آپ نَہ ہُود
ہَوا میں ایک عجیب سی بجلی گھُلی ہوئی تھی۔ وہ آسمانی بجلی نہیں تھی جو بادلوں کو چیرتی ہے، بلکہ وہ باریک، خفیف سنسناہٹ تھی جو آدمی کی جِلد کے نیچے رینگتی رہتی ہے۔ راہی نے اپنا کوٹ ذرا اور سمیٹا اور خاموشی سے گاڑی سے نیچے اُتر آیا۔ سامنے زنگ آلود بورڈ پر مدھم حروف اب بھی باقی تھے: ” سیلینٹ ویلی “ اور اُس کے نیچے ایک جملہ، جو نمی اور وقت کے باوجود صاف پڑھا جا سکتا تھا: ” یہاں آواز مر جاتی ہے۔” راہی نے ایک لمحے کو وادی کی طرف دیکھا۔ دُور تک پھیلی ہوئی دھند، بے حرکت درخت، اور اُن کے درمیان ایسی خاموشی جو سکون نہیں دیتی تھی بلکہ آدمی کے اندر کسی پوشیدہ اضطراب کو جگا دیتی تھی۔ وہ خاموشی جو کانوں میں بَجتی ہے۔ وہ یہاں ایک گمشدہ سائنس دان، ڈاکٹر عرفان کی تلاش میں آیا تھا؛ وہی ڈاکٹر عرفان جو ” آواز کے غار” کے متعلق تحقیق کرتے کرتے خود لاپتا ہو گیا تھا۔ راہی نے قدم آگے بڑھائے۔ چند ہی لمحوں بعد اُسے احساس ہوا کہ اُس کے جوتوں کی چاپ بھی غائب ہو چکی ہے۔ اُس نے رُک کر انگلیاں چٹخائیں۔ کوئی آواز پیدا نہ ہوئی۔ اُس نے اپنا نام پکارا، مگر لفظ حلق سے نکل کر جیسے فضا میں تحلیل ہونے سے پہلے ہی...