اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تَصْوِیر

  تَصْوِیر اُسے والد کے اِنتِقال کے تقریباً سات ماہ بعد ملی۔ بارِش کی ایک نم آلود دوپہر تھی۔ گھر کے پچھلے کمرے میں رکھی لکڑی کی پُرانی الماری سے نمی اور بوسیدگی کی ملی جُلی بُو اُٹھ رہی تھی۔ زین پُرانی کتابیں الگ کر رہا تھا کہ ایک موٹی لُغت کے اندر سے کوئی چیز پھسل کر فرش پر آ گری۔ ایک سیاہ و سفید تَصْوِیر۔ وہ جھکا، تَصْوِیر اُٹھائی، اور دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔ تین لوگ تھے۔ ایک نوجوان لڑکا۔ اُس کے ساتھ ایک لڑکی۔ اور درمیان میں ایک بوڑھا آدمی۔ لڑکا مسکرا رہا تھا، مگر اُس کی مُسکراہٹ میں ایک انجانا اِحتیاط تھا، جیسے کسی نے سخت لہجے میں کہا ہو: ” ذرا سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ “ لڑکی کی آنکھیں سیدھی کیمرے میں پیوست تھیں، مگر اُن میں عجیب سی تھکن تھی۔ بوڑھا آدمی دونوں کے درمیان کھڑا تھا، لیکن یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اُن کے ساتھ ہو کر بھی اُن سے الگ کھڑا ہو۔ تَصْوِیر کے پچھلے حصّے پر مدھم پنسل سے لکھا تھا : ” رَیحان، ثناء، اور اَلطاف۔ چکوال — ۱۹۷۵ ء “ زین نے تَصْوِیر دوبارہ پلٹی، پھر ایک بار اور۔اُسے اچانک محسوس ہوا کہ وہ اپنے والد کے بارے میں جتنا جانتا تھا، شاید اُس سے کہیں ...