اَنگُوٹھے کا نِشان
سردیوں کی دُھند ابھی پوری طرح زمین پر نہیں اُتری تھی، مگر سیالکوٹ کی گلیاں پہلے ہی دھوئیں، گرد اور تھکن سے اَٹی پڑی تھیں۔ تھانے کے صحن میں کھڑی سفید وین کے نیچے تیل کی باریک لکیر رینگ رہی تھی، جیسے کوئی زخمی جانور پوری رات کراہتا رہا ہو۔ عابدہ حسبِ عادت دروازے سے لٹکی ہوئی تھی۔ ” راحت، اگر یہ کھٹارا آج بھی راستے میں بند ہوا نا، تو قسم سے اِسے دفنا کر فاتحہ پڑھوں گی۔ “ راحت نے سگریٹ دانتوں میں دبایا، آئینے میں اُسے دیکھا اور بےدِلی سے بولا: ” وین نہیں مرتی، عابدہ… آدمی گھِس جاتا ہے۔ “ پیچھے بیٹھی اِنْسپکٹر ترسیل فاطمہ — جِنہیں سب “آپا” کہتے تھے — ایک بوسیدہ فائل کے کنارے سیدھے کر رہی تھیں۔ اُن کے ناخنوں میں نیلی سیاہی جمی ہوئی تھی۔ یاسمین نے ہنستے ہوئے کہا: ” آپا فائل ایسے پکڑتی ہیں جیسے مُصحف ہو۔ “ آپا نے سر نہیں اُٹھایا۔ ” کاغذ بعض اوقات قرآن سے زیادہ خون مانگتے ہیں۔ “ ایک لمحے کو وین کے اندر ایسی خاموشی اُتری جیسے کسی نے سب کے حلق میں مٹی بھر دی ہو۔ باہر دھند میں بجلی کے کھمبے پیچھے بھاگ رہے تھے، جیسے اندھیرے کے لمبے نیزے زمین میں گاڑے جا رہے ہوں۔ نورکوٹ پہنچتے پہنچ...