امانت

 

امانت
مصنف: عبدالرزاق

ہال قہقہوں سے بھرا ہوا تھا، تالیاں تھیں، تصویریں تھیں، روشنی تھی—مگر صدف کے اندر ایک لفظ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا: ”لے جاؤ بھئی، تمہیں چاہئیں تو… “

یہ جملہ زارا نے ہنستے ہوئے کہا تھا، مذاق میں، بے ضرر انداز میں—لیکن بعض لفظ مذاق نہیں رہتے، وہ ذہن کے اندر اپنی جڑیں اتار لیتے ہیں۔ صدف کے تین بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے تھے: عرفان، حارث اور چھوٹا احمد—زندگی کی مکمل تصویر۔ مگر اب اس تصویر کے کنارے دھندلا رہے تھے۔ جیسے کسی نے اس پر انگلی سے نمی پھیلا دی ہو۔

اس رات نیند نہیں آئی۔ دیواریں قریب محسوس ہونے لگیں، اور خاموشی میں آوازیں پیدا ہونے لگیں۔ ”لے جاؤ… اب صرف ایک جملہ نہیں تھا، ایک امکان تھا، ایک شک تھا، ایک زہر تھا جو آہستہ آہستہ رگوں میں اتر رہا تھا۔

صبح وہ اپنے بڑے بیٹے کو سینے سے لگائے کھڑی رہی۔ زیادہ دیر۔ بہت زیادہ۔ جیسے وہ اسے یاد نہیں، محفوظ کرنا چاہتی ہو۔ بچے نے پوچھا، مگر جواب نہ ملا۔ صدف اب سوالوں کے جواب نہیں دیتی تھی، وہ صرف چہروں کو پڑھتی تھی۔

دن بدلنے لگے، مگر صدف ایک ہی جگہ ٹھہری رہی۔ ہر عورت اب ایک امکان تھی، ہر نظر ایک ارادہ، ہر لمس ایک سازش۔ زارا جب بھی آتی، اس کا گھر خوشبو سے نہیں، خطرے سے بھر جاتا۔

” حارث بالکل میرے گاؤں کے ایک بچے جیسا ہے… زارا نے ایک دن ہنستے ہوئے کہا۔

اور صدف کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
مشابہت؟ یا اشارہ؟

اب وہ البم کھولتی، تصویریں دیکھتی، تاریخیں ملاتی، چہرے جوڑتی۔ ماں اب ماں نہیں رہی تھی—وہ ایک تفتیش کار بن گئی تھی۔ رات کو وہ اپنے بچوں کو دیر تک دیکھتی، جیسے وہ بچے نہیں، سوال ہوں جن کے جواب چھپے ہوئے ہوں۔

ایک دن بخار نے عرفان کو آ لیا۔ اسپتال کا راستہ زارا کی گاڑی نے بنایا۔ راستے میں زارا نے کہا:”فکر نہ کرو، یہ میرے بھی بچے ہیں… “

یہ جملہ صدف کے اندر گونج بنا، ایک ایسی گونج جو خاموش نہیں ہوتی۔

”میرے بھی بچے ہیں… “

یہ ”بھی کہاں سے آیا تھا؟

اب شک مکمل ہو چکا تھا۔ شوہر ہنستے تھے، مگر وہ ہنسی اب ثبوت لگتی تھی۔ دنیا اسے پاگل نہیں، نظر انداز کر رہی تھی—اور صدف کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی بات تھی۔

پھر وہ فائل ملی۔
میٹرنٹی ریکارڈ۔
اور ایک نام کے نیچے لکھا تھا: ”زارا ک۔ حوالہ

بس۔
یہ لفظ نہیں تھا، فیصلہ تھا۔

رات کو اس نے نمبر ملایا۔ آواز آئی: ”ہیلو؟

صدف نے کہا   :  ”کل تم آؤ گی۔ ہمیں بات کرنی ہے… میرے بیٹوں کے بارے میں۔

خاموشی آئی۔ لمبی، بھاری۔

پھر زارا بولی: ”ٹھیک ہے۔

فون بند ہوا۔

اس رات صدف نے پہلی بار اپنے بیٹوں کو اس طرح دیکھا جیسے وہ اس کے ہیں… یا شاید نہیں ہیں۔ اور پہلی بار اسے یقین نہیں تھا کہ سب سے بڑا خطرہ باہر ہے یا اس کے اندر۔

راہداری میں روشنی نہیں تھی۔ صرف ایک سوال تھا جو سانس لے رہا تھا:
اگر محبت شک بن جائے تو ماں کس کی رہ جاتی ہے؟

-----------------------

مرکزی خیال:
ماں کی محبت جب عدم تحفظ اور شک میں بدل جائے تو حقیقت اور وہم کے درمیان لکیر مٹ جاتی ہے، اور رشتے اپنی پہچان کھو دیتے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معنی:
امانت: حفاظت میں دی گئی چیز
تفتیش: جانچ پڑتال
گونج: بار بار سنائی دینے والی آواز
ثبوت: دلیل یا نشانی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد