نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Saans Ka Qarz سانس کا قرض

کیا ہم واقعی اپنے وجود کے مالک ہیں یا صرف ایک قرض اتار رہے ہیں؟

مرکزی خیال : انسان کی اپنی ذات کے بنیادی نظام (سانس، دھڑکن) پر عدمم اختیار، اور اسی بے بسی کے احساس سے جنم لینے والی وہ غلط فہمی کہ وہ دوسروں کو اپنی خوشی کا مرکز بنا سکتا ہے۔ آخر میں شکر اور قناعت ہی حقیقی سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔



وہ بستر پر لیٹا تھا۔ چھت پر چھپکلی جمی تھی۔ آنکھیں بند۔ اسے لگا وہ بھی جم گیا ہے۔ سوائے سینے کے۔ وہاں دل تھا۔ دھڑک۔ دھڑک۔ دھڑک۔

انگلیاں سینے پر رکھیں۔ گننے لگا۔ ایک، دو، تین۔ پچاس پر ہاتھ اٹھا لیا۔ پھر رکھ دیا۔ نل بند کرنا چاہتا تھا۔ دل نوکر نہ تھا۔

بیوی نے آواز دی، "کھانا کھاؤ گے؟"

جواب نہیں دیا۔ سوچ رہا تھا۔ اگر دھڑکن روک لوں تو کسی کی ضرورت نہ رہے۔ نہ بیوی کی۔ نہ بیٹے کی۔ جو پردیس میں تھا۔ فون کبھی نہیں کرتا تھا۔

بیوی پلیٹ لے کر آئی۔ اس نے منہ پھیر لیا۔ پلیٹ رکھی گئی۔

"اتنی دیر سے کیا سوچ رہے ہو؟" بیوی نے پوچھا۔

"سانس میرے بس میں نہیں۔ تو تم کون ہوتی ہو میرے بس میں؟"

بیوی چپ ہو گئی۔ باہر چلی گئی۔

رات کو نیند ٹوٹی۔ سینے میں درد تھا۔ بیوی سو رہی تھی۔ ہاتھ بڑھایا۔ جگانے کے لیے۔ بیچ میں رک گیا۔ سوچا، جو اپنا دل نہ روک سکے، وہ دوسرے کا دل کیا روکے گا۔

اٹھا۔ بغیر جگائے۔ آنگن میں آیا۔ ہوا ٹھنڈی تھی۔ گہری سانس لی۔ پھر دوسری۔ تیسری۔ ہوا اندر اتر رہی تھی۔ رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ شکر گزار ہوا۔

صبح بیوی نے آنگن میں پایا۔ مسکرا رہا تھا۔

"کیا ہوا؟" بیوی نے پوچھا۔

"آج سانس لینا سیکھ گیا۔"

"پاگل ہو گئے ہو۔"

"شاید۔ اب کسی کا محتاج نہیں۔"

بیوی نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ اندر چلی گئی۔

وہ آنگن میں بیٹھا رہا۔ سانسیں سن رہا تھا۔ پہلی بار سمجھا۔ یہ سانسیں اس کی ملکیت نہیں۔ قرض ہیں۔ ہر لمحہ ادا ہو رہا ہے۔ بغیر شرط کے۔

--------------


*مشکل الفاظ کے معنی*  

محتاج: ضرورت مند، دوسرے پر انحصار کرنے والا  

پردیس: پردیس، دوسرا ملک یا شہر  

جم جانا: ساکت ہو جانا، حرکت نہ کرنا  

شکر گزار: شکر ادا کرنے والا



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...