![]() |
| بعض آگ بجھ نہیں جاتی، بس کسی کی ہتھیلی کا انتظار کرتی ہے۔ |
مرکزی خیال:انسان تنہائی میں بجھ جاتا ہے۔ مگر کسی کی طرف دیکھتا ہوا ایک چھوٹا شعلہ اسے دوبارہ جلا دیتا ہے۔ گرمی لینے کے لیے بڑی آگ نہیں، صرف ایک آنکھ چاہیے۔
چولھا بجھ چکا تھا۔
رکھراج نے آخری انگارے کو دیکھا۔ کبھی شعلہ تھا۔ اب سرخی مائل سیاہی۔ ٹھنڈی راکھ میں وہ اکیلا تپ رہا تھا۔ اس کی تپش کوئی نہ جان سکا۔
کمرے میں دیواروں پر کتابیں تھیں۔ تصویریں جن میں لوگ مسکرا رہے تھے۔ ریڈیو جو کبھی نہ بجا۔ بیوی کو مرے چار برس ہوئے تھے۔ بیٹا کینیڈا سے فون کرتا تھا۔ مہینے میں ایک بار۔ سات منٹ۔ پوتا اردو نہ بولتا تھا۔
رکھراج نے کھڑکی کھولی۔ باہر برف پڑ رہی تھی۔
سڑک کے اُس پار مکان میں روشنی تھی۔ شیشے پر بھاپ جمی تھی۔ اندر لوگ ہوں گے۔ چائے پیتے ہوں گے۔ کوئی ہنسی ہوگی۔ کوئی جھگڑا۔ کوئی خاموشی جو تنہا نہ ہو۔
اس نے ہاتھ بڑھایا۔ برف کے قطرے مٹھی میں پگھل گئے۔
پچھلے کمرے میں الماری کھولی۔ اوپر شیلف پر مٹی کا دیا تھا۔ ساس کا دیا۔ شادی پر دیا تھا۔ "ہمیشہ روشن رکھنا، بہو۔" بیوی نے رکھا، جب تک رہی۔
اب تیل نہیں تھا۔
رکھراج نے دیا ہاتھ میں لیا۔ مٹی ٹھنڈی تھی۔ سوکھی۔ باورچی خانے لے گیا۔ چولھے پر آخری انگارا تھا۔ ایک نقطہ۔ سرخ نقطہ۔ جیسے آنکھ جو بند نہ ہو۔
اس نے دیا انگارے پر رکھ دیا۔
کچھ نہ ہوا۔
پھر دونوں ہتھیلیاں دیے کے گرد رکھ دیں۔ انگلیوں کا قفس بنا دیا۔ ہوا بند ہو گئی۔
انگارے نے سانس لی۔
چھوٹی لپک اٹھی۔ بتی پکڑی۔ پیلے شعلے نے کمرے میں سائے بنائے۔
رکھراج نے دیا اٹھایا۔ کھڑکی پر رکھ دیا۔ باہر برف میں دائرہ پگھل گیا۔ شیشے پر بھاپ اترنے لگی۔ اس طرف بھی۔
سامنے کھڑکی کھلی۔ بوڑھی عورت نے دیکھا۔ دیر تک دیکھتی رہی۔ پھر ہاتھ ہلایا۔
رکھراج نے ہاتھ ہلایا۔
شعلہ کانپا۔ ہوا سے نہیں۔ کسی اور چیز سے۔
اس رات چولھا نہ بجھایا۔ انگارے کو راکھ میں دبا دیا۔ تاکہ صبح تک گرم رہے۔
----------------------
*مشکل الفاظ کے معنی*
انگارہ: بجھا ہوا مگر گرم کوئلہ
سرخی مائل: سرخ کی طرف مائل، سرخ جھلک والا
قفس: پنجرہ، جالی
لپک: شعلے کی چھوٹی زبان
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗
---
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں