نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کلہاڑی کا شوربہ

اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔ بڑھیا کو رحم آگیا۔ اس نے دروازہ کھول دیا لیکن پھر فوراً ہی بولی: ’’تمہیں پناہ تو مل سکتی ہے لیکن کچھ کھانے پینے کی امید مت رکھنا۔ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
بہت پہلے کی بات ہے، کسی بستی کے باہر ایک بڑھیا رہتی تھی۔ ویسے تو وہ بہت اچھی تھی۔ مہربان، ملنسار اور محبت کرنے والی، لیکن بس ذرا کنجوس تھی۔ دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی، بہت محبت اور خلوص سے پیش آتی لیکن جیسے ہی کوئی اس سے کوئی چیز مانگتا فوراً ہی مسکین سی صورت بنالیتی اوراپنے آپ کو دنیا کی غریب ترین ہستی ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتی۔ سب لوگ بڑھیا کی اس عادت سے واقف تھے لہٰذا اس سے کچھ مانگنے سے گریز ہی کرتے۔ یہاں تک کہ اس کے گھر آنا جانا بھی کوئی پسند نہ کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے اس سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیا۔ بڑھیا اگر کسی سے بات کرنے کی کوشش بھی کرتی تو وہ منہ پھیر کرچلا جاتا۔ یوں بڑھیا بالکل تنہا ہوکر رہ گئی۔ بڑھاپے کے باوجود اپنا ہر کام خود کرتی۔ کوئی اس کا پرسان حال نہیں تھا۔ لوگوں کے تکلیف دہ رویے کی وجہ سے وہ بہت چڑچڑی اور بدمزاج ہوگئی تھی۔
ایک مرتبہ سردیوں کی ایک رات زبردست طوفان آگیا۔ بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک سے کان پھٹے جارہے تھے۔ بڑھیا سہم کر بستر میں دبک گئی۔ وہ تنہا اور خاموش اپنے بستر میں لیٹی سوچوں میں گم تھی۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ بڑھیا نے سمجھا، شاید یہ اس کا وہم ہو، لیکن نہیں۔ دستک دوبارہ سنائی دی بلکہ اب تو کوئی لگاتار دروازہ پیٹ رہا تھا۔ بادل زور زور سے گرج رہے تھے، بجلی چمک رہی تھی۔ رات بہت ڈرا?نی تھی۔ بڑھیا خوف زدہ ہوگئی لیکن جب دستک مسلسل ہوتی ہی چلی گئی تو بڑھیا ہمت کرکے اٹھی، کانپتی ہوئی دروازے پر پہنچی اورکپکپاتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’ کون ہے ؟‘‘ باہر سے چلا کر کہا گیا :’’میں ایک بیمار مسافر عورت ہوں۔ مجھے رات بھر کے لیے پناہ چاہیے۔‘‘
بڑھیا نے جواب دیا: ’’میں گھر میں اکیلی ہوں۔ اس لیے تمہیں پناہ دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ اگر تم کوئی چور اچکی نکلی تو۔‘‘
’’اماں جی! میں بیمار ہوں، اگر آپ نے اس طوفانی رات میں مجھے پناہ نہیں دی تو میں ٹھٹھر کر مرجا?ں گی۔ اللہ کے لیے دروازہ کھولیے۔‘‘ اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔ بڑھیا کو رحم آگیا۔ اس نے دروازہ کھول دیا، لیکن پھر فورا ہی بولی:
’’تمہیں پناہ تو مل سکتی ہے لیکن کچھ کھانے پینے کی امید مت رکھنا۔ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ بیچا ری نے بڑھیا سے وعدہ کیا کہ وہ کسی چیز کا تقاضا نہیں کرے گی۔
اندر آکر اس نے جلتی ہوئی آگ کے سامنے اپنا لباس خشک کیا اور سونے کی غرض سے بستر پر لیٹ گئی لیکن اسے بہت بھوک محسوس ہورہی تھی اس لیے اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ بڑھیا سے کھانے کے لیے کیسے کچھ حاصل کیا جائے۔ آخر ایک ترکیب اس کے ذہن میں آئی۔ اس نے بڑھیا سے کہا: ’’اماںکیوں نہ کلہاڑی کا شوربہ پکایا جائے‘‘ ’’وہ کیسے پکایا جاتاہے۔‘‘ بڑھیا نے حیران ہو کر کہا۔
’’ایک ہنڈیا اور چمچہ تو آپ کے پاس ہوگا۔ لائیے میں آپ کو کلہاڑی کا شوربہ پکا کر دوں۔‘‘
بڑھیا جلدی سے ہنڈیا اورچمچ لے آئی۔ عورت نے اپنی کلہاڑی کو دھوکر ہنڈیا میں ڈالا اور اس میں پانی بھر کر پکنے کے لیے چولہے پر چڑھا دیا اور پھر بہت محبت بھرے انداز میں بڑھیا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی۔ بڑھیا اس کی ہمدردی اور اخلاق سے بہت متاثر ہوئی اور اس کے دل سے تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے۔
با توں کے دوران عورت نے ہنڈیا میں سے کچھ پانی لے کر چکھا اور بولی:
’’بہت اچھا پک رہا ہے، لیکن اگر تھوڑی سی دال اس میں ڈال دی جاتی تو کیا ہی بات تھی۔‘‘
بڑھیا کچھ سوچ کر اٹھی اور تھوڑی سی دال لے آئی۔ عورت نے دال صاف کر کے ہنڈیا میں ڈال دی۔ ہنڈیا پکتی رہی اور ساتھ ساتھ باتیں بھی جاری رہیں۔ عورت نے اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے بڑھیا کا دل موہ لیا تھا۔ چند لمحے اس نے پھر شوربہ چکھا اور بولی:
’’اماں ! شوربہ تو بہت مزیدار تیار ہوا ہے، لیکن اگر کچھ نمک اور مرچ بھی اس میں شامل ہوجاتا، تو مزا دوبالا ہوجاتا۔ خیر! آپ کے پاس تو گھر میں کچھ نہیں ہے۔ ایسے ہی گزارا کرلیتے ہیں۔‘‘
بڑھیا بولی: ’’ ٹھہرو! میں دیکھتی ہوں، شاید مل جائیں۔‘‘ یوں وہ نمک مرچ بھی لے آئی جب کچھ مزید پک چکا تو عورت نے پھر شوربہ چکھ کر دیکھا اور کہا: ’’واہ کیا کہنے! کاش تھوڑا سا دیسی گھی مل جاتا۔‘‘ پھر جلدی سے بولی ’’چلیے خیر کوئی با ت نہیں‘‘
بڑھیا خاموشی سے گئی اور اور دیسی گھی بھی لے آئی جب شوربہ اچھی طرح تیار ہوگیا، تو عورت نے برتن میں ڈال کر بڑھیا کو پیش کیا۔ ساتھ ہی چپکے سے یہ بھی کہہ دیا: ’’اگر آپ اس کو چپاتی کے ساتھ کھاتیں، تو مزا دوچند ہوجاتا۔‘‘
بڑھیا خوشی خوشی رات کی پکی ہوئی روٹیاں بھی اٹھا لائی۔ عورت نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور آرام سے سوگئی۔ صبح تڑکے عورت تو اپنی منزل کو سدھاری، مگر بڑھیا اکثر اس مسافر عورت اور کلہاڑی کے شوربے کو یاد کرتی۔
دیکھا، آپ نے کلہا ڑی کا شوربہ پکانے کا کتنا فائدہ ہے؟

📢 اہم معلومات اور نئی تحریریں!

اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ مستقبل میں بھی ایسے بہترین افسانے اور تراجم براہِ راست اپنے موبائل پر پانا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں۔

👉 واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...