نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آئینے کے اس پار

بعض داغ شیشے پر نہیں ہوتے، آنکھ پر ہوتے ہیں۔  



بارش تھم چکی تھی۔ مچھر ابھی باقی تھے۔ اسامہ نے کھڑکی بند کی تو چوکھٹ سے پلستر کا ٹکڑا ٹوٹ کر چٹخ گیا۔ اس نے گالی دی۔ گھر کو۔ مستری کو۔ اس موسم کو جو دیواروں سے پانی ٹپکاتا ہے۔

بیوی نے کہا، "چائے پی لو۔"

"کون سی چائے؟ باسکٹ والی ختم ہو گئی، تمہیں خبر بھی نہیں۔"

وہ باہر نکل گیا۔ گلی کی نکاسی بند تھی۔ کیچڑ سا جم گیا تھا۔ ایک بلی سوکھے ڈبے کو سونگھ رہی تھی۔ اسامہ نے ٹھوکر ماری۔ بلی بھاگی۔ پھر مڑ کر دیکھا۔ جیسے پوچھ رہی ہو، ملا کیا؟

نثار کی دوکان پر بیٹھ کر بولا، "یہ شہر اب بسنے لائق نہیں رہا۔ لوگ، جانور، ہوا۔ سب سڑے ہوئے۔"

نثار خاموش رہا۔ گرم پکوڑے آگے رکھ دیے۔

اسامہ نے پکوڑا توڑا۔ اندر سے کچی ہلدی سی بہی۔ پلیٹ سرکا دی۔ "دیکھا؟ اندر سے گلے ہوئے۔"

نثار نے اپنا پکوڑا کھایا۔ مسکرایا۔ کچھ نہ بولا۔

واپسی پر پرانی عمارت کے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ شیشے پر دھبے تھے۔ اس لیے صورت بگڑی ہوئی لگی۔ ایک آنکھ نیچی۔ منہ ترچھا۔ اس نے سوچا، یہ شہر کتنا بدصورت ہو گیا ہے۔

رات کو سویا نہیں۔ بیوی نے پنکھا چلایا تو کہا، "بند کرو، سر پھٹ رہا ہے۔" بیوی چپکے سے بستر چھوڑ کر باہر کرسی پر بیٹھ گئی۔ صبح اٹھا تو وہ اسی کرسی پر سو رہی تھی۔ سر دیوار سے ٹکا ہوا۔ ہاتھ میں کھلونا تھا۔ ان کی فوت ہوئی بیٹی کا۔

اسامہ نے پہلی بار دیکھا کہ اس نے کھلونا کبھی نہیں پھینکا۔ بیوی کا چہرہ دیکھا۔ جھریاں۔ تھکی آنکھیں۔ ہونٹوں پر ایک عجیب سی رضا۔ اس کے پیچھے دیوار پر وہی پرانا آئینہ لٹکا تھا۔ جس میں کل اپنا مسخ چہرہ دیکھا تھا۔

آج دھوپ تھی۔ شیشے پر دھبے کم تھے۔ قریب جا کر دیکھا۔

شیشہ صاف تھا۔

آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ نہ کوئی خم۔ نہ ترچھا منہ۔ بس ایک عمر رسیدہ چہرہ۔ جس کی شکنیں اسی کی تھیں۔

بیوی کی آنکھ کھلی۔ اسے آئینے کے سامنے دیکھ کر بولی، "چائے بناؤں؟"

اسامہ نے پہلی بار کہا، "ہاں۔ تمہارے لیے بھی۔"

بیوی اٹھی تو اسامہ نے کھلونا اٹھا کر الماری کے اوپر رکھ دیا۔ جہاں گرد نہیں بیٹھتی۔ پھر باہر آیا۔ گلی سے بدبو آ رہی تھی۔ مگر اس نے دیکھا کہ وہی بلی اب تین بچوں کے ساتھ دھوپ میں لیٹی ہے۔ پاس جا کر پانی کا پیالہ رکھ دیا۔ بلی نے پیا۔ اور اس بار بھاگی نہیں۔ دیکھتی رہی۔

نثار کی دوکان پر جا کر بولا، "پکوڑے دو۔"

نثار نے کہا، "کل تو انکار کر دیا تھا۔"

اسامہ نے کہا، "کل میری آنکھ پر دھبے تھے۔"

نثار ہنسا۔ پکوڑے گرم تھے۔ اندر سے پکے ہوئے۔




*مرکزی خیال*  

انسان جب اندر سے ٹوٹا ہو تو دنیا اسے مسخ نظر آتی ہے۔ شیشہ صاف ہوتے ہی شہر، رشتے اور خود اپنی شکل واپس مل جاتی ہے۔


*مشکل الفاظ کے معنی*  

چوکھٹ: دروازے کا فریم  

پلستر: دیوار پر لگی سیمنٹ کی تہ  

مسخ: بگاڑا ہوا، بدشکل  

رضا: راضی رہنا، قناعت  

شکن: جھری


---

مرکزی خیال: دنیا کو بدلنے کی بجائے اپنے ادراک کی تبدیلی حقیقی سکون کا ذریعہ ہے — آئینہ فریب نہیں دیتا، آنکھیں دیتی ہیں۔



· ایک لائن میں ادبی طاقت: یہ افسانہ پڑھنے والے کو آئینے کے اس پار لا کھڑا کرتا ہے جہاں سے وہ اپنی ہی شکل کو پہلی بار بغیر الزام کے دیکھ سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...