نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آخری دعوت Aakhri Dawat

 



مرکزی خیال:

انسانی رویوں میں منافقت اور طبقاتی برتری کی نفسیات وقتاً فوقتاً انسان کو اندر سے توڑتی ہے۔
اصل تبدیلی بیرونی اصلاح نہیں بلکہ داخلی شعور کی بیداری سے جنم لیتی ہے۔
ضمیر سے فرار ممکن نہیں، وہ دیر یا سویر اپنی آواز واپس لے آتا ہے۔


رانا اعجاز نے چائے کا آخری گھونٹ ایسے نگلا جیسے کسی فیصلے کو حلق سے نیچے اتار رہے ہوں۔ ان کی کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی ہال کی مدھم سنہری روشنی میں لمحوں کو کاٹتی جا رہی تھی۔ شمیم میموریل ہال کا وسیع بال روم دولت کی بے آواز چیخوں سے بھرا ہوا تھا—چمکتے فانوس، پالش شدہ فرش، اور مہنگے عطر کی تہہ در تہہ گھٹن۔

یہ ظہیر سلطان کی دعوت تھی۔ شہر کے ان لوگوں کے لیے جو اپنی موجودگی سے محفلیں معتبر کرتے تھے۔

رانا اٹھے۔ کوٹ کی شکنیں درست کیں اور ہال میں آہستہ قدم رکھنے لگے۔ ہر چہرہ ایک حساب تھا، ہر مسکراہٹ ایک سودے کی پیشگی قسط۔

کونے میں ان کی نظر ٹھہر گئی۔

ایک بوڑھا آدمی۔

سید صاحب۔

پچاس برس پہلے یہی آدمی دفتر کی فائلوں میں جھکا ہوا کلرک تھا، اور رانا اسی میز پر اس کے برابر بیٹھا خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب خواب رانا کے پاس تھے، اور سید صاحب کے پاس صرف وقت۔

ان کے کپڑے سادہ تھے مگر صاف۔ چہرے پر عمر کی لکیر نہیں، جیسے وقت نے وہاں رک کر صرف تھکن لکھی ہو۔

رانا نے پلکیں جھپکائیں اور نگاہ پھیر لی۔ جیسے وہ شخص وہاں تھا ہی نہیں۔

"رانا صاحب! آپ یہاں؟"

ظہیر سلطان کی آواز نے جیسے فضا کو خوشبو میں بدل دیا۔

رانا کے چہرے پر فوراً روشنی اتر آئی۔

"ظہیر بھائی، یہ آپ کی محبت ہے… ورنہ ہم کہاں اس قابل۔"

ہاتھ ملاتے ہوئے ان کی ہنسی میں گرم جوشی تھی، اور لفظوں میں موم۔ باتوں کے درمیان وہی سوال، وہی رسمی ہمدردی:

"فلاحی فنڈ…؟"

"کل دفتر آ جائیے گا، سب طے ہو جائے گا۔"

ظہیر نے کمر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دیا۔ دنیا ایک لمحے کو آسان لگنے لگی۔

رانا آگے بڑھے تو دل کسی ہلکی فتح سے بھرا ہوا تھا۔ مگر پھر وہی کونا… وہی چہرہ… سید صاحب۔

قدم جیسے کسی پوشیدہ لکیر پر رک گئے۔

ایک لمحہ۔

پھر اگلا قدم۔

اور وہ گزر گئے۔

جیسے انسان نہیں، یادیں نظر انداز کی جاتی ہیں۔

(2)

دعوت ختم ہوئی تو رات شہر پر اتر چکی تھی۔ رانا کی گاڑی چمکتی ہوئی سڑک پر تیر رہی تھی۔ ڈرائیور نے پوچھا:

"سر، کہاں جانا ہے؟"

"گھر۔"

اور پھر خاموشی۔

گھر پہنچ کر بھی خاموشی ان کے ساتھ داخل ہو گئی۔

رات کے کسی غیر متعین پہر فون بجا۔

اجنبی نمبر۔

"ہیلو؟"

دوسری طرف آواز تھی—نہ مرد، نہ عورت، بس ایک لہجہ: "آپ نے آج سید صاحب کو دیکھا تھا… اور نہیں دیکھا۔"

رانا کے ہاتھ میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا۔

"آپ کون ہیں؟"

"وہ ضمیر جو آپ نے ہال میں اتار دیا تھا۔"

لائن کٹ گئی۔

(3)

اگلے دن دفتر میں چیزیں بدلنے لگیں۔

فائلیں اپنی جگہ سے غائب ہونے لگیں۔ سسٹم بغیر وجہ کے رک جاتا۔ ملازمین ایک دوسرے پر شک کرنے لگے۔ اور رانا

وہ ہر آواز پر چونک اٹھتے تھے۔

ہر فون کال ایک دھمکی بن چکی تھی۔

رات کو پھر پیغام آیا۔

"یہ صرف آغاز ہے۔"

رانا نے موبائل دیوار کی طرف دے مارا۔

مگر دیوار ٹوٹی نہیں تھی… وہ خود ٹوٹنے لگے تھے۔

(4)

ایک شام دفتر کے باہر گاڑی پر ایک کاغذ چپکا ملا۔

"آخری موقع۔ سید صاحب کے پاس جائیے۔"

اس بار نیند نے ان سے معاہدہ توڑ دیا۔

اگلی صبح وہ گئے۔

بغیر خواہش کے، صرف سکون کی تلاش میں۔

(5)

گلیاں تنگ تھیں، جیسے شہر نے اپنی دولت کو اندر سمیٹ لیا ہو اور غربت کو باہر دھکیل دیا ہو۔

دروازہ کھلا۔

سید صاحب۔

"رانا…؟"

آواز میں حیرت کم، تھکن زیادہ تھی۔

"جی… میں آیا ہوں۔"

اندر کمرہ سادہ تھا۔ دیواریں خاموش، اور ہوا میں پرانی یادوں کی نمی۔

رانا نے رسمی ہمدردی کا لباس پہن لیا۔

"آپ کیسے ہیں؟"

"زندہ ہوں۔"

بس۔

بات ختم نہیں ہوئی تھی، مگر وزن ختم ہو گیا تھا۔

وہ بیس منٹ بعد اٹھ آئے۔

"آپ سے مل کر اچھا لگا۔"

جھوٹ تھا۔

مگر اس بار جھوٹ بھی کمزور تھا۔

(6)

اسی رات گاڑی کے سامنے ایک سایہ کھڑا تھا۔

لمبا کوٹ، آدھا چھپا چہرہ۔

"رانا صاحب…"

"تم پھر؟"

اس بار آواز میں خوف نہیں، تھکن تھی۔

چہرہ آہستہ سے ظاہر ہوا۔

یہ ظہیر سلطان کا معاون تھا۔

"میں سید صاحب کا بھتیجا ہوں۔"

خاموشی۔

"آپ نے ہمیں بھلا دیا تھا… میں نے آپ کو یاد دلایا۔"

رانا کے اندر کچھ گر گیا۔

"دفتر کے واقعات…؟"

"سب میں نے کیا۔"

لفظ سادہ تھے، مگر اثر گہرا۔

"کیوں؟"

"کیونکہ آپ جیسے لوگ سمجھتے ہیں کہ معافی بھی وقت دیکھ کر دی جاتی ہے۔"

وہ رکا۔

"اب آپ گئے تھے۔ مگر دل سے نہیں۔ صرف دباؤ سے۔"

اور وہ چل دیا۔

پیچھے صرف ہوا رہ گئی۔

(7)

اس بار رانا سید صاحب کے پاس گئے۔

کوئی ماسک نہیں۔

کوئی مسکراہٹ نہیں۔

صرف ایک ٹوٹا ہوا انسان۔

"میں نے آپ کو نہیں دیکھا… مگر آج میں خود کو دیکھ رہا ہوں۔"

خاموشی۔

پھر سید صاحب نے کہا:

"بس یہی کافی ہے۔"

(8)

دن بدلنے لگے۔

رانا نے سید صاحب کے بیٹے کو اپنے دفتر میں بلا لیا۔

ظہیر سلطان سے بھی ملے۔

اور پہلی بار جھکنے میں انہیں زمین نہیں، سکون محسوس ہوا۔

(9)

ایک نئی دعوت تھی۔

اسی شہر میں۔

اسی ہال میں۔

مگر اس بار میزبان بدل گیا تھا۔

رانا اعجاز۔

ہال میں ہر طبقہ موجود تھا۔

مگر اب کوئی کونا خالی نہیں تھا۔

رانا ہر شخص سے اسی طرح مل رہے تھے جیسے انسان انسان سے ملتا ہے—نہ اوپر، نہ نیچے۔

نہ حساب، نہ سود۔

صرف موجودگی۔

(10)

لیکن ہال کی روشنی میں کہیں ایک سوال ابھی بھی باقی تھا:

کیا یہ سب واقعی بدلاؤ ہے… یا صرف ایک بہتر اداکاری؟

اور یہ سوال ہال کی دیواروں پر نہیں، رانا کے اندر گونج رہا تھا۔

خاموش… مگر زندہ۔

---------------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

·         منافقانہ: دوغلا، ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور

·         وقار: عزت اور سنجیدگی

·         فلاحی: بھلائی اور مدد سے متعلق

·         تہہ در تہہ: ایک کے اوپر ایک

·         ضمیر: اندر کی اخلاقی آواز

·         سکوت: خاموشی

ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...