیٹے کے ہاتھ میں پلاسٹک کی بوتل تھی۔ قطرے شیشے پر جمے تھے۔ "لے، امّاں۔" رضیہ نے بوتل دیکھی۔ پھر بیٹے کا چہرہ۔ آنکھوں کے نیچے حلقے تھے۔ قمیض کی کہنی پر مٹی کے دھبے۔ وہ شہر کی دوسری طرف تعمیراتی جگہ سے آیا تھا۔ "تو نے پیا؟" بیٹے نے کندھا اچکایا۔ "کام پر پانی تھا۔" رضیہ نے ڈھکن کھولا۔ ہونٹ لگائے۔ پانی گرم تھا۔ ایک گھونٹ لیا۔ دو لیا۔ ڈھکن بند کر کے بوتل بیٹے کی طرف بڑھا دی۔ "تو پی لے۔" "پیاس نہیں، امّاں۔" رضیہ نے بوتل...