بعض آگ بجھ نہیں جاتی، بس کسی کی ہتھیلی کا انتظار کرتی ہے۔ مرکزی خیال: انسان تنہائی میں بجھ جاتا ہے۔ مگر کسی کی طرف دیکھتا ہوا ایک چھوٹا شعلہ اسے دوبارہ جلا دیتا ہے۔ گرمی لینے کے لیے بڑی آگ نہیں، صرف ایک آنکھ چاہیے۔ چولھا بجھ چکا تھا۔ رکھراج نے آخری انگارے کو دیکھا۔ کبھی شعلہ تھا۔ اب سرخی مائل سیاہی۔ ٹھنڈی راکھ میں وہ اکیلا تپ رہا تھا۔ اس کی تپش کوئی نہ جان سکا۔ کمرے میں دیواروں پر کتابیں تھیں۔ تصویریں جن میں لوگ مسکرا رہے تھے۔ ریڈیو جو کبھی نہ بجا۔ بیوی کو مرے چار برس ہوئے تھے۔ بیٹا کینیڈا سے فون کرتا تھا۔ مہینے میں ایک بار۔ سات منٹ۔ پوتا اردو نہ بولتا تھا۔ رکھراج نے کھڑکی کھولی۔ باہر برف پڑ رہی تھی۔ سڑک کے اُس پار مکان میں روشنی تھی۔ شیشے پر بھاپ جمی تھی۔ اندر لوگ ہوں گے۔ چائے پیتے ہوں گے۔ کوئی ہنسی ہوگی۔ کوئی جھگڑا۔ کوئی خاموشی جو تنہا نہ ہو۔ اس نے ہاتھ بڑھایا۔ برف کے قطرے مٹھی میں پگھل گئے۔ پچھلے کمرے میں الماری کھولی۔ اوپر شیلف پر مٹی کا دیا تھا۔ ساس کا دیا۔ شادی پر دیا تھا۔ "ہمیشہ روشن رکھنا، بہو۔" بیوی نے رکھا، جب تک رہی۔ اب تیل نہیں تھا۔ رکھراج نے دیا ہاتھ میں لیا۔ مٹ...
مرکزی خیال : انسانی رویوں میں منافقت اور طبقاتی برتری کی نفسیات وقتاً فوقتاً انسان کو اندر سے توڑتی ہے۔ اصل تبدیلی بیرونی اصلاح نہیں بلکہ داخلی شعور کی بیداری سے جنم لیتی ہے۔ ضمیر سے فرار ممکن نہیں، وہ دیر یا سویر اپنی آواز واپس لے آتا ہے۔ رانا اعجاز نے چائے کا آخری گھونٹ ایسے نگلا جیسے کسی فیصلے کو حلق سے نیچے اتار رہے ہوں۔ ان کی کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی ہال کی مدھم سنہری روشنی میں لمحوں کو کاٹتی جا رہی تھی۔ شمیم میموریل ہال کا وسیع بال روم دولت کی بے آواز چیخوں سے بھرا ہوا تھا—چمکتے فانوس، پالش شدہ فرش، اور مہنگے عطر کی تہہ در تہہ گھٹن۔ یہ ظہیر سلطان کی دعوت تھی۔ شہر کے ان لوگوں کے لیے جو اپنی موجودگی سے محفلیں معتبر کرتے تھے۔ رانا اٹھے۔ کوٹ کی شکنیں درست کیں اور ہال میں آہستہ قدم رکھنے لگے۔ ہر چہرہ ایک حساب تھا، ہر مسکراہٹ ایک سودے کی پیشگی قسط۔ کونے میں ان کی نظر ٹھہر گئی۔ ایک بوڑھا آدمی۔ سید صاحب۔ پچاس برس پہلے یہی آدمی دفتر کی فائلوں میں جھکا ہوا کلرک تھا، اور رانا اسی میز پر اس کے برابر بیٹھا خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب خواب رانا کے پاس تھے، اور سید صاحب کے پاس ...