نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چادر Chadar

بعض ڈھالیں پہن لی جائیں تو چہرہ نہیں، شناخت بچتی ہے۔  

*مرکزی خیال*  

چادر صرف کپڑا نہیں۔ یہ ڈھال ہے، امانت ہے۔ جو عورت کو گرنے سے نہیں، ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔



فاطمہ کی عمر پچاس تھی۔ پچاس سال سے چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ حنا نے کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

ہر صبح وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی۔ چادر سنبھالتی۔ کنارہ انگلیوں سے چھوتی۔ جیسے پرانی یاد کا دھاگہ ہو۔

حنا جدید خیالوں والی ہو گئی تھی۔ ایک دن بولی: "اماں، اب کوئی پردہ نہیں کرتا۔ یہ پرانا رواج ہے۔"

فاطمہ مسکرائی۔ مسکراہٹ میں کچھ چھپا تھا۔ جیسے کہانی خود موت لکھ رہی ہو۔

صندوق سے پرانی تصویر نکالی۔ ایک نوجوان لڑکی۔ بغیر چادر کے۔ ساتھ بزرگ۔

"یہ میں ہوں۔" فاطمہ نے کہا۔ "یہ میرے والد ہیں۔"

حنا چونکی۔ "تم پردہ کرتی تھی؟"

فاطمہ نے تصویر الٹ دی۔ پشت پر لکھا تھا: "میری بیٹی کی پہلی اور آخری تصویر بغیر چادر کے۔"

"کیوں؟" حنا نے پوچھا۔

فاطمہ نے چادر اتاری۔ حنا نے پہلی بار ماں کا چہرہ دیکھا۔ خوبصورت تھا۔ دائیں گال پر گہرا، سکڑا نشان۔ جیسے پنجہ کھنچ گیا ہو۔

"اس دن اسکول بغیر چادر گئی۔ والد نے روکا۔ میں نہ مانی۔ راستے میں کتے نے حملہ کر دیا۔ والد نے بچایا۔ یہ نشان رہ گیا۔ اسی دن انہوں نے چادر دی۔ کہا: 'یہ تیری ڈھال ہے، بیٹی۔ کبھی مت اتارنا۔'"

حنا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

فاطمہ نے چادر واپس اوڑھ لی۔ آواز نرم تھی، پختہ تھی: "پردہ میری کمزوری نہیں، بیٹا۔ یہ امانت ہے۔ والد کی۔ میں نے نبھائی۔"

حنا نے ماں کے گرد بازو ڈالے۔ محسوس ہوا، چادر کی تہوں میں چہرہ نہیں، وقار چھپا تھا۔ ایک تاج جو دکھائی نہ دے، چمکے ضرور۔


دھوپ کمرے میں آئی۔ چادر پر پڑی۔ دھاگے چمک گئے۔ جیسے کوئی پرانی قسم تازہ ہو گئی ہو۔


--------------

مشکل الفاظ کے معنی

سُکڑا ہوا: سمٹا ہوا، سکڑن والا نشان  

امانت: سونپی ہوئی چیز، بھروسے کی چیز  

وقار: عزت، مرتبہ، شان  

ڈھال: بچاؤ، سپر


ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...