اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وہ جو مسکراتے نہیں

  مصنف: عبدالرزاق واحدی بارش اُس رات بھی نہیں ہوئی تھی، مگر کھڑکی کے شیشوں پر نمی جمی ہوئی تھی۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی پھیلی تھی جو وقت کے ساتھ بوڑھی ہو جاتی ہے۔ دروازے پر تین دستکیں ہوئیں۔ ایک… وقفہ… پھر دوسری… پھر تیسری۔ ہر بار ایک ہی ترتیب، جیسے کسی نامعلوم خوف کا پاس ورڈ ہو۔ میں نے دروازہ کھولا۔ وہ ہمیشہ کی طرح سیدھا کھڑا تھا۔ کالے اوورکوٹ کا کالر گردن تک چڑھا ہوا، چہرہ بے تاثر، آنکھیں ایسی جیسے نیند نے برسوں سے اُن کے قریب آنے کی جرأت نہ کی ہو۔ اُس کے کپڑوں سے ہلکی سی جراثیم کش دوا کی بُو آتی تھی۔ " آج بھی وہی معمول؟" میں نے آہستہ سے پوچھا۔ وہ جواب دیے بغیر اندر آیا اور کمرے کے اُس کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں کھڑکی کی روشنی پوری طرح نہیں پہنچتی تھی۔ جیسے وہ شعاعوں سے نہیں، صرف سایوں سے مانوس ہو۔ میں نے چائے بنائی۔ کیتلی کی سیٹی اُس خاموشی میں عجیب لگ رہی تھی۔ وہ بیٹھا مجھے دیکھتا رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔ ڈاکٹر فیضان۔ وہ میرا معالج نہیں تھا۔ کم از کم اب مجھے یہی لگنے لگا تھا۔ تین مہینوں سے وہ ہفتے میں دو بار آتا، چند گھنٹے بیٹھتا، میری حرکات دیکھتا،...