:مرکزی خیال
انتظار جب حد سے گزر جائے تو محبت بھی چولھے پر سوکھ جاتی ہے۔ ماں کا "کوئی بات نہیں" دراصل آخری چٹکی ہے جو وہ اپنی عمر پر ڈالتی ہے۔
فون بجا۔
"جی بیٹا؟"
"اماں، آج نہیں آ سکوں گا۔ میٹنگ ہے۔"
"کوئی بات نہیں۔"
"کل ضرور آؤں گا۔"
"کل کا کیا بھروسہ؟"
فون کٹ گیا۔ اماں جی نے فون گود میں رکھا۔ ڈسپلے کی نیلی روشنی چہرے پر پڑی۔ ریڈ ڈائل دبایا۔ چار بار بجی۔ بند ہو گئی۔
رات کو سوئی نہیں۔ الماری کھولی۔ شادی کا جوڑا نکالا۔ بیٹے کے پہلے جوتے۔ شوہر کی آخری قمیض۔ نیچے ڈائری تھی۔ صفحہ چھبیس پر خشک پھول گرا۔ جس دن بیٹے نے پہلا "اماں" کہا تھا۔
صبح چائے نہیں بنی۔ نہانے نہیں گئیں۔ کرسی پر بیٹھیں۔ دیوار دیکھی۔ تصویر نہیں تھی۔ پلاسٹر چھل رہا تھا۔
دوپہر کو اٹھیں۔ چادر اوڑھی۔ تالے کی چابی لی۔ باہر نکل گئیں۔ پڑوسن بولی، "عصمت جی، کہاں؟"
جواب نہیں دیا۔
شہر تک پہنچیں۔ بیٹے کے گھر کے سامنے کھڑی رہیں۔ گھنٹی نہیں دبائی۔ درخت کے نیچے بیٹھ گئیں۔ بچے کھیل رہے تھے۔ ایک نے پوچھا، "دادی، کس کا انتظار ہے؟"
"بیٹے کا۔"
"کب آئیں گے؟"
"ابھی۔"
تین گھنٹے گزرے۔ روشنیاں جل گئیں۔ اماں جی اٹھیں۔ چادر سنبھالی۔ لوٹ گئیں۔
رات بارہ بجے فون آیا۔
"اماں، گاڑی خراب تھی۔"
"کوئی بات نہیں، بیٹا۔"
"کھانا کھایا؟"
"ہاں۔"
فون بند کیا۔ باورچی خانے گئی۔ چولھا جلایا۔ پتیلی میں پانی رکھا۔ نمک کی آخری چٹکی ڈالی۔ پانی ابلنے لگا۔ آنکھیں بند کر لیں۔
صبح پڑوسن نے دیکھا۔ چولھا بجھا تھا۔ پتیلی سوکھی تھی۔ نمک تہ پر کرسٹل بن چکا تھا۔ اماں جی کرسی پر بیٹھی تھیں۔ جیسے انتظار ختم ہو گیا ہو۔
ہاتھ میں ڈائری کھلی تھی۔ صفحہ چھبیس۔ خشک پھول بکھر چکے تھے۔
-----------------------
مشکل الفاظ کے معنی
چٹکی: انگلیوں سے لی گئی تھوڑی سی مقدار
ڈسپلے: موبائل کی اسکرین
کرسٹل: جمنے کے بعد بننے والے چمکدار دانے
سیمنٹ کی تہہ پلاسٹر: دیوار پر لگائی جانے والی
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں