![]() |
| بعض گھونٹ پیاس بجھانے کے لیے نہیں، محبت ثابت کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ |
شام کا جھلسا دینے والا سورج ڈھل چکا تھا۔ گلیاں اب بھی گرم تھیں۔ رضیہ نے برتن میں آخری گھونٹ پانی ڈال کر دیکھا۔ پھر برتن الٹ دیا۔
دروازے پر دستک ہوئی۔
"کون؟" آواز خشک تھی۔
"اماں، میں ہوں۔"
رضیہ نے دوپٹے کے پلو میں ہاتھ چھپا لیے۔ سوکھے، کھردرے، جھریوں سے بھرے۔ دروازہ کھولا۔ بیٹے کے ہاتھ میں پلاسٹک کی بوتل تھی۔ قطرے شیشے پر جمے تھے۔
"لے، امّاں۔"
رضیہ نے بوتل دیکھی۔ پھر بیٹے کا چہرہ۔ آنکھوں کے نیچے حلقے تھے۔ قمیض کی کہنی پر مٹی کے دھبے۔ وہ شہر کی دوسری طرف تعمیراتی جگہ سے آیا تھا۔
"تو نے پیا؟"
بیٹے نے کندھا اچکایا۔ "کام پر پانی تھا۔"
رضیہ نے ڈھکن کھولا۔ ہونٹ لگائے۔ پانی گرم تھا۔ ایک گھونٹ لیا۔ دو لیا۔ ڈھکن بند کر کے بوتل بیٹے کی طرف بڑھا دی۔
"تو پی لے۔"
"پیاس نہیں، امّاں۔"
رضیہ نے بوتل اس کی چھاتی سے لگا دی۔ "پی لے، میں نے پی لیا۔"
بیٹے نے بوتل لی۔ پینے لگا۔ حلق سے ہلکی آواز آئی۔ سچی پیاس کی آواز۔
رضیہ چوکھٹ سے ٹک گئی۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ اندھیرا نہیں آیا تھا۔ بیٹے کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ تھکن سے، یا اس لیے کہ آخری گھونٹ بچا رکھا تھا؟
رضیہ کو بس یہ یاد تھا۔ صبح جب بیٹا گیا تھا تو کہنی پر مٹی نہیں تھی۔ شام کو واپس آیا تو اپنے لیے پانی نہیں لایا۔ ماں کے لیے لایا تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھایا۔ بیٹے کا گال چھوا۔ گرمی ہتھیلی میں اتر گئی۔ کچھ نہیں کہا۔
پھر رات آ گئی۔
*مرکزی خیال*
ماں اور بیٹے کے بیچ محبت کا حساب پانی سے ہوتا ہے۔ جو خود پیاسا ہو کر بھی آخری گھونٹ دوسرے کے لیے بچا لے، وہی اصل رشتہ ہے۔
*مشکل الفاظ کے معنی*
چوکھٹ: دروازے کا چوکھٹا، دہلیز
دھبّے: داغ، نشان
ہلق: گلہ، جہاں سے آواز اور پانی گزرتا ہے
پلو: دوپٹے کا کنارہ
مرکزی خیال: وہ خاموش قربانی جو کبھی الفاظ نہیں مانگتی — ماں کا بھوکے رہ کر بچے کو کھلانا، بیٹے کا پیاسے رہ کر ماں کو پانی دینا۔ ایک دوسرے کی پیاس اپنی موت سے پہلے بجھانا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں