وہ بستر پر لیٹا تھا۔ چھت پر چھپکلی جمی تھی۔ آنکھیں بند۔ اسے لگا وہ بھی جم گیا ہے۔ سوائے سینے کے۔ وہاں دل تھا۔ دھڑک۔ دھڑک۔ دھڑک۔
انگلیاں سینے پر رکھیں۔ گننے لگا۔ ایک، دو، تین۔ پچاس پر ہاتھ اٹھا لیا۔ پھر رکھ دیا۔ نل بند کرنا چاہتا تھا۔ دل نوکر نہ تھا۔
بیوی نے آواز دی، "کھانا کھاؤ گے؟"
جواب نہیں دیا۔ سوچ رہا تھا۔ اگر دھڑکن روک لوں تو کسی کی ضرورت نہ رہے۔ نہ بیوی کی۔ نہ بیٹے کی۔ جو پردیس میں تھا۔ فون کبھی نہیں کرتا تھا۔
بیوی پلیٹ لے کر آئی۔ اس نے منہ پھیر لیا۔ پلیٹ رکھی گئی۔
"اتنی دیر سے کیا سوچ رہے ہو؟" بیوی نے پوچھا۔
"سانس میرے بس میں نہیں۔ تو تم کون ہوتی ہو میرے بس میں؟"
بیوی چپ ہو گئی۔ باہر چلی گئی۔
رات کو نیند ٹوٹی۔ سینے میں درد تھا۔ بیوی سو رہی تھی۔ ہاتھ بڑھایا۔ جگانے کے لیے۔ بیچ میں رک گیا۔ سوچا، جو اپنا دل نہ روک سکے، وہ دوسرے کا دل کیا روکے گا۔
اٹھا۔ بغیر جگائے۔ آنگن میں آیا۔ ہوا ٹھنڈی تھی۔ گہری سانس لی۔ پھر دوسری۔ تیسری۔ ہوا اندر اتر رہی تھی۔ رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ شکر گزار ہوا۔
صبح بیوی نے آنگن میں پایا۔ مسکرا رہا تھا۔
"کیا ہوا؟" بیوی نے پوچھا۔
"آج سانس لینا سیکھ گیا۔"
"پاگل ہو گئے ہو۔"
"شاید۔ اب کسی کا محتاج نہیں۔"
بیوی نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ اندر چلی گئی۔
وہ آنگن میں بیٹھا رہا۔ سانسیں سن رہا تھا۔ پہلی بار سمجھا۔ یہ سانسیں اس کی ملکیت نہیں۔ قرض ہیں۔ ہر لمحہ ادا ہو رہا ہے۔ بغیر شرط کے۔
--------------
*مشکل الفاظ کے معنی*
محتاج: ضرورت مند، دوسرے پر انحصار کرنے والا
پردیس: پردیس، دوسرا ملک یا شہر
جم جانا: ساکت ہو جانا، حرکت نہ کرنا
شکر گزار: شکر ادا کرنے والا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں