ٹوٹا ہوا شیشہ
ٹوٹا ہوا شیشہ مصنف: عبدالرزاق تاثراتی جملہ / Tagline: ٹوٹے ہوئے شیشے جھوٹ نہیں بولتے… وہ صرف چہرے دو حصوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ افسانہ : کمرے میں ہوا یوں چل رہی تھی جیسے کسی پرانے راز کی تہہ میں سانس رک گیا ہو۔ پرانی الماری کے شیشے پر وقت کی گرد جمی تھی، اور اس گرد میں سورج کی آخری کرنیں ایسے پھنس گئی تھیں جیسے کسی نے روشنی کو بھی قید کر لیا ہو۔ زینب نے انگلی اٹھائی اور شیشے پر ایک باریک لکیر کھینچ دی۔ وہ لکیر صرف شیشہ نہیں چیر رہی تھی… اس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش سرحد قائم کر دی تھی۔ " تم نے کبھی سوچا ہے، عمیر؟" اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، بس ایک تھکن تھی۔ "شیشہ ٹوٹنے سے پہلے کم خطرناک ہوتا ہے… اور ٹوٹنے کے بعد زیادہ سچ بولتا ہے۔ " عمیر نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر اس کے اندر کا سوال ابھی گرم تھا۔ وہ سوال جو تین مہینوں سے اس کی آنکھوں میں بند دروازے کی طرح کھڑا تھا۔ " تم نے میرا فون دیکھا تھا، نا؟ " لفظ کمرے میں گر کر ٹوٹ گئے۔ زینب نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا—ادھورا، جیسے کسی نے تصویر کے درمیان سے روشنی کاٹ دی ...