اشاعتیں

ٹوٹا ہوا شیشہ

   ٹوٹا ہوا شیشہ مصنف: عبدالرزاق تاثراتی جملہ / Tagline: ٹوٹے ہوئے شیشے جھوٹ نہیں بولتے… وہ صرف چہرے دو حصوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ افسانہ : کمرے میں ہوا یوں چل رہی تھی جیسے کسی پرانے راز کی تہہ میں سانس رک گیا ہو۔ پرانی الماری کے شیشے پر وقت کی گرد جمی تھی، اور اس گرد میں سورج کی آخری کرنیں ایسے پھنس گئی تھیں جیسے کسی نے روشنی کو بھی قید کر لیا ہو۔ زینب نے انگلی اٹھائی اور شیشے پر ایک باریک لکیر کھینچ دی۔ وہ لکیر صرف شیشہ نہیں چیر رہی تھی… اس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش سرحد قائم کر دی تھی۔ " تم نے کبھی سوچا ہے، عمیر؟" اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، بس ایک تھکن تھی۔ "شیشہ ٹوٹنے سے پہلے کم خطرناک ہوتا ہے… اور ٹوٹنے کے بعد زیادہ سچ بولتا ہے۔ " عمیر نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر اس کے اندر کا سوال ابھی گرم تھا۔ وہ سوال جو تین مہینوں سے اس کی آنکھوں میں بند دروازے کی طرح کھڑا تھا۔ " تم نے میرا فون دیکھا تھا، نا؟ " لفظ کمرے میں گر کر ٹوٹ گئے۔ زینب نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا—ادھورا، جیسے کسی نے تصویر کے درمیان سے روشنی کاٹ دی ...

آئینہ

   آئینہ مصنف: عبدالرزاق شام جیسے کسی بیمار چراغ کی آخری لو تھی۔ احمد نے دروازہ کھولا تو اندر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا نکلا، جیسے گھر کئی گھنٹوں سے سانس روکے بیٹھا ہو۔ دروازہ اس کے پیچھے خودبخود بند ہوا اور لکڑی کے بھاری پٹ کی آواز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کہیں اتر گئی۔ ” احمد… اِدھر آؤ۔ “ زینب کی آواز اندر سے آئی۔ آواز وہی تھی، مگر اس میں وہ مانوس حرارت نہیں تھی جو برسوں سے اس گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ یہ آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے نکل کر آئی ہو۔ اس نے جوتے اتارے۔ ایک جوتا الٹا پڑا تھا۔ دوسرا دروازے سے دور۔ سلیپر کہیں نظر نہ آئے۔ وہ ننگے پاؤں سنگِ مرمر پر چلا تو فرش کی ٹھنڈک اس کے جسم میں چپک گئی۔ ڈرائنگ روم نیم تاریک تھا۔ صرف کھڑکی کے پاس رکھی زرد لیمپ کی روشنی جل رہی تھی۔ زینب صوفے پر بیٹھی تھی، پشت کھڑکی کی طرف۔ باہر اندھیرا تھا، ایسا اندھیرا جس میں شہر کی روشنیاں بھی ڈوب جاتی ہیں۔ ” کہاں تھیں تم آج؟ فون بھی نہیں اُٹھایا۔ “ احمد نے معمول کی نرمی پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اپنی ہی آواز اسے اجنبی لگی۔ زینب نے آہستہ سے گردن موڑی۔ روشنی اس کے چہرے پر ت...

وہ جو مسکراتے نہیں

  مصنف: عبدالرزاق واحدی بارش اُس رات بھی نہیں ہوئی تھی، مگر کھڑکی کے شیشوں پر نمی جمی ہوئی تھی۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی پھیلی تھی جو وقت کے ساتھ بوڑھی ہو جاتی ہے۔ دروازے پر تین دستکیں ہوئیں۔ ایک… وقفہ… پھر دوسری… پھر تیسری۔ ہر بار ایک ہی ترتیب، جیسے کسی نامعلوم خوف کا پاس ورڈ ہو۔ میں نے دروازہ کھولا۔ وہ ہمیشہ کی طرح سیدھا کھڑا تھا۔ کالے اوورکوٹ کا کالر گردن تک چڑھا ہوا، چہرہ بے تاثر، آنکھیں ایسی جیسے نیند نے برسوں سے اُن کے قریب آنے کی جرأت نہ کی ہو۔ اُس کے کپڑوں سے ہلکی سی جراثیم کش دوا کی بُو آتی تھی۔ " آج بھی وہی معمول؟" میں نے آہستہ سے پوچھا۔ وہ جواب دیے بغیر اندر آیا اور کمرے کے اُس کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں کھڑکی کی روشنی پوری طرح نہیں پہنچتی تھی۔ جیسے وہ شعاعوں سے نہیں، صرف سایوں سے مانوس ہو۔ میں نے چائے بنائی۔ کیتلی کی سیٹی اُس خاموشی میں عجیب لگ رہی تھی۔ وہ بیٹھا مجھے دیکھتا رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔ ڈاکٹر فیضان۔ وہ میرا معالج نہیں تھا۔ کم از کم اب مجھے یہی لگنے لگا تھا۔ تین مہینوں سے وہ ہفتے میں دو بار آتا، چند گھنٹے بیٹھتا، میری حرکات دیکھتا،...