نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کلہاڑی کا شوربہ

اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔ بڑھیا کو رحم آگیا۔ اس نے دروازہ کھول دیا لیکن پھر فوراً ہی بولی: ’’تمہیں پناہ تو مل سکتی ہے لیکن کچھ کھانے پینے کی امید مت رکھنا۔ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے، کسی بستی کے باہر ایک بڑھیا رہتی تھی۔ ویسے تو وہ بہت اچھی تھی۔ مہربان، ملنسار اور محبت کرنے والی، لیکن بس ذرا کنجوس تھی۔ دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی، بہت محبت اور خلوص سے پیش آتی لیکن جیسے ہی کوئی اس سے کوئی چیز مانگتا فوراً ہی مسکین سی صورت بنالیتی اوراپنے آپ کو دنیا کی غریب ترین ہستی ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتی۔ سب لوگ بڑھیا کی اس عادت سے واقف تھے لہٰذا اس سے کچھ مانگنے سے گریز ہی کرتے۔ یہاں تک کہ اس کے گھر آنا جانا بھی کوئی پسند نہ کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے اس سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیا۔ بڑھیا اگر کسی سے بات کرنے کی کوشش بھی کرتی تو وہ منہ پھیر کرچلا جاتا۔ یوں بڑھیا بالکل تنہا ہوکر رہ گئی۔ بڑھاپے کے باوجود اپنا ہر کام خود کرتی۔ کوئی اس کا پرسان حال نہیں تھا۔ لوگوں کے تکلیف دہ رویے کی وجہ سے وہ بہت چڑچڑی اور بدمزاج ہوگئی تھی۔ ایک مرتبہ سردیوں کی ایک...
حالیہ پوسٹس

آخری دعوت Aakhri Dawat

  مرکزی خیال : انسانی رویوں میں منافقت اور طبقاتی برتری کی نفسیات وقتاً فوقتاً انسان کو اندر سے توڑتی ہے۔ اصل تبدیلی بیرونی اصلاح نہیں بلکہ داخلی شعور کی بیداری سے جنم لیتی ہے۔ ضمیر سے فرار ممکن نہیں، وہ دیر یا سویر اپنی آواز واپس لے آتا ہے۔ رانا اعجاز نے چائے کا آخری گھونٹ ایسے نگلا جیسے کسی فیصلے کو حلق سے نیچے اتار رہے ہوں۔ ان کی کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی ہال کی مدھم سنہری روشنی میں لمحوں کو کاٹتی جا رہی تھی۔ شمیم میموریل ہال کا وسیع بال روم دولت کی بے آواز چیخوں سے بھرا ہوا تھا—چمکتے فانوس، پالش شدہ فرش، اور مہنگے عطر کی تہہ در تہہ گھٹن۔ یہ ظہیر سلطان کی دعوت تھی۔ شہر کے ان لوگوں کے لیے جو اپنی موجودگی سے محفلیں معتبر کرتے تھے۔ رانا اٹھے۔ کوٹ کی شکنیں درست کیں اور ہال میں آہستہ قدم رکھنے لگے۔ ہر چہرہ ایک حساب تھا، ہر مسکراہٹ ایک سودے کی پیشگی قسط۔ کونے میں ان کی نظر ٹھہر گئی۔ ایک بوڑھا آدمی۔ سید صاحب۔ پچاس برس پہلے یہی آدمی دفتر کی فائلوں میں جھکا ہوا کلرک تھا، اور رانا اسی میز پر اس کے برابر بیٹھا خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب خواب رانا کے پاس تھے، اور سید صاحب کے پاس ...

چادر Chadar

بعض ڈھالیں پہن لی جائیں تو چہرہ نہیں، شناخت بچتی ہے۔   *مرکزی خیال*   چادر صرف کپڑا نہیں۔ یہ ڈھال ہے، امانت ہے۔ جو عورت کو گرنے سے نہیں، ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ فاطمہ کی عمر پچاس تھی۔ پچاس سال سے چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ حنا نے کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ ہر صبح وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی۔ چادر سنبھالتی۔ کنارہ انگلیوں سے چھوتی۔ جیسے پرانی یاد کا دھاگہ ہو۔ حنا جدید خیالوں والی ہو گئی تھی۔ ایک دن بولی: "اماں، اب کوئی پردہ نہیں کرتا۔ یہ پرانا رواج ہے۔" فاطمہ مسکرائی۔ مسکراہٹ میں کچھ چھپا تھا۔ جیسے کہانی خود موت لکھ رہی ہو۔ صندوق سے پرانی تصویر نکالی۔ ایک نوجوان لڑکی۔ بغیر چادر کے۔ ساتھ بزرگ۔ "یہ میں ہوں۔" فاطمہ نے کہا۔ "یہ میرے والد ہیں۔" حنا چونکی۔ "تم پردہ کرتی تھی؟" فاطمہ نے تصویر الٹ دی۔ پشت پر لکھا تھا: "میری بیٹی کی پہلی اور آخری تصویر بغیر چادر کے۔" "کیوں؟" حنا نے پوچھا۔ فاطمہ نے چادر اتاری۔ حنا نے پہلی بار ماں کا چہرہ دیکھا۔ خوبصورت تھا۔ دائیں گال پر گہرا، سکڑا نشان۔ جیسے پنجہ کھنچ گیا ہو۔ "اس دن اسکول بغیر چادر گئی۔ وال...

آخری دروازہ Aakhri Darwaza

بعض دروازے گھر کے اندر ہوتے ہیں، اور ان کی چابی ہم جیب میں لیے پھرتے ہیں۔ مرکزی خیال:   جو دروازہ ہم باہر ڈھونڈتے ہیں وہ اندر لگا ہوتا ہے۔ اسے کھولو تو سامنا صرف اپنے عکس سے ہوتا ہے۔ وہی عکس ساری جستجو کا جواب ہے۔   رات کے دو بجے تھے۔ شہر کی آوازیں مر چکی تھیں۔ اس کے کان میں بچے کا رونا تھا۔ آنکھ کھولی۔ چھت پر دراڑ تھی۔ سالوں میں مکڑی کا گھر بن گیا تھا۔ مکڑی جالا بُن رہی تھی۔ ٹوٹے دھاگے جوڑ رہی تھی۔ بیوی کے شانے کانپ رہے تھے۔ نیند میں بھی۔ اس نے چادر اوڑھا دی۔ اٹھا۔ باہر نکل گیا۔ گلی میں کتا لیٹا تھا۔ تین ٹانگیں۔ چوتھی زخمی۔ شام کی روٹی آگے رکھ دی۔ کتے نے بھوک سے دیکھا۔ کھائی نہیں۔ آنکھیں بند کر لیں۔ چلتا رہا۔ صبح میں دو گھنٹے باقی تھے جب دریا کے کنارے پہنچا۔ بیس سال پہلے اسی کنارے پر کہا تھا: "میں تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا۔" آج بیوی اکیلی سو رہی تھی۔ بچہ اکیلا۔ وہ ایک دروازے کی تلاش میں تھا۔ دریا کے پار روشنی تھی۔ ایک گھر۔ بوڑھی عورت رہتی تھی۔ تین بیٹے تھے۔ ایک جنگ میں مرا۔ دوسرا شہر چھوڑ گیا۔ تیسرا… اس کے گھر کے اندر تھا۔ وہ اسے چھو کر نہ گزرتا تھا۔ ایک بار پوچھا ت...

آخری چائے Aakhri Chaye

یہ افسانہ یہ سبق دیتا ہے کہ وقت پر رشتوں کو اہمیت نہ دی جائے اور احساسات کو دبا دیا جائے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان ساتھ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو کھو دیتے ہیں، اور پیچھے صرف اداسی اور پھیکی (یا کم چینی والی) چائے کی طرح بے ذائقہ یادیں رہ جاتی ہیں۔ شام کے چھ بج رہے تھے جب چھت پر پھیلی ہوئی چادر کی سلوٹوں سے دھوپ سرک کر صحن میں اتری اور پھولوں کی کیاری کے پاس دم توڑ گئی۔ وہ دونوں برآمدے میں رکھی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، بیچ میں رکھی ہوئی چائے کی پیالی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ ’’چائے پی لو، ٹھنڈی ہوئی جا رہی ہے۔‘‘ عائشہ نے کہا، مگر اس کی نظریں سامنے کمرے کے بند دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ دروازے پر لٹکا ہوا پردہ ہوا کے ایک جھونکے سے ذرا سا ہلا اور پھر ساکن ہو گیا۔ شہزاد نے چپ چاپ پیالی اٹھائی اور ایک گھونٹ بھرا۔ چائے میں چینی کم تھی، بالکل ویسے جیسے وہ پچھلے سترہ سالوں سے پیتا آیا تھا، مگر آج حلق سے نیچے اترتے ہوئے اس کا ذائقہ کچھ اور تھا۔ جیسے کوئی پرانی تصویر دھندلا گئی ہو اور آنکھیں ملنے کے بعد بھی صاف نہ ہو رہی ہو۔ ’’میں نے صوفہ درزی کو دے دیا ہے،‘‘ عائشہ نے بغیر اس کی...

Aaine ke us paar آئینے کے اُس پار

نسان جب اندر سے ٹوٹا ہو تو دنیا اسے مسخ نظر آتی ہے۔ شیشہ صاف ہوتے ہی شہر، رشتے اور خود اپنی شکل واپس مل جاتی ہے۔ہے۔ مرکزی خیال: دنیا کو بدلنے کی بجائے اپنے ادراک کی تبدیلی حقیقی سکون کا ذریعہ ہے — آئینہ فریب نہیں دیتا، آنکھیں دیتی ہیں۔ بارش تھم چکی تھی۔ مچھر ابھی باقی تھے۔ اسامہ نے کھڑکی بند کی تو چوکھٹ سے پلستر کا ٹکڑا ٹوٹ کر چٹخ گیا۔ اس نے گالی دی۔ گھر کو۔ مستری کو۔ اس موسم کو جو دیواروں سے پانی ٹپکاتا ہے۔ بیوی نے کہا، "چائے پی لو۔" "کون سی چائے؟ باسکٹ والی ختم ہو گئی، تمہیں خبر بھی نہیں۔" وہ باہر نکل گیا۔ گلی کی نکاسی بند تھی۔ کیچڑ سا جم گیا تھا۔ ایک بلی سوکھے ڈبے کو سونگھ رہی تھی۔ اسامہ نے ٹھوکر ماری۔ بلی بھاگی۔ پھر مڑ کر دیکھا۔ جیسے پوچھ رہی ہو، ملا کیا؟ نثار کی دوکان پر بیٹھ کر بولا، "یہ شہر اب بسنے لائق نہیں رہا۔ لوگ، جانور، ہوا۔ سب سڑے ہوئے۔" نثار خاموش رہا۔ گرم پکوڑے آگے رکھ دیے۔ اسامہ نے پکوڑا توڑا۔ اندر سے کچی ہلدی سی بہی۔ پلیٹ سرکا دی۔ "دیکھا؟ اندر سے گلے ہوئے۔" نثار نے اپنا پکوڑا کھایا۔ مسکرایا۔ کچھ نہ بولا۔ واپسی پر پرانی عمارت کے ش...