مرکزی خیال :
انسان عزتِ نفس کے بل بوتے پر دوسروں کے زخموں (پتھروں) کو اپنی تعمیر کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ سب سے بڑی فتح خاموشی سے اپنی قدر منوانا ہے۔
بچے کہتے، "بوڑھا دیوانہ۔" پتھر اٹھاتے۔ گول، ہاتھ میں آنے والے۔
پہلا پتھر کندھے پر لگا۔ بوڑھے نے آنکھ نہ کھولی۔ دوسرا سینے پر گرا۔ اٹھایا۔ پلٹ کر دیکھا۔ بچے بکھر گئے۔ پتھر قمیض کے دامن میں رکھ لیا۔
تین سال گزر گئے۔ پتھر آتے رہے۔ بازو پر۔ پیٹھ پر۔ پیشانی کی ہڈی پر۔ بوڑھا نہ چلایا۔ نہ رویا۔ دامن بڑھاتا۔ پتھر سمیٹتا۔ غروب سے پہلے غائب ہو جاتا۔
لوگ کہتے، "پتھر جمع کرتا ہے۔" کچھ ہنستے۔ کچھ راستہ بدل لیتے۔
ساتویں سال دامن بھاری ہو گیا۔ چلتے ہوئے لڑکھڑاتا۔ شام کو جھونپڑی جاتے ہوئے زمین پر نشان بن جاتے۔
بارہویں سال لوگوں نے دیکھا۔ اب پتھر نہیں اٹھاتا۔ بچے پھینکتے، وہ مسکراتا رہتا۔ ایک دن چند لوگ پیچھے ہو لیے۔
جھونپڑی کے اندر پتھر گم تھے۔
ان کی جگہ تین فٹ کی منار تھی۔ ہاتھوں کی رگڑ سے چمکتی ہوئی۔ کوئی اوزار نہیں۔ کوئی گارا نہیں۔ پتھر ایک دوسرے پر ایسے رکھے تھے جیسے ہوا نہ نکل سکے۔
بوڑھے نے اشارہ کیا۔ بولا، "انہوں نے پھینکے تھے۔ میں نے جوڑے۔"
پھر وہ پتھر اٹھایا۔ جو سب سے پہلے دل پر لگا تھا۔ منار کی چوٹی پر رکھ دیا۔ اس رات وہیں سو گیا۔
صبح مرا ہوا ملا۔ ہاتھ پتھر پر تھے۔ منار سر کے پاس کھڑا تھا۔
لوگوں نے کہا، "اتنی مشکل سے مرتا ہے۔"
اس کی آنکھوں پر خاموشی تھی۔ جیسے آخری پتھر خود دل پر رکھ لیا ہو۔
*مشکل الفاظ کے معنی*
سنگِ تراش: پتھر تراشنے والا، پتھر جوڑنے والا
دامن: قمیض کا نیچے والا پھیلا ہوا حصہ
منار: اونچی، تنگ عمارت، یہاں پتھروں سے بنی یادگار
ہڈی: جسم کی سخت ہڈی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں