یہ افسانہ یہ سبق دیتا ہے کہ وقت پر رشتوں کو اہمیت نہ دی جائے اور احساسات کو دبا دیا جائے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان ساتھ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو کھو دیتے ہیں، اور پیچھے صرف اداسی اور پھیکی (یا کم چینی والی) چائے کی طرح بے ذائقہ یادیں رہ جاتی ہیں۔
شام کے چھ بج رہے تھے جب چھت پر پھیلی ہوئی چادر کی سلوٹوں سے دھوپ سرک کر صحن میں اتری اور پھولوں کی کیاری کے پاس دم توڑ گئی۔ وہ دونوں برآمدے میں رکھی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، بیچ میں رکھی ہوئی چائے کی پیالی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔
’’چائے پی لو، ٹھنڈی ہوئی جا رہی ہے۔‘‘ عائشہ نے کہا، مگر اس کی نظریں سامنے کمرے کے بند دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ دروازے پر لٹکا ہوا پردہ ہوا کے ایک جھونکے سے ذرا سا ہلا اور پھر ساکن ہو گیا۔
شہزاد نے چپ چاپ پیالی اٹھائی اور ایک گھونٹ بھرا۔ چائے میں چینی کم تھی، بالکل ویسے جیسے وہ پچھلے سترہ سالوں سے پیتا آیا تھا، مگر آج حلق سے نیچے اترتے ہوئے اس کا ذائقہ کچھ اور تھا۔ جیسے کوئی پرانی تصویر دھندلا گئی ہو اور آنکھیں ملنے کے بعد بھی صاف نہ ہو رہی ہو۔
’’میں نے صوفہ درزی کو دے دیا ہے،‘‘ عائشہ نے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا۔ آواز میں نہ شکایت تھی، نہ غصہ۔ جیسے کسی حساب کی آخری لکیر کھینچ رہی ہو۔
شہزاد نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی انگلیاں پیالی کے کنارے پر تھمی ہوئی تھیں۔ اسے یاد آیا، وہ صوفہ پندرہ سال پہلے ان دونوں نے ایک ساتھ خریدا تھا۔ دکان پر عائشہ نے اس کا رنگ پسند کیا تھا اور اس نے قیمت پر سودا کیا تھا۔ اس صوفے پر بیٹھ کر انھوں نے اپنی پہلی بیٹی کا نام رکھا تھا، اور اسی صوفے پر بیٹھ کر تین سال بعد ڈاکٹر نے انھیں بتایا تھا کہ دوسری بچی پیدائش سے پہلے ہی مر گئی۔
برآمدے کے کونے میں رکھے ہوئے برتنوں کی الماری کے شیشے میں اس کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے نظریں بچا لیں۔
’’ضروری تو نہیں تھا،‘‘ اس نے کہا اور فوراً محسوس کیا کہ الفاظ میں مزاحمت کی ہلکی سی جھلک تھی۔
عائشہ نے اس بار اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی پرانا سکون تھا جو طوفان سے پہلے سمندر کی سطح پر ہوتا ہے۔ ’’ضروری تو بہت کچھ نہیں تھا، شہزاد۔ مگر تم نے کر دیا نا؟‘‘
وہ پھر خاموش ہو گیا۔
یہ لفظوں کا وہ لمحہ تھا جہاں دونوں جانتے تھے کہ کیا کہا جا رہا ہے اور کس چیز کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، مگر براہِ راست کچھ بھی نہیں کہا گیا۔
نیچے گلی میں کسی بچے کی آواز گونجی، پھر کسی نے تالیاں بجا کر اسے بلایا اور سب کچھ پھر خاموشی میں ڈھل گیا۔ پڑوسی کے گھر سے کوئی ڈرامے کا گانا سنائی دے رہا تھا، مگر الفاظ دھندلے تھے، صرف دھن سمجھ آ رہی تھی۔
عائشہ اٹھی اور صحن کی طرف چل دی۔ اس نے کیاری میں لگے ہوئے گلاب کے پودے سے ایک سوکھا ہوا پتا توڑا اور مٹھی میں دبا لیا۔ پودے کی جڑوں میں نمی تھی، شام کو پانی ڈالا گیا تھا۔ اس کی چپل مٹی میں ذرا سی دھنس گئی۔
’’میں نے وہ خط لکھا تھا،‘‘ شہزاد نے کہا۔ اس کی آواز اب پہلے سے بھاری تھی، جیسے حلق میں کچھ پھنس گیا ہو۔
عائشہ نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اس کی انگلیاں گلاب کی پنکھڑیوں کو چھو رہی تھیں، جن کا رنگ ڈھلتے سورج میں نیلگوں ہو رہا تھا۔
’’جانتے ہو،‘‘ اس نے کہا اور اس کی آواز میں ایک عجیب سی تھکن تھی، ’’تم جب دفتر سے دیر سے آتے تھے تو میں اس برآمدے میں بیٹھ کر تمھارا انتظار کرتی تھی۔ سترہ سال۔ ہر بار جب گیٹ کھلتا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ آج تم وہ کام کر لو گے جو میں نے کہا تھا۔ مگر تم نے کبھی نہیں کیا۔‘‘
وہ خاموش تھی، مگر اس کی خاموشی بول رہی تھی۔ ہر لفظ ایک الگ تہہ سے اٹھ رہا تھا، پرانے زخموں کی پرتوں سے گزرتا ہوا۔
’’اور ایک دن میں نے انتظار کرنا چھوڑ دیا،‘‘ اس نے پنکھڑی توڑی اور اسے زمین پر ڈال دیا۔ پنکھڑی ہوا میں لہرائی اور کیاری کی گیلی مٹی سے چپک گئی۔
شہزاد اٹھا۔ اس کی چائے کی پیالی اب ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اندر کمرے سے ٹیلیفون کی گھنٹی سنائی دی، مگر کوئی اٹھانے نہیں گیا۔ گھنٹی بجتی رہی اور پھر بند ہو گئی۔
’’خط لکھنے کے بعد،‘‘ اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا، جیسے وہ کسی اور کے ہاتھ ہوں، ’’میں نے سوچا کہ میں یہ کام تم سے چھپا لوں گا۔ مگر جب میں نے وہاں بھیجا، تو مجھے لگا کہ یہی صحیح ہے۔‘‘
عائشہ مڑی۔ اس کا چہرہ اب ڈھلتی روشنی میں آدھا روشن تھا، آدھا سائے میں۔ یوں جیسے اس کا آدھا وجود یہاں ہے اور باقی کہیں اور، کسی اور وقت میں، کسی اور عورت کے اندر۔
’’صحیح،‘‘ اس نے دہرایا، اور اس لفظ کو چکھا جیسے کوئی کڑوی دوا ہو۔ ’’مگر تم نے مجھ سے پوچھا نہیں۔‘‘
یہ جملہ وہ آخری اینٹ تھی جو دیوار میں لگتی ہے اور پورا ڈھانچہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
شہزاد کو محسوس ہوا کہ اس کی گردن پر کوئی بوجھ ہے، جیسے ہوا بھاری ہو گئی ہو۔ اس نے اپنے جوتوں کی طرف دیکھا، ان پر دھول تھی، اور وہ دھول بھی اسے کسی اور ہی دھول کی یاد دلا رہی تھی۔ کسی اور شہر کی، کسی اور گلی کی، جہاں سے اس نے وہ خط بھیجا تھا۔
’’میں معافی مانگنے نہیں آیا، عائشہ،‘‘ اس نے کہا۔
’’جانتے ہو،‘‘ اس نے ایک لمبی سانس کھینچی، جیسے پورے صحن کی ہوا اپنے اندر اتار رہی ہو، ’’معافی کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب میں جب اس چارپائی پر بیٹھتی ہوں، تو مجھے وہ عائشہ یاد آتی ہے جو سترہ سال پہلے تھی۔ اور وہ عورت اب نہیں ہے۔‘‘
وہ رکی، اپنی انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو گھمایا، جس کا نگ آسمان کی طرح نیلا تھا اور بیچ میں ایک باریک سی شگاف تھی۔
’’اور نہ تم وہ شہزاد رہے،‘‘ اس نے کہا۔
پھر وہ اس کے پاس سے گزرتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازے کے پاس پہنچ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکی۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا، مگر اس کے کندھوں کی جنبش سے شہزاد سمجھ گیا کہ وہ کچھ اور کہنا چاہتی ہے۔ مگر اس نے نہیں کہا۔ اس نے پردہ ہٹایا اور اندر چلی گئی۔
دروازہ کھلا رہا۔
برآمدے میں اب صرف وہ تھا، ٹھنڈی چائے کی پیالی، اور بجھتی ہوئی شام۔ اس نے پیالی اٹھائی اور چائے کا آخری گھونٹ بھر لیا۔ چائے اب بالکل ٹھنڈی تھی، مگر حلق سے نیچے اترتے وقت اسے محسوس ہوا کہ اس کا ذائقہ نمکین ہے۔
اس نے اپنی آنکھوں کے کونے چھوئے۔ انگلیاں گیلی تھیں۔
وہ جان چکا تھا کہ صبح وہ چلا جائے گا۔ مگر وہ یہ بھی جان چکا تھا کہ جانے کا مطلب وہ نہیں ہے جو وہ سمجھتا تھا۔ جانے کا مطلب یہ تھا کہ آنے والے سترہ سالوں میں جب بھی وہ چائے بنائے گا، چینی کم ڈالے گا۔
دروازہ اب بھی کھلا تھا، اور اس میں سے باورچی خانے کی ہلکی سی روشنی باہر آ رہی تھی۔ اس روشنی میں اس نے دیکھا کہ اس کے جوتوں پر پڑی دھول اب بھیگ کر مٹی بن رہی تھی۔
صحن میں گلاب کی پنکھڑی مٹی میں دھنس چکی تھی۔
---
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں