اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔ بڑھیا کو رحم آگیا۔ اس نے دروازہ کھول دیا لیکن پھر فوراً ہی بولی: ’’تمہیں پناہ تو مل سکتی ہے لیکن کچھ کھانے پینے کی امید مت رکھنا۔ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے، کسی بستی کے باہر ایک بڑھیا رہتی تھی۔ ویسے تو وہ بہت اچھی تھی۔ مہربان، ملنسار اور محبت کرنے والی، لیکن بس ذرا کنجوس تھی۔ دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی، بہت محبت اور خلوص سے پیش آتی لیکن جیسے ہی کوئی اس سے کوئی چیز مانگتا فوراً ہی مسکین سی صورت بنالیتی اوراپنے آپ کو دنیا کی غریب ترین ہستی ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتی۔ سب لوگ بڑھیا کی اس عادت سے واقف تھے لہٰذا اس سے کچھ مانگنے سے گریز ہی کرتے۔ یہاں تک کہ اس کے گھر آنا جانا بھی کوئی پسند نہ کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے اس سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیا۔ بڑھیا اگر کسی سے بات کرنے کی کوشش بھی کرتی تو وہ منہ پھیر کرچلا جاتا۔ یوں بڑھیا بالکل تنہا ہوکر رہ گئی۔ بڑھاپے کے باوجود اپنا ہر کام خود کرتی۔ کوئی اس کا پرسان حال نہیں تھا۔ لوگوں کے تکلیف دہ رویے کی وجہ سے وہ بہت چڑچڑی اور بدمزاج ہوگئی تھی۔ ایک مرتبہ سردیوں کی ایک...