اِنتِظار
ہر صبح ٹھیک سات بجے وہ پارک کی سب سے پُرانی بینچ پر آ بیٹھتا۔ لوہے کی اُس بینچ کا سبز رنگ جگہ جگہ سے اُکھڑ چکا تھا اور بارش کے بعد اُس میں سے زنگ کی ایک بُو اُٹھتی تھی۔ بوڑھا ہمیشہ سفید کُرتا، خاکی پتلون اور سر پر میلی سی ٹوپی پہنے ہوتا۔ ہاتھوں میں ایک بوسیدہ کاغذ دبا رہتا، جیسے کسی ڈوبتے آدمی نے آخری لکڑی پکڑی ہو۔ پارک کے درخت بھی اب اُس کے معمول سے واقف ہو چکے تھے۔ صبح کی ہوا آتی، پتے ہلتے، کوّے شور مچاتے، بچے اسکول جاتے، دوڑنے والے پسینہ پونچھتے گزر جاتے… مگر وہ وہیں بیٹھا رہتا۔ کبھی آہستہ سے کاغذ کھولتا، دیر تک اُسے دیکھتا، پھر بڑی احتیاط سے تہہ کر کے جیب میں رکھ لیتا، جیسے کاغذ نہیں، کوئی سانس ہو۔ عالیہ کئی دن سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ وہ روز صبح دوڑنے آتی تھی۔ پہلے اُس نے صرف تجسس سے دیکھا، پھر اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس بینچ کے گرد وقت ذرا دھیرے چلتا ہے۔ ایک صبح وہ دوڑتے دوڑتے اُس کے سامنے رُک گئی۔ ” چچا جان… آپ روز یہاں کس کا انتظار کرتے ہیں؟“ بوڑھے نے گردن اُٹھائی۔ آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی، جیسے بہت پرانا پانی۔ ” کسی کا نہیں بیٹی… وقت کا۔“ عالیہ ہنس دی۔ ” وقت...