تَصْوِیر
تَصْوِیر اُسے والد کے اِنتِقال کے تقریباً
سات ماہ بعد ملی۔ بارِش کی ایک نم آلود دوپہر تھی۔ گھر کے پچھلے کمرے میں رکھی لکڑی کی پُرانی
الماری سے نمی اور بوسیدگی کی ملی جُلی بُو اُٹھ رہی تھی۔ زین پُرانی کتابیں الگ کر رہا تھا کہ ایک موٹی
لُغت کے اندر سے کوئی چیز پھسل کر فرش پر آ گری۔
ایک سیاہ و سفید تَصْوِیر۔ وہ جھکا، تَصْوِیر
اُٹھائی، اور دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔ تین لوگ تھے۔ ایک نوجوان لڑکا۔ اُس کے ساتھ ایک لڑکی۔ اور درمیان میں ایک
بوڑھا آدمی۔ لڑکا
مسکرا رہا تھا، مگر اُس کی مُسکراہٹ میں ایک انجانا اِحتیاط تھا، جیسے کسی نے سخت لہجے
میں کہا ہو:” ذرا سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔“
لڑکی کی آنکھیں سیدھی کیمرے میں پیوست
تھیں، مگر اُن میں عجیب سی تھکن تھی۔ بوڑھا آدمی دونوں کے درمیان کھڑا تھا، لیکن یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ
اُن کے ساتھ ہو کر بھی اُن سے الگ کھڑا ہو۔
تَصْوِیر کے پچھلے حصّے پر مدھم پنسل سے لکھا تھا: ”رَیحان، ثناء، اور اَلطاف۔
چکوال — ۱۹۷۵ء“
زین نے تَصْوِیر دوبارہ پلٹی، پھر ایک
بار اور۔اُسے اچانک محسوس ہوا کہ وہ اپنے والد کے بارے میں جتنا جانتا تھا، شاید اُس
سے کہیں کم جانتا ہے۔
زین معماری کا طالبِ علم تھا۔ اُسے عمارتوں
سے زیادہ اُن کے اندر کی خاموشی دلچسپ لگتی تھی۔ وہ اکثر سوچتا تھا کہ ہر گھر آہستہ
آہستہ اپنے مکینوں جیسا ہو جاتا ہے۔ کچھ گھروں میں روشنی بسی رہتی ہے، کچھ میں صرف
ترتیب، اور کچھ میں ایسا سکوت، جو دیواروں سے نہیں بلکہ لوگوں سے پیدا ہوتا ہے۔
چکوال کا نام اُس نے کبھی اپنے والد کی
زبان سے نہیں سُنا تھا۔ پھر بھی اگلے ہفتے وہ وہاں موجود تھا۔
شہر پُرانی مٹی کی طرح خشک، خاموش اور
وقت سے کٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ بس اڈّے کے قریب ایک چھوٹے سے چائے خانے میں اُس نے
وہ تَصْوِیر ایک بوڑھے دکاندار کو دکھائی۔
بوڑھے نے تَصْوِیر آنکھوں سے ذرا دُور کر کے دیکھی، پھر اُس
کی نظریں اچانک ٹھہر گئیں۔
”یہ اَلطاف ہیں؟“ زین نے چونک کر سر اُٹھایا۔
بوڑھا کچھ دیر خاموش رہا، جیسے یادداشت
کے کسی زنگ آلود دروازے کو اندر سے کھولنے کی کوشش کر رہا ہو۔
” سخت آدمی تھے…“ اُس نے آہستہ سے کہا، ”بہت سخت۔“
”اور یہ؟” زین نے
لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔
”رَیحان۔ ایک رات
گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔“
”کیوں؟“
بوڑھے نے جواب دینے سے پہلے سگریٹ سلگایا۔
دھواں آہستہ آہستہ اُس کے چہرے کے گرد پھیل گیا۔
”کچھ لوگ اپنے بچوں
کی پرورش نہیں کرتے… اپنی ناکامیوں کا پہرہ بٹھا دیتے ہیں اُن پر۔“
زین دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ سامنے رکھی
چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
اَلطاف کا گھر شہر سے ذرا باہر ایک ڈھلوان
پر تھا۔ زنگ آلود گیٹ آدھا کھلا ہوا تھا۔ صحن میں سوکھے پتے جمع تھے اور دیواروں کا
رنگ نمی سے اُکھڑ چکا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے
ہی زین کو یوں محسوس ہوا جیسے یہاں کبھی آوازیں بہت بلند رہی ہوں، مگر اب اُن کا عکس
بھی مر چکا ہو۔ بیٹھک میں ایک الماری گری پڑی تھی۔ کتابوں کے نیچے ایک ڈائری دبی ہوئی تھی۔
چمڑے کا سرورق نمی سے پھول چکا تھا۔ زین نے پہلا قابلِ مطالعہ صفحہ کھولا۔
”رَیحان پھر ضد
کر رہا تھا۔ کہتا ہے مُصوِّر بنے گا۔ میں نے اُسے سمجھایا، مرد شوق سے نہیں، ذمّہ داری
سے جیتے ہیں۔“ وہ روتا رہا۔ اگلے صفحے پر
تحریر زیادہ بے ترتیب تھی۔
”ثناء نے آج مجھ
سے نظریں چرا لیں۔ اُس کی ماں زندہ ہوتی تو شاید اُسے نرمی سکھا دیتی۔ میں نہیں سکھا
سکا۔“ زین نے پڑھتے پڑھتے ہاتھ روک
لیا۔
کمرے میں شام اُتر رہی تھی۔ کھڑکی سے
آتی ہوا میں بوسیدہ کاغذ کی بُو گھلی ہوئی تھی۔ ڈائری کے اندر ایک تہہ کیا ہوا خط رکھا
تھا۔ خط پر لکھا تھا:
”چاچا جان“
نیچے دستخط تھے:
”ناصر“
زین کے ہاتھ غیر ارادی طور پر سخت ہو
گئے۔
”میں نے رَیحان
کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ مجھے لگا، اگر وہ یہاں رہا تو یا ٹوٹ جائے گا، یا آپ جیسا
ہو جائے گا۔ آپ بُرے
آدمی نہیں ہیں، مگر خوف انسان سے وہ سب کچھ کروا دیتا ہے جسے وہ بعد میں خود بھی پہچان
نہیں پاتا۔ رَیحان
آپ سے ڈرتا ہے۔ ثناء بھی۔ اور شاید… آپ خود سے بھی۔“
زین نے خط بند کر دیا۔ باہر مغرب کی اذان
ہو رہی تھی۔ اُسے پہلی بار اپنے والد کی خاموشی سمجھ آنے لگی تھی۔ لاہور واپس آ کر
اُس نے اپنی والدہ سے تَصْوِیر کا ذکر کیا۔ اُنہوں نے تَصْوِیر دیکھی تو دیر تک خاموش
رہیں، پھر بہت دھیمی آواز میں بولیں: ”یہ تَصْوِیر
تمہارے ابو نے کھنچوائی تھی۔“
”کیوں؟“
”اُنہیں
لگتا تھا شاید ایک تَصْوِیر… ایک لمحہ روک لے گی سب کچھ۔“ وہ چند لمحے رُکیں، پھر بولیں:
”مگر تَصْوِیر بننے
کے فوراً بعد اَلطاف صاحب نے رَیحان کو تھپڑ مار دیا تھا۔“ کمرے
میں خاموشی بھر گئی۔
”تمہارے ابو اُس
رات بالکل نہیں سوئے تھے۔“
”پھر کبھی گئے وہاں؟“
”ہاں… آخری وقت
تک جاتے رہے۔“ دو ہفتے بعد زین کراچی میں
تھا۔
رَیحان کی آرٹ گیلری سمندر کے قریب ایک
تنگ سڑک پر واقع تھی۔ دیواروں پر آدھے چہروں والی پینٹنگز لگی تھیں، جیسے ہر تصویر
میں کوئی شخص آدھا چھپایا گیا ہو۔ رَیحان بوڑھا ہو چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں
عجیب نرمی باقی تھی۔ اُس نے تَصْوِیر کو بہت دیر تک دیکھا۔
پھر مسکرائے بغیر کہا: ”ناصر بھائی نے یہ تمہیں دے دی آخرکار۔“
”آپ اُن سے محبت
کرتے تھے؟“ رَیحان نے جواب دینے سے پہلے
کھڑکی کے باہر دیکھا، جہاں سمندر کی نمی شیشوں پر دھند بٹھا رہی تھی۔ ”کچھ لوگ خون سے رشتہ دار ہوتے ہیں… کچھ رحم
سے۔“ پھر وہ آہستہ سے بولا: ”میرے والد کو بہت ڈر
تھا۔ آدمی جب بہت زیادہ ڈرتا ہے تو اکثر ظالم ہو جاتا ہے۔”
”آپ نے اُنہیں معاف
کر دیا تھا؟“ رَیحان دیر تک خاموش رہا۔
”پتا نہیں۔ لیکن
آخری بار جب میں اُنہیں ملا، وہ بہت تھک گئے تھے۔ اُس دن پہلی بار مجھے وہ اپنے والد
لگے۔“ اُس رات زین دیر تک جاگتا رہا۔
تَصْوِیر میز پر رکھی تھی۔ اُسے اب محسوس ہو رہا تھا کہ تَصْوِیریں صرف چہرے محفوظ
نہیں کرتیں، بعض اوقات انسانوں کی ناکام کوششیں بھی محفوظ رکھ لیتی ہیں۔
ناصر شاید کسی کو مکمل طور پر بچا نہیں
سکے تھے، لیکن وہ خاموش بھی نہیں رہے تھے۔
اور بعض اوقات یہی کافی ہوتا ہے۔
چند دن بعد زین نے وہ تَصْوِیر فریم کروا کے اپنی میز کے سامنے
رکھ دی۔ اب وہ
اُس میں صرف ایک سخت باپ، ایک خوف زدہ بیٹا، اور ایک خاموش لڑکی نہیں دیکھتا تھا۔ اُسے
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے تَصْوِیر میں ایک چوتھا آدمی بھی موجود ہے — وہ، جو فریم میں
نظر نہیں آتا، مگر سب کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ شاید ہر خاندان میں ایک ایسا آدمی ہوتا ہے۔ اور اکثر، اُس کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔
------------
مرکزی خیال
یہ افسانہ خاندانی جبر، خوف، خاموش محبت،
اور اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو خاندانوں کے اندر ثالث بن کر ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو
مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسانہ یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات انسان ظلم
اِس لیے نہیں کرتا کہ وہ فطرتاً ظالم ہوتا ہے، بلکہ اِس لیے کہ اُس کے اندر خوف، ناکامی
اور محرومی جمع ہو چکی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ خاموش مزاحمت اور انسانی ہمدردی
ہمیشہ بے اثر نہیں جاتیں۔
مشکل الفاظ کے معنی
|
لفظ |
معنی |
|
بوسیدہ |
پُرانا اور گلا سڑا |
|
سکوت |
گہری خاموشی |
|
مدھم |
ہلکا، دھندلا |
|
معماری |
Architecture |
|
مصوِّر |
ہاتھ سے تصویر بنانا |
|
ذمّہ داری |
فرض، ذمہ |
|
ثالث |
درمیانی کردار، صلح کروانے والا |
|
پیوست |
جڑی ہوئی |
|
ڈھلوان |
نیچے کو جاتی ہوئی زمین |
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں