عبدالرزاق واحدی

عبدالرزاق واحدی اردو افسانہ نگار اور ادبی لکھاری ہیں۔ یہ بلاگ افسانوں، تنقیدی مضامین اور عالمی ادب کے مطالعے کے لیے وقف ہے۔

جمعرات، 4 جون، 2026

امانت

 

امانت
مصنف: عبدالرزاق

ہال قہقہوں سے بھرا ہوا تھا، تالیاں تھیں، تصویریں تھیں، روشنی تھی—مگر صدف کے اندر ایک لفظ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا: ”لے جاؤ بھئی، تمہیں چاہئیں تو… “

یہ جملہ زارا نے ہنستے ہوئے کہا تھا، مذاق میں، بے ضرر انداز میں—لیکن بعض لفظ مذاق نہیں رہتے، وہ ذہن کے اندر اپنی جڑیں اتار لیتے ہیں۔ صدف کے تین بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے تھے: عرفان، حارث اور چھوٹا احمد—زندگی کی مکمل تصویر۔ مگر اب اس تصویر کے کنارے دھندلا رہے تھے۔ جیسے کسی نے اس پر انگلی سے نمی پھیلا دی ہو۔

اس رات نیند نہیں آئی۔ دیواریں قریب محسوس ہونے لگیں، اور خاموشی میں آوازیں پیدا ہونے لگیں۔ ”لے جاؤ… اب صرف ایک جملہ نہیں تھا، ایک امکان تھا، ایک شک تھا، ایک زہر تھا جو آہستہ آہستہ رگوں میں اتر رہا تھا۔

صبح وہ اپنے بڑے بیٹے کو سینے سے لگائے کھڑی رہی۔ زیادہ دیر۔ بہت زیادہ۔ جیسے وہ اسے یاد نہیں، محفوظ کرنا چاہتی ہو۔ بچے نے پوچھا، مگر جواب نہ ملا۔ صدف اب سوالوں کے جواب نہیں دیتی تھی، وہ صرف چہروں کو پڑھتی تھی۔

دن بدلنے لگے، مگر صدف ایک ہی جگہ ٹھہری رہی۔ ہر عورت اب ایک امکان تھی، ہر نظر ایک ارادہ، ہر لمس ایک سازش۔ زارا جب بھی آتی، اس کا گھر خوشبو سے نہیں، خطرے سے بھر جاتا۔

” حارث بالکل میرے گاؤں کے ایک بچے جیسا ہے… زارا نے ایک دن ہنستے ہوئے کہا۔

اور صدف کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
مشابہت؟ یا اشارہ؟

اب وہ البم کھولتی، تصویریں دیکھتی، تاریخیں ملاتی، چہرے جوڑتی۔ ماں اب ماں نہیں رہی تھی—وہ ایک تفتیش کار بن گئی تھی۔ رات کو وہ اپنے بچوں کو دیر تک دیکھتی، جیسے وہ بچے نہیں، سوال ہوں جن کے جواب چھپے ہوئے ہوں۔

ایک دن بخار نے عرفان کو آ لیا۔ اسپتال کا راستہ زارا کی گاڑی نے بنایا۔ راستے میں زارا نے کہا:”فکر نہ کرو، یہ میرے بھی بچے ہیں… “

یہ جملہ صدف کے اندر گونج بنا، ایک ایسی گونج جو خاموش نہیں ہوتی۔

”میرے بھی بچے ہیں… “

یہ ”بھی کہاں سے آیا تھا؟

اب شک مکمل ہو چکا تھا۔ شوہر ہنستے تھے، مگر وہ ہنسی اب ثبوت لگتی تھی۔ دنیا اسے پاگل نہیں، نظر انداز کر رہی تھی—اور صدف کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی بات تھی۔

پھر وہ فائل ملی۔
میٹرنٹی ریکارڈ۔
اور ایک نام کے نیچے لکھا تھا: ”زارا ک۔ حوالہ

بس۔
یہ لفظ نہیں تھا، فیصلہ تھا۔

رات کو اس نے نمبر ملایا۔ آواز آئی: ”ہیلو؟

صدف نے کہا   :  ”کل تم آؤ گی۔ ہمیں بات کرنی ہے… میرے بیٹوں کے بارے میں۔

خاموشی آئی۔ لمبی، بھاری۔

پھر زارا بولی: ”ٹھیک ہے۔

فون بند ہوا۔

اس رات صدف نے پہلی بار اپنے بیٹوں کو اس طرح دیکھا جیسے وہ اس کے ہیں… یا شاید نہیں ہیں۔ اور پہلی بار اسے یقین نہیں تھا کہ سب سے بڑا خطرہ باہر ہے یا اس کے اندر۔

راہداری میں روشنی نہیں تھی۔ صرف ایک سوال تھا جو سانس لے رہا تھا:
اگر محبت شک بن جائے تو ماں کس کی رہ جاتی ہے؟

-----------------------

مرکزی خیال:
ماں کی محبت جب عدم تحفظ اور شک میں بدل جائے تو حقیقت اور وہم کے درمیان لکیر مٹ جاتی ہے، اور رشتے اپنی پہچان کھو دیتے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معنی:
امانت: حفاظت میں دی گئی چیز
تفتیش: جانچ پڑتال
گونج: بار بار سنائی دینے والی آواز
ثبوت: دلیل یا نشانی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بدھ، 3 جون، 2026

ٹوٹا ہوا شیشہ

  ٹوٹا ہوا شیشہ

مصنف: عبدالرزاق
تاثراتی جملہ / Tagline:
ٹوٹے ہوئے شیشے جھوٹ نہیں بولتے… وہ صرف چہرے دو حصوں میں بانٹ دیتے ہیں۔

افسانہ:
کمرے میں ہوا یوں چل رہی تھی جیسے کسی پرانے راز کی تہہ میں سانس رک گیا ہو۔ پرانی الماری کے شیشے پر وقت کی گرد جمی تھی، اور اس گرد میں سورج کی آخری کرنیں ایسے پھنس گئی تھیں جیسے کسی نے روشنی کو بھی قید کر لیا ہو۔ زینب نے انگلی اٹھائی اور شیشے پر ایک باریک لکیر کھینچ دی۔ وہ لکیر صرف شیشہ نہیں چیر رہی تھی… اس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش سرحد قائم کر دی تھی۔

"تم نے کبھی سوچا ہے، عمیر؟" اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، بس ایک تھکن تھی۔ "شیشہ ٹوٹنے سے پہلے کم خطرناک ہوتا ہے… اور ٹوٹنے کے بعد زیادہ سچ بولتا ہے۔"

عمیر نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر اس کے اندر کا سوال ابھی گرم تھا۔ وہ سوال جو تین مہینوں سے اس کی آنکھوں میں بند دروازے کی طرح کھڑا تھا۔

"تم نے میرا فون دیکھا تھا، نا؟"

لفظ کمرے میں گر کر ٹوٹ گئے۔ زینب نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا—ادھورا، جیسے کسی نے تصویر کے درمیان سے روشنی کاٹ دی ہو۔

"ہاں۔"

یہ جواب اتنا سادہ تھا کہ اس میں کوئی گناہ بھی پورا نہیں لگ رہا تھا۔

"کیوں؟" عمیر کی آواز بھاری ہو گئی۔

"کیونکہ رشتے اعتماد سے نہیں، چھپانے سے ٹوٹتے ہیں۔ اور تم نے چھپانا شروع کر دیا تھا۔"

دو ہفتے پہلے کی راتیں زینب کے اندر ابھی تک جاگ رہی تھیں۔ اس نے وہ پیغام دیکھا تھا—"کل ملاقات ضروری ہے"—اور اس کے بعد اس کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر آئی تھی جو چیخ سے زیادہ خطرناک تھی۔ پھر فون، پاسورڈ، میسجز، تصویریں… سب کچھ ایک ایسے شبہے میں بدل گیا تھا جس کا کوئی چہرہ نہیں تھا۔

اور پھر وہ تصویر آئی تھی۔ کافی شاپ میں عمیر اور سارہ۔ ہنسی ان کے درمیان بیٹھ گئی تھی، اور زینب کے اندر کوئی چیز پہلی بار خاموشی سے ٹوٹ گئی تھی۔

"تم سمجھتی ہو میں تم سے تمہارے والد کی وجہ سے جڑا ہوں؟" عمیر کی آواز میں اب تلخی تھی۔

"اور تم سمجھتے ہو میں نے تمہیں تمہارے پروجیکٹ کی وجہ سے چُنا؟" زینب نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ "ہم دونوں نے ایک دوسرے کو استعمال کیا تھا، عمیر… بس نام محبت رکھ دیا تھا۔"

کمرہ جیسے سانس روک کر سن رہا تھا۔

پھر وہ جملہ آیا جس نے ہوا کا وزن بدل دیا۔

"تمہیں معلوم ہے سارہ کون ہے؟"

عمیر کے ہاتھ میں کپ کانپ گیا۔

"کیسے…؟"

"میں نے صرف تمہارا فون نہیں دیکھا… تمہاری زندگی کے وہ حصے بھی دیکھے جو تم نے خود سے چھپا رکھے تھے۔ وہ تمہاری stepsister ہے، ہے نا؟"

یہ نام جیسے ماضی کے بند کمرے سے ٹکرا کر لوٹ آیا۔ عمیر کی آنکھوں میں وہی پرانی شکست کھڑی ہو گئی جو برسوں پہلے اس کے خاندان سے جدا ہونے کے بعد اس نے دیکھی تھی۔

خاموشی اس بار زیادہ گہری تھی۔

"میں اسے مدد کر رہا تھا… بس اتنا ہی تھا۔" عمیر کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "اس کا شوہر…"

"اور میں نے اسے شک بنا لیا،" زینب نے جملہ مکمل کیا۔ "کیونکہ میں نے محبت کو ہمیشہ شک کی زبان میں سنا ہے۔"

رات نے کمرے میں اپنی سیاہی پھیلائی تو دونوں خاموش تھے۔ صرف الماری کا شیشہ تھا جس پر لکیر اب دراڑ بن چکی تھی۔

زینب نے آہستہ سے کہا، "بچپن میں ایک گلدان توڑا تھا… اور ٹکڑے چھپا دیے تھے۔ امی نے کہا تھا: اصل خطرہ ٹوٹنے میں نہیں، چھپانے میں ہوتا ہے۔"

عمیر نے آنکھیں بند کر لیں۔ "ہم نے بھی یہی کیا۔"

صبح وہ سویا ہوا تھا، اور زینب اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں، اعتراف تھا۔

شیشے کی دراڑ اب پھیل چکی تھی۔ زینب نے انگلی رکھی تو اسے محسوس ہوا کہ یہ صرف شیشہ نہیں… ان کے درمیان جمی ہوئی ہر جھوٹ کی لکیر ہے۔

"ہم اسے بدل دیں گے،" عمیر نے جاگتے ہوئے کہا۔

"نہیں،" زینب نے آہستہ سے جواب دیا۔ "ہم اسے دیکھیں گے… تاکہ ہم بھول نہ جائیں کہ ہم کیا تھے۔"

کافی شاپ میں سارہ ان کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی الزام نہیں تھا، صرف تھکن تھی—جیسے وہ بھی کسی اور کہانی کی ٹوٹی ہوئی سطر ہو۔

"رشتے شیشے کی طرح ہوتے ہیں،" سارہ نے کہا۔ "صاف ہوں تو روشنی دیتے ہیں، اور ٹوٹ جائیں تو سچ دکھاتے ہیں۔"

زینب نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید مسئلہ ٹوٹنے میں نہیں… دیکھنے میں تھا۔

شام کو جب وہ واپس آئے تو الماری کا شیشہ اتار دیا گیا تھا۔ اس کی جگہ صرف خلا تھا۔

"ہم نیا شیشہ لیں گے،" عمیر نے کہا۔

زینب نے باہر دیکھا۔ چاند بغیر کسی رکاوٹ کے اندر آ رہا تھا۔

"ہاں،" وہ بولی۔ "لیکن اس بار ہم اس میں خود کو نہیں چھپائیں گے… صرف دیکھیں گے۔"

اور پہلی بار کمرے میں ہوا نے کوئی فیصلہ نہیں کیا… بس بہتی رہی۔

-------------------

 

مرکزی خیال:
رشتے ٹوٹنے سے زیادہ چھپانے سے زخمی ہوتے ہیں، اور سچ سامنے آنے کے بعد ہی ان کی اصل شکل واضح ہوتی ہے۔ ٹوٹ پھوٹ بھی اگر تسلیم کر لی جائے تو وہ تباہی نہیں رہتی بلکہ ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی:
دراڑ: شے میں پڑنے والی باریک لکیر جو ٹوٹنے کی ابتدا ہو
اعتراف: کسی سچ کو تسلیم کرنا
تہہ: گہرائی یا اندرونی سطح
سرحد: حد یا لکیر جو دو چیزوں کو جدا کرے
بصیرت: دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

منگل، 2 جون، 2026

آئینہ

 

 آئینہ
مصنف: عبدالرزاق


شام جیسے کسی بیمار چراغ کی آخری لو تھی۔ احمد نے دروازہ کھولا تو اندر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا نکلا، جیسے گھر کئی گھنٹوں سے سانس روکے بیٹھا ہو۔ دروازہ اس کے پیچھے خودبخود بند ہوا اور لکڑی کے بھاری پٹ کی آواز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کہیں اتر گئی۔

احمد… اِدھر آؤ۔

زینب کی آواز اندر سے آئی۔ آواز وہی تھی، مگر اس میں وہ مانوس حرارت نہیں تھی جو برسوں سے اس گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ یہ آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے نکل کر آئی ہو۔

اس نے جوتے اتارے۔ ایک جوتا الٹا پڑا تھا۔ دوسرا دروازے سے دور۔ سلیپر کہیں نظر نہ آئے۔ وہ ننگے پاؤں سنگِ مرمر پر چلا تو فرش کی ٹھنڈک اس کے جسم میں چپک گئی۔

ڈرائنگ روم نیم تاریک تھا۔ صرف کھڑکی کے پاس رکھی زرد لیمپ کی روشنی جل رہی تھی۔ زینب صوفے پر بیٹھی تھی، پشت کھڑکی کی طرف۔ باہر اندھیرا تھا، ایسا اندھیرا جس میں شہر کی روشنیاں بھی ڈوب جاتی ہیں۔

کہاں تھیں تم آج؟ فون بھی نہیں اُٹھایا۔

احمد نے معمول کی نرمی پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اپنی ہی آواز اسے اجنبی لگی۔

زینب نے آہستہ سے گردن موڑی۔ روشنی اس کے چہرے پر ترچھی گری۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ایسے تھے جیسے کئی راتوں سے نیند اس کے قریب نہ آئی ہو۔

تمہیں یاد ہے، احمد… ہم پہلی بار کب ملے تھے؟

وہ چونکا۔ ہاں… یونیورسٹی لائبریری میں۔ تمہارے ہاتھ سے کتابیں گر گئی تھیں۔

اور تم نے اُٹھا کر دی تھیں۔

ہاں…“

کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر وہ دھیرے سے بولی، تم نے اُس دن کہا تھا، میں خوبصورت ہوں۔

احمد کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر فوراً بجھ گئی۔ تم تھیں بھی۔

نہیں۔ اس نے بہت آہستہ کہا۔ میں آسان تھی۔

احمد نے اس کی طرف دیکھا۔

تم نے کہا تھا، ‘تم سے بات کرنا آسان ہے۔ تمہارے سامنے انسان اپنا بوجھ رکھ سکتا ہے۔’ یہی میری خوبصورتی تھی نا؟

کھڑکی کے باہر ہوا نے شیشے کو ہلکا سا ہلایا۔ احمد کے حلق میں خشکی اترنے لگی۔

زینب…“

آج میں نے تمہارے کمپیوٹر کی ہسٹری دیکھی۔

یہ جملہ کمرے میں نہیں گرا، سیدھا احمد کے اندر کہیں گرا تھا۔

اس کے ذہن میں ایک دم کئی اسکرینیں روشن ہوئیں۔ پوشیدہ فولڈرز۔ نام بدل کر محفوظ کی گئی فائلیں۔ رات گئے کی ای میلز۔ وہ عورت… وہ جھوٹ… وہ تمام چھوٹی چھوٹی احتیاطیں جن پر اسے فخر تھا۔

اس نے بولنے کی کوشش کی۔ میں سمجھا سکتا ہوں—“

جھوٹ ہمیشہ سمجھایا جا سکتا ہے، احمد۔

زینب اٹھ کھڑی ہوئی۔

وہ اس کی طرف بڑھی، مگر اس کے قدموں کی کوئی آواز نہیں آئی۔ جیسے فرش نے اس کے وزن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔

تم جانتے ہو… اس نے قریب آکر کہا، آسان لوگ سب سے زیادہ خطرناک تنہائی جیتے ہیں۔

احمد نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔

وہ آنکھیں… وہ وہی نہیں تھیں۔

ان میں ایک عجیب پرانی تھی۔ جیسے کسی نے برسوں تک خاموش رہ کر اندر ہی اندر عمر گزار دی ہو۔ جیسے ہر معافی نے ان کی چمک تھوڑی تھوڑی کھا لی ہو۔

تم… ٹھیک تو ہو؟

زینب ہلکا سا مسکرائی۔

وہ مسکراہٹ نہیں تھی۔ زخم پر پڑی باریک دراڑ تھی۔

تم نے کبھی سوچا… جو عورت ہر بار تمہیں معاف کر دیتی ہے، وہ اپنی تکلیف کہاں رکھتی ہوگی؟

احمد نے نظریں چرا لیں۔

تم دیر سے گھر آتے رہے۔ میں نے پوچھا نہیں۔ تم فون چھپاتے رہے۔ میں نے دیکھا نہیں۔ تم خاموش ہوتے گئے، اور میں نے تمہاری خاموشی کو بھی محبت سمجھ لیا۔

وہ ایک لمحہ رکی۔

مگر انسان جب بہت دیر تک کسی اور کا بوجھ اٹھاتا ہے نا… تو آہستہ آہستہ اُس کا اپنا چہرہ بدلنے لگتا ہے۔

کمرے کی ہوا مزید سرد ہوگئی۔

احمد نے بےاختیار پیچھے ہٹنا چاہا، مگر اسے محسوس ہوا جیسے اس کے پاؤں فرش میں دھنس گئے ہوں۔

زینب نے اپنی بند مٹھی کھولی۔

اس کی ہتھیلی پر ایک پرانی پاکٹ واچ رکھی تھی۔

احمد کا سانس رک گیا۔

وہی گھڑی۔

وہی، جو ایک سال پہلے گم ہوئی تھی۔ اُس رات… جب اس نے پہلی بار اپنی شادی سے باہر قدم رکھا تھا۔

یہ… تمہیں کہاں ملی؟

گھڑیاں کبھی گم نہیں ہوتیں، احمد۔” اس کی آواز اب مدھم نہیں رہی تھی۔ وقت صرف چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔

احمد نے دیکھا، گھڑی کی سوئیاں الٹی سمت میں چل رہی تھیں۔

ٹک۔

ٹک۔

ٹک۔

ہر آواز کے ساتھ کمرہ جیسے اور پرانا ہوتا جا رہا تھا۔

دیواروں کا رنگ پھیکا۔ پردوں پر نمی۔ چھت کے کونوں میں سائے۔

اور پھر اس نے آئینہ دیکھا۔

بڑا سا آئینہ، جو صوفے کے سامنے دیوار پر لگا تھا۔

اس میں زینب کھڑی تھی۔

اور اس کے پیچھے… کئی اور چہرے۔

ایک لڑکی، جو شاید پہلی محبت کے زمانے کی تھی۔ ایک عورت، جس کی آنکھوں میں نئی شادی کی روشنی تھی۔ ایک چہرہ، جو مسلسل جاگنے سے تھک چکا تھا۔ ایک اور… جو روتے روتے پتھر ہوگیا تھا۔

سب زینب تھیں۔

سب اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

احمد کے حلق سے آواز نہ نکلی۔

یہ کیا ہے…؟

یہ میں ہوں۔ زینب نے سرگوشی کی۔ وہ سب، جنہیں تم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

آئینے کے اندر موجود تمام چہروں کی آنکھیں ایک ساتھ اس پر جم گئیں۔

احمد نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوف چیخ سے نہیں، خاموشی سے پیدا ہوتا ہے۔

زینب نے پاکٹ واچ اس کی طرف بڑھائی۔

تم کہتے تھے نا… مشکل وقت میں ساتھ دینا چاہیے؟

اس کے ہونٹ ہلے، مگر آواز پھر بھی نہ نکلی۔

آج میرا وقت مشکل ہے، احمد۔

اس کی آواز اب ایک نہیں تھی۔ جیسے کئی دبی ہوئی آوازیں ایک دوسرے کے اندر سے بول رہی ہوں۔

میرے آنسو پونچھ دو۔ میری تنہائی بانٹ لو۔ میری خاموشی اپنے اندر رکھ لو… اگر واقعی تم وہ انسان ہو جس کا دعویٰ کرتے رہے ہو۔

گھڑی کی سوئیاں تیزی سے الٹی گھومنے لگیں۔

کمرے میں کہیں بہت دور سے ہنسی کی ایک مدھم آواز آئی… یا شاید کوئی رو رہا تھا۔

احمد نے دوبارہ آئینے کی طرف دیکھا۔

اب اس کی اپنی تصویر دھندلا رہی تھی۔

صرف آنکھیں باقی تھیں۔

اور اُن آنکھوں میں پہلی بار اسے اپنا اصل چہرہ نظر آیا— ایک ایسا آدمی، جو محبت چاہتا تھا، مگر کسی دوسرے انسان کے درد کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔

اب بتاؤ، احمد…“

زینب کی آواز جیسے آئینے کے اندر سے آئی۔

کیا میں اب بھی خوبصورت ہوں؟

کمرے میں موجود تمام چہرے خاموش تھے۔

صرف گھڑی چل رہی تھی۔

الٹی سمت میں۔

اور احمد نے محسوس کیا، بعض سوالوں کا جواب زبان سے نہیں دیا جاتا… انسان پوری زندگی دے کر ادا کرتا ہے۔

 

 

مرکزی خیال:
یہ افسانہ رشتوں میں موجود خاموش استحصال، جذباتی غفلت اور آسان” سمجھے جانے والے انسانوں کے اندر دفن ہوتے دکھ کی کہانی ہے۔ محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ دوسرے کے زخم دیکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ جب ایک انسان مسلسل نظرانداز ہوتا ہے تو وہ ٹوٹتا نہیں، اندر ہی اندر ایک خوفناک سچ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

 

مشکل الفاظ کے معنی:
مانوس — جان پہچان والا، شناسا
پراسرار — جس میں راز یا بھید ہو
سرگوشی — بہت دھیمی آواز میں بات
دراڑ — شگاف، ٹوٹنے کی باریک لکیر
استحصال — کسی کے جذبات یا کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا
تجسیم — کسی خیال یا کیفیت کو جیتی جاگتی شکل دینا
مدھم — دھیمی، کم روشن
الم ناک — شدید دکھ سے بھرا ہوا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

امانت

  امانت مصنف: عبدالرزاق ہال قہقہوں سے بھرا ہوا تھا، تالیاں تھیں، تصویریں تھیں، روشنی تھی—مگر صدف کے اندر ایک لفظ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا: ”لے ج...