وہ جو مسکراتے نہیں
مصنف: عبدالرزاق واحدی
بارش اُس رات بھی نہیں ہوئی تھی، مگر
کھڑکی کے شیشوں پر نمی جمی ہوئی تھی۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی پھیلی تھی جو وقت
کے ساتھ بوڑھی ہو جاتی ہے۔ دروازے پر تین دستکیں ہوئیں۔ ایک… وقفہ… پھر دوسری… پھر
تیسری۔ ہر بار ایک ہی ترتیب، جیسے کسی نامعلوم خوف کا پاس ورڈ ہو۔
میں نے دروازہ کھولا۔
وہ ہمیشہ کی طرح سیدھا کھڑا تھا۔ کالے
اوورکوٹ کا کالر گردن تک چڑھا ہوا، چہرہ بے تاثر، آنکھیں ایسی جیسے نیند نے برسوں
سے اُن کے قریب آنے کی جرأت نہ کی ہو۔ اُس کے کپڑوں سے ہلکی سی جراثیم کش دوا کی
بُو آتی تھی۔
"آج بھی وہی معمول؟"
میں نے آہستہ سے پوچھا۔
وہ جواب دیے بغیر اندر آیا اور کمرے
کے اُس کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں کھڑکی کی روشنی پوری طرح نہیں پہنچتی
تھی۔ جیسے وہ شعاعوں سے نہیں، صرف سایوں سے مانوس ہو۔
میں نے چائے بنائی۔ کیتلی کی سیٹی اُس
خاموشی میں عجیب لگ رہی تھی۔ وہ بیٹھا مجھے دیکھتا رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔
ڈاکٹر فیضان۔
وہ
میرا معالج نہیں تھا۔ کم از کم اب مجھے یہی لگنے لگا تھا۔ تین مہینوں سے وہ ہفتے
میں دو بار آتا، چند گھنٹے بیٹھتا، میری حرکات دیکھتا، میری مسکراہٹوں کو نوٹ
کرتا، میرے معمولات کی خاموش نگرانی کرتا، اور چلا جاتا۔ ابتدا میں میں نے سمجھا
تھا شاید یہ صدمے کے بعد ذہنی بحالی کا کوئی مرحلہ ہے، مگر رفتہ رفتہ اُس کی
نگاہوں میں مجھے طب نہیں، ایک عجیب سی خفگی محسوس ہونے لگی۔ ایسی خفگی جو میرے
زندہ رہ جانے سے پیدا ہوئی ہو۔
وہ خاص طور پر اُس وقت مجھے دیر تک
دیکھتا جب میں بے دھیانی میں مسکرا دیتا۔
جیسے مسکراہٹ کوئی جرم ہو۔
اُس شام میں نے پہلی بار اُس سے سیدھا
سوال کیا۔
"ڈاکٹر صاحب… کیا میری کسی بات سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے؟"
اُس کی پلک ہلکی سی لرزی۔ پھر اُس نے
اپنی انگلیوں کو باہم پھنسا لیا۔
"تکلیف؟" اُس نے دھیرے سے دہرایا۔ "ہاں۔ شاید۔"
میں خاموش رہا۔
وہ ذرا آگے جھکا۔ "تمہاری بیوی
مر گئی۔ صرف چھ مہینے پہلے۔"
میرے ہاتھ میں پکڑا کپ ہلکا سا کانپا۔
وہ بولتا رہا۔
"تم نے گھر نہیں بیچا۔ اُس کی چیزیں نہیں جلائیں۔ تم رات کو
سوتے ہو۔ دفتر جاتے ہو۔ لوگوں سے ملتے ہو۔ اور…" اُس کی آواز میں پہلی بار
باریک سا زہر ابھرا، "…تم کبھی کبھار مسکرا بھی دیتے ہو۔"
کمرے میں گھڑی کی ٹِک ٹِک سنائی دینے
لگی۔
"آپ کو یہ سب کیسے معلوم؟"
وہ کچھ لمحے مجھے دیکھتا رہا۔ پھر جیب
سے ایک سیاہ دھاتی ڈبہ نکالا۔ اُس کی سطح پر نیلی روشنی دھڑک رہی تھی۔
"کیونکہ تم زیرِ نگرانی ہو۔"
"کس کی نگرانی؟"
"ایک پراجیکٹ کی۔"
میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ اب اُس کے
چہرے پر وہ سرد اطمینان تھا جو اکثر قصائی کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔
"تمہاری بیوی کا حادثہ حادثہ نہیں تھا۔" اُس نے سپاٹ لہجے
میں کہا۔ "وہ ایک ترتیب دی گئی سانحہ آرائی تھی۔"
میری سانس اندر ہی کہیں رک گئی۔
"ہم انسانی اذیت پر کام کرتے ہیں۔" وہ بولا۔ "یہ
جاننے کے لیے کہ انسان کتنے دکھ کے بعد ٹوٹتا ہے۔ کتنی دیر میں امید چھوڑ دیتا ہے۔
کب مسکرانا بند کرتا ہے۔"
میں اُسے گھورتا رہا۔
وہ جیسے کسی کانفرنس میں مقالہ پڑھ
رہا ہو۔
"مگر تم…" اُس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،
"…تم نے ہمارے تمام ماڈلز خراب کر دیے۔ تم بکھرنے کے بجائے معمول پر واپس آنے
لگے۔ یہ غیر فطری ہے۔"
"غیر فطری؟"
"انسان خوش رہنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔" اُس نے فوراً
کہا۔ "خوشی صرف ایک عارضی دھوکا ہے۔ مناسب صدمہ ملے تو ہر انسان اپنی اصل
تاریکی میں لوٹ آتا ہے۔"
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اُس
آدمی کی آواز میں علم سے زیادہ بھوک تھی۔
ایک اندھی، پرانی بھوک۔
"تو میری بیوی…" میری آواز ٹوٹ گئی۔
"وہ ایک متغیر تھی۔"
کچھ لمحوں تک مجھے صرف اپنی دھڑکن
سنائی دیتی رہی۔ پھر میرے اندر کہیں بہت گہری جگہ پر کچھ ٹھنڈا ہو گیا۔
"تم لوگ انسان نہیں ہو۔"
اُس نے سر ہلایا۔ "ہم حقیقت پسند
ہیں۔"
اُس نے ڈبہ کھولا۔ اندر باریک تاروں
اور شیشے جیسی دھاتی سطح والا ایک آلہ رکھا تھا۔ اُس سے ہلکی سی بھنبھناہٹ نکل رہی
تھی۔
"یہ تمہارے اعصابی نظام میں مداخلت کرے گا۔" اُس نے کہا۔
"مصنوعی مایوسی۔ شدید خوف۔ جذباتی انہدام۔ شاید تب تم وہ محسوس کر سکو جو
تمہیں کرنا چاہیے تھا۔"
میں پیچھے ہٹا، مگر وہ حیرت انگیز
تیزی سے آگے بڑھا۔ ٹھنڈی دھات میری کنپٹی سے لگی۔
ایک سفید چمک۔
شدید برقی جھٹکا۔
پھر…
خاموشی۔
میں سیدھا بیٹھا رہا۔
ڈاکٹر فیضان کے ماتھے پر پہلی بار شکن
ابھری۔ اُس نے آلہ ہٹایا، دوبارہ دیکھا، کچھ بٹن دبائے۔ بھنبھناہٹ تیز ہوئی۔
"ناممکن…" اُس نے سرگوشی کی۔
میں نے آہستہ سے اُس کی طرف دیکھا۔
پھر مسکرایا۔
مگر یہ وہ مسکراہٹ نہیں تھی جسے وہ
پچھلے مہینوں سے نوٹ کرتا آ رہا تھا۔ یہ پرسکون تھی… اور بے رحم بھی۔ جیسے کسی بند
دروازے کے پیچھے کھڑا آدمی اچانک کنڈی کھول دے۔
"ڈاکٹر فیضان…" میں نے دھیمی آواز میں کہا، "تم سے
ایک بنیادی غلطی ہوئی۔"
اُس کے ہونٹ خشک ہو گئے۔
"تم نے یہ فرض کر لیا کہ تجربہ مجھ پر ہو رہا ہے۔"
کمرے کی ایک دیوار سے ہلکی سی آواز
آئی۔
ٹِک۔
پھر دوسری طرف سے۔
ٹِک۔
ڈاکٹر فیضان چونک کر مڑا۔
دیواروں کی سطح میں باریک دراڑیں
ابھرنے لگیں۔ پلستر آہستہ آہستہ سرکنے لگا۔ کھڑکی کا منظر دھندلا ہوا اور پھر ایک
پردے کی طرح نیچے گر گیا۔
اُس کے چہرے سے رنگ اُتر گیا۔
ہمارے گرد ایک وسیع سفید لیبارٹری
روشن ہو چکی تھی۔
شیشے کی دیواروں کے پیچھے اسکرینیں
جگمگا رہی تھیں۔ ہر اسکرین پر ڈاکٹر فیضان تھا۔ کہیں وہ رات کے اندھیرے میں تنہا
بیٹھا تھا، کہیں کسی خالی کمرے میں چیخ رہا تھا، کہیں آئینے کے سامنے اپنی آنکھوں
میں دیر تک دیکھ رہا تھا۔
وہ پیچھے ہٹ گیا۔
"یہ… کیا ہے؟"
"تمہارا مشاہدہ۔"
اب میری آواز میں وہی سکون تھا جو اُس
کی آواز میں ہوا کرتا تھا۔
"تمہارا ادارہ… تمہاری ٹیم… تمہارے معاون…" میں آہستہ
آہستہ بولتا رہا، "…سب میرے منتخب کیے ہوئے لوگ تھے۔"
"نہیں…" اُس نے فوراً کہا، مگر اُس کی آواز میں یقین نہیں
تھا۔
"ہاں۔" میں نے قریب آ کر کہا۔ "میں جاننا چاہتا تھا
کہ وہ لوگ، جو دوسروں کے دکھ کو نظریہ بنا لیتے ہیں، خود اندر سے کتنے خالی ہوتے
ہیں۔"
اُس کی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔
"اور میری بیوی؟"
میں چند لمحے خاموش رہا۔
"وہ موجود تھی۔"
اُس کے چہرے پر الجھن ابھری۔
"مگر وہ مری نہیں۔"
کمرے کی آخری اسکرین روشن ہوئی۔ اُس
میں ایک عورت باغیچے میں کھڑی تھی۔ ہوا اُس کے بالوں میں اُلجھ رہی تھی۔ وہ کیمرے
کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔
ڈاکٹر فیضان نے جیسے پہلی بار سانس
لیا۔
"تم نے…" اُس کی آواز بیٹھ گئی، "…تم نے یہ سب میرے
لیے بنایا؟"
"نہیں۔" میں نے کہا۔ "تم نے خود بنایا۔ میں نے صرف
تمہیں یقین کرنے دیا۔"
خاموشی۔
وہ آہستہ آہستہ بیٹھ گیا۔ اُس کے چہرے
پر اب وہ غرور نہیں تھا جو پہلی ملاقات میں تھا۔ صرف تھکن تھی۔ اور ایک ایسا خوف
جو انسان کو اُس وقت محسوس ہوتا ہے جب حقیقت اپنی شکل بدل دے۔
میں نے دیکھا، اُس کے ہاتھ کانپ رہے
تھے۔
"تم جانتے ہو، فیضان…" میں نے نرم لہجے میں کہا، "جو
لوگ دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر پاتے، وہ دراصل اپنی اندرونی ویرانی سے بھاگ
رہے ہوتے ہیں۔ تم لوگوں کو توڑ کر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ سب تم جیسے ہیں۔"
اُس نے سر جھکا لیا۔
بہت دیر بعد اُس نے پوچھا، "اب
کیا ہوگا؟"
میں نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
"اب تم جاؤ گے۔ اور پہلی بار تمہارے پاس کوئی نظریہ نہیں ہوگا
جس کے پیچھے چھپ سکو۔"
وہ اٹھا۔
لڑکھڑاتا ہوا۔
دروازے تک پہنچ کر وہ رکا۔ شاید کچھ
کہنا چاہتا تھا، مگر الفاظ اُس کے حلق میں کہیں پھنس گئے۔ آخرکار اُس نے میری طرف
دیکھا۔
اُس کے ہونٹوں پر ایک مدھم، شکستہ سی
جنبش ابھری۔
شاید مسکراہٹ۔
شاید اُس کی لاش۔
پھر وہ چلا گیا۔
دروازہ بند ہوا تو لیبارٹری کی
روشنیاں مدھم ہونے لگیں۔ اسکرینیں ایک ایک کر کے سیاہ ہو گئیں۔ کمرے میں پھر وہی
خاموشی لوٹ آئی، مگر اب اُس کی شکل بدل چکی تھی۔
میں دیر تک کھڑا رہا۔
پھر میں نے اپنی جیب سے ریموٹ نکالا
اور آخری بٹن دبا دیا۔
آخری اسکرین پر ڈاکٹر فیضان ایک لمبے،
سفید راہداری میں اکیلا چل رہا تھا۔
بغیر کسی منزل کے۔
میں نے اسکرین بند کر دی۔ اور
پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ بعض اوقات انتقام چیخ کر نہیں لیا جاتا۔
صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ آدمی دوسرے
شخص سے اُس کی یقینی دنیا چھین لے۔
میں کھڑکی کے قریب گیا۔
باہر اب بھی بارش نہیں ہو رہی تھی۔ مگر شیشے پر نمی بڑھ گئی تھی۔
اور میں…
میں مسکرایا نہیں۔ صرف
دیر تک اپنے ہونٹوں کو ساکت محسوس کرتا رہا، جیسے خوشی اور خوف کے درمیان کوئی بہت
باریک لکیر ہوتی ہے، جہاں پہنچ کر انسان کو خود اپنی آواز بھی اجنبی لگنے لگتی ہے۔
مرکزی خیال:
یہ افسانہ انسانی نفسیات، اختیار،
دکھ، اور خوشی کی ماہیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ کہانی دکھاتی ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے
زخموں سے اپنے نظریات ثابت کرنا چاہتے ہیں، مگر اصل شکست اُس لمحے ہوتی ہے جب
انسان اپنی ہی حقیقت پر یقین کھو دے۔ خوشی یہاں معصوم جذبہ نہیں بلکہ شعوری انتخاب
اور طاقت کی ایک شکل بن جاتی ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
• متغیر — بدلنے والا عنصر
• سانحہ آرائی — منصوبہ بند المیہ پیدا
کرنا
• اعصابی نظام — جسم اور دماغ کو جوڑنے
والا نظام
• انہدام — ٹوٹ پھوٹ، بکھر جانا
• ویرانی — اندرونی خالی پن، اداسی
• مدھم — دھیمی، کمزور
• راہداری — لمبا گزرنے کا راستہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں