ٹوٹا ہوا شیشہ

  ٹوٹا ہوا شیشہ

مصنف: عبدالرزاق
تاثراتی جملہ / Tagline:
ٹوٹے ہوئے شیشے جھوٹ نہیں بولتے… وہ صرف چہرے دو حصوں میں بانٹ دیتے ہیں۔

افسانہ:
کمرے میں ہوا یوں چل رہی تھی جیسے کسی پرانے راز کی تہہ میں سانس رک گیا ہو۔ پرانی الماری کے شیشے پر وقت کی گرد جمی تھی، اور اس گرد میں سورج کی آخری کرنیں ایسے پھنس گئی تھیں جیسے کسی نے روشنی کو بھی قید کر لیا ہو۔ زینب نے انگلی اٹھائی اور شیشے پر ایک باریک لکیر کھینچ دی۔ وہ لکیر صرف شیشہ نہیں چیر رہی تھی… اس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش سرحد قائم کر دی تھی۔

"تم نے کبھی سوچا ہے، عمیر؟" اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، بس ایک تھکن تھی۔ "شیشہ ٹوٹنے سے پہلے کم خطرناک ہوتا ہے… اور ٹوٹنے کے بعد زیادہ سچ بولتا ہے۔"

عمیر نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر اس کے اندر کا سوال ابھی گرم تھا۔ وہ سوال جو تین مہینوں سے اس کی آنکھوں میں بند دروازے کی طرح کھڑا تھا۔

"تم نے میرا فون دیکھا تھا، نا؟"

لفظ کمرے میں گر کر ٹوٹ گئے۔ زینب نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا—ادھورا، جیسے کسی نے تصویر کے درمیان سے روشنی کاٹ دی ہو۔

"ہاں۔"

یہ جواب اتنا سادہ تھا کہ اس میں کوئی گناہ بھی پورا نہیں لگ رہا تھا۔

"کیوں؟" عمیر کی آواز بھاری ہو گئی۔

"کیونکہ رشتے اعتماد سے نہیں، چھپانے سے ٹوٹتے ہیں۔ اور تم نے چھپانا شروع کر دیا تھا۔"

دو ہفتے پہلے کی راتیں زینب کے اندر ابھی تک جاگ رہی تھیں۔ اس نے وہ پیغام دیکھا تھا—"کل ملاقات ضروری ہے"—اور اس کے بعد اس کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر آئی تھی جو چیخ سے زیادہ خطرناک تھی۔ پھر فون، پاسورڈ، میسجز، تصویریں… سب کچھ ایک ایسے شبہے میں بدل گیا تھا جس کا کوئی چہرہ نہیں تھا۔

اور پھر وہ تصویر آئی تھی۔ کافی شاپ میں عمیر اور سارہ۔ ہنسی ان کے درمیان بیٹھ گئی تھی، اور زینب کے اندر کوئی چیز پہلی بار خاموشی سے ٹوٹ گئی تھی۔

"تم سمجھتی ہو میں تم سے تمہارے والد کی وجہ سے جڑا ہوں؟" عمیر کی آواز میں اب تلخی تھی۔

"اور تم سمجھتے ہو میں نے تمہیں تمہارے پروجیکٹ کی وجہ سے چُنا؟" زینب نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ "ہم دونوں نے ایک دوسرے کو استعمال کیا تھا، عمیر… بس نام محبت رکھ دیا تھا۔"

کمرہ جیسے سانس روک کر سن رہا تھا۔

پھر وہ جملہ آیا جس نے ہوا کا وزن بدل دیا۔

"تمہیں معلوم ہے سارہ کون ہے؟"

عمیر کے ہاتھ میں کپ کانپ گیا۔

"کیسے…؟"

"میں نے صرف تمہارا فون نہیں دیکھا… تمہاری زندگی کے وہ حصے بھی دیکھے جو تم نے خود سے چھپا رکھے تھے۔ وہ تمہاری stepsister ہے، ہے نا؟"

یہ نام جیسے ماضی کے بند کمرے سے ٹکرا کر لوٹ آیا۔ عمیر کی آنکھوں میں وہی پرانی شکست کھڑی ہو گئی جو برسوں پہلے اس کے خاندان سے جدا ہونے کے بعد اس نے دیکھی تھی۔

خاموشی اس بار زیادہ گہری تھی۔

"میں اسے مدد کر رہا تھا… بس اتنا ہی تھا۔" عمیر کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "اس کا شوہر…"

"اور میں نے اسے شک بنا لیا،" زینب نے جملہ مکمل کیا۔ "کیونکہ میں نے محبت کو ہمیشہ شک کی زبان میں سنا ہے۔"

رات نے کمرے میں اپنی سیاہی پھیلائی تو دونوں خاموش تھے۔ صرف الماری کا شیشہ تھا جس پر لکیر اب دراڑ بن چکی تھی۔

زینب نے آہستہ سے کہا، "بچپن میں ایک گلدان توڑا تھا… اور ٹکڑے چھپا دیے تھے۔ امی نے کہا تھا: اصل خطرہ ٹوٹنے میں نہیں، چھپانے میں ہوتا ہے۔"

عمیر نے آنکھیں بند کر لیں۔ "ہم نے بھی یہی کیا۔"

صبح وہ سویا ہوا تھا، اور زینب اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں، اعتراف تھا۔

شیشے کی دراڑ اب پھیل چکی تھی۔ زینب نے انگلی رکھی تو اسے محسوس ہوا کہ یہ صرف شیشہ نہیں… ان کے درمیان جمی ہوئی ہر جھوٹ کی لکیر ہے۔

"ہم اسے بدل دیں گے،" عمیر نے جاگتے ہوئے کہا۔

"نہیں،" زینب نے آہستہ سے جواب دیا۔ "ہم اسے دیکھیں گے… تاکہ ہم بھول نہ جائیں کہ ہم کیا تھے۔"

کافی شاپ میں سارہ ان کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی الزام نہیں تھا، صرف تھکن تھی—جیسے وہ بھی کسی اور کہانی کی ٹوٹی ہوئی سطر ہو۔

"رشتے شیشے کی طرح ہوتے ہیں،" سارہ نے کہا۔ "صاف ہوں تو روشنی دیتے ہیں، اور ٹوٹ جائیں تو سچ دکھاتے ہیں۔"

زینب نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید مسئلہ ٹوٹنے میں نہیں… دیکھنے میں تھا۔

شام کو جب وہ واپس آئے تو الماری کا شیشہ اتار دیا گیا تھا۔ اس کی جگہ صرف خلا تھا۔

"ہم نیا شیشہ لیں گے،" عمیر نے کہا۔

زینب نے باہر دیکھا۔ چاند بغیر کسی رکاوٹ کے اندر آ رہا تھا۔

"ہاں،" وہ بولی۔ "لیکن اس بار ہم اس میں خود کو نہیں چھپائیں گے… صرف دیکھیں گے۔"

اور پہلی بار کمرے میں ہوا نے کوئی فیصلہ نہیں کیا… بس بہتی رہی۔

-------------------

 

مرکزی خیال:
رشتے ٹوٹنے سے زیادہ چھپانے سے زخمی ہوتے ہیں، اور سچ سامنے آنے کے بعد ہی ان کی اصل شکل واضح ہوتی ہے۔ ٹوٹ پھوٹ بھی اگر تسلیم کر لی جائے تو وہ تباہی نہیں رہتی بلکہ ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی:
دراڑ: شے میں پڑنے والی باریک لکیر جو ٹوٹنے کی ابتدا ہو
اعتراف: کسی سچ کو تسلیم کرنا
تہہ: گہرائی یا اندرونی سطح
سرحد: حد یا لکیر جو دو چیزوں کو جدا کرے
بصیرت: دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد