نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آئینۂ اغیار کی نیند

 

جو شیشہ دوسروں کی خوشی دکھائے، وہ آخر میں آدمی کا اپنا چہرہ نگل لیتا ہے۔


میں نے ہمیشہ اپنے نانا کی بات کو ایک سادہ سی اخلاقی نصیحت سمجھا تھا—کہ آدمی اپنی خواہشات کی بھوک کو اتنا سلیقے سے پالے کہ وہ دوسروں کی مسکراہٹوں تک نہ پہنچے۔ وہ درویش تھے، الفاظ کم بولتے تھے مگر ان کی خاموشی میں بھی ایک درس ہوتا تھا۔ مگر آج جب یہ سیاہ لفافہ اور اس کے اندر رکھا ہوا عجیب سا گول شیشہ میرے ہاتھ میں ہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ نصیحت نہیں تھی، ایک پیشگی وارننگ تھی… جو میں نے وقت پر نہ پڑھی۔

لفافہ ایک عام دن آیا تھا۔ نہ بھیجنے والے کا نام، نہ پتے کا سراغ۔ بس میرے نام کی سادہ سی تحریر۔ اندر کاغذ نہیں تھا، صرف ایک چھوٹا سا شیشہ—گول، مدھم، جیسے کسی پرانی چیز کی آنکھ ہو جو اب بھی دیکھ رہی ہو۔ اسے ہاتھ میں لیتے ہی میری انگلیوں میں ایک سرد سی لرزش اتر گئی تھی، جیسے شیشہ میرے لمس کو پہچانتا ہو۔

اگلے ہی دن دفتر میں رحمان کی ترقی کا اعلان ہوا۔ تالیاں بجی تھیں، مٹھائی تقسیم ہوئی تھی۔ میں اس کے دروازے کے پاس کھڑا تھا جب وہ ہنستے ہوئے سب سے گلے مل رہا تھا۔ اسی لمحے شیشہ، جو میری جیب میں تھا، اچانک گرم ہو گیا—ایسا جیسے کسی نے اس کے اندر آگ رکھ دی ہو۔ اور پھر میرے اندر… ایک انجانی سی کڑواہٹ پھیل گئی۔ رحمان کی خوشی میرے اندر کسی زہر کی طرح اترنے لگی تھی، بغیر اجازت، بغیر آواز۔

رات کو میں نے اسے غور سے دیکھا۔ روشنی کے سامنے رکھا تو اس کے اندر محض عکس نہیں تھا—باریک لکیریں تھیں، جیسے کسی زندہ مشین کی رگیں۔ اور ایک دھندلا سا لفظ، جو آنکھوں کو زور دے کر پڑھنا پڑتا تھا: "آئینۂ اغیار“۔

مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے اندر بند دروازہ کھول دیا ہو۔

پھر عائشہ کی شادی کی خبر آئی۔ اس کی ہنسی، اس کی تیاری، اس کی آنکھوں میں مستقبل کی چمک… اور پھر وہی سب کچھ جو میں نے رحمان کے ساتھ محسوس کیا تھا، دوبارہ جاگ اٹھا۔ شیشہ پھر گرم ہوا۔ اور چند دن بعد، وہ رشتہ ٹوٹ گیا—خاموشی سے، بغیر وضاحت کے۔ عائشہ کی آنکھوں میں اب وہ روشنی نہیں تھی۔

میں نے پہلی بار ڈر محسوس کیا۔

نانا کی آواز ذہن میں ابھری: ”حسد بھی ایک بھوک ہے… اور بھوک جب حد سے بڑھے تو وہ کھانے والے کو انسان نہیں رہنے دیتی۔“

تب مجھے سمجھ آیا—یہ شیشہ صرف دیکھنے کی چیز نہیں تھا۔ یہ میری اندرونی خرابی کو ایک قوت میں بدل رہا تھا۔ جو میں صرف سوچتا تھا، وہ باہر کی دنیا میں وقوع بننے لگتا تھا۔ جیسے میری نگاہ کسی کی خوشی کو چھو کر اسے توڑ سکتی ہو۔

میں نے اسے توڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہتھوڑا اٹھایا، مگر جیسے ہی وار کرنے لگا، شیشے کے اندر ایک منظر ابھرا۔ ایک بچہ… میں خود۔ وہ اپنے دوست کے کھلونے کو دیکھ رہا تھا، اور اس کی آنکھوں میں وہی جلن، وہی بےچینی۔ اور اگلے ہی لمحے، کھلونا ٹوٹ گیا تھا—بغیر کسی ہاتھ کے۔ صرف خواہش کے وزن سے۔

ہتھوڑا میرے ہاتھ سے گر گیا۔

پھر آخری رات آئی۔ حامد—میرا چھوٹا بھائی—وہی جس کے ساتھ میں بچپن سے مقابلہ کرتا آیا تھا، آج کامیابی کے دروازے پر کھڑا تھا۔ غیر ملکی نوکری، گھر میں خوشی، ماں کی آنکھوں میں نمی۔ وہ میرے پاس آیا، مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں وہ سب کچھ تھا جو میرے اندر کبھی مکمل نہ ہو سکا۔

شیشہ میری جیب میں دھڑکنے لگا۔ جیسے زندہ ہو۔ جیسے مجھے پکار رہا ہو۔

میں نے خود کو کمرے میں بند کیا۔ شیشہ میز پر رکھا تھا۔ اس میں حامد کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ایک سرگوشی میرے اندر اتری—نرم، مگر زہریلی:  ”بس چاہ لو… سب کچھ تمہارا ہو سکتا ہے

میں نے شیشہ اٹھایا۔ وہ گرم تھا۔ بھاری تھا۔ جیسے میرے فیصلے کا وزن اس کے اندر منتقل ہو گیا ہو۔

اور پھر… نانا کی آواز دوبارہ سنائی دی۔

میں نے آنکھیں بند کیں۔ ایک لمحہ—بس ایک لمحہ۔

اور میں نے شیشہ میز پر رکھ دیا۔

وہ نہیں ٹوٹا۔ مگر اس کے اندر کچھ خاموش ہو گیا۔ جیسے کوئی سانس جو ہمیشہ کے لیے رک گئی ہو۔

میں باہر آیا۔ حامد کے پاس گیا۔ اسے گلے لگایا۔ اس بار میرے اندر کوئی کڑواہٹ نہیں تھی۔ صرف ایک ہلکی سی خالی پن کے ساتھ ایک نرمی تھی—جیسے بارش کے بعد زمین۔

لفافہ کس نے بھیجا تھا؟
نانا؟ کوئی اور؟ یا میں خود، کسی اور وقت سے؟

میں نہیں جانتا۔

بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ شیشہ اب بھی میرے پاس ہے۔ بےجان، خاموش… مگر مکمل غیر محفوظ۔

اور بعض راتوں میں مجھے لگتا ہے… یہ سویا نہیں ہے۔ صرف انتظار کر رہا ہے۔

---------------------

مرکزی خیال:
انسانی حسد جب شعور اور طاقت میں بدل جائے تو وہ صرف دوسروں کی خوشیوں کو نہیں بلکہ خود انسان کے اندر کے توازن کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ اصل آزمائش خواہش کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی:
درویش صفت: سادہ اور روحانی مزاج رکھنے والا انسان
مسخ: بگڑا ہوا، خراب شکل میں تبدیل
کڑواہٹ: دل میں پیدا ہونے والی تلخی یا رنج
سرگوشی: آہستہ آواز میں بات کرنا
توازن: برابری یا اندرونی ہم آہنگی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...