آئینہ
آئینہ
مصنف: عبدالرزاق
شام جیسے کسی بیمار چراغ کی آخری لو
تھی۔ احمد نے دروازہ کھولا تو اندر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا نکلا، جیسے گھر کئی
گھنٹوں سے سانس روکے بیٹھا ہو۔ دروازہ اس کے پیچھے خودبخود بند ہوا اور لکڑی کے
بھاری پٹ کی آواز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کہیں اتر گئی۔
”احمد… اِدھر آؤ۔“
زینب کی آواز اندر سے آئی۔ آواز وہی
تھی، مگر اس میں وہ مانوس حرارت نہیں تھی جو برسوں سے اس گھر کی دیواروں میں بسی
ہوئی تھی۔ یہ آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے نکل کر آئی ہو۔
اس نے جوتے اتارے۔ ایک جوتا الٹا پڑا
تھا۔ دوسرا دروازے سے دور۔ سلیپر کہیں نظر نہ آئے۔ وہ ننگے پاؤں سنگِ مرمر پر چلا
تو فرش کی ٹھنڈک اس کے جسم میں چپک گئی۔
ڈرائنگ روم نیم تاریک تھا۔ صرف کھڑکی کے
پاس رکھی زرد لیمپ کی روشنی جل رہی تھی۔ زینب صوفے پر بیٹھی تھی، پشت کھڑکی کی
طرف۔ باہر اندھیرا تھا، ایسا اندھیرا جس میں شہر کی روشنیاں بھی ڈوب جاتی ہیں۔
”کہاں تھیں تم آج؟ فون بھی نہیں اُٹھایا۔“
احمد نے معمول کی نرمی پیدا کرنے کی
کوشش کی، مگر اپنی ہی آواز اسے اجنبی لگی۔
زینب نے آہستہ سے گردن موڑی۔ روشنی اس
کے چہرے پر ترچھی گری۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ایسے تھے جیسے کئی راتوں سے نیند
اس کے قریب نہ آئی ہو۔
”تمہیں یاد ہے، احمد… ہم پہلی بار کب ملے تھے؟“
وہ چونکا۔ ”ہاں… یونیورسٹی لائبریری میں۔ تمہارے
ہاتھ سے کتابیں گر گئی تھیں۔“
”اور تم نے اُٹھا کر دی تھیں۔“
”ہاں…“
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر وہ
دھیرے سے بولی، ”تم نے اُس دن کہا تھا، میں خوبصورت
ہوں۔“
احمد کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ
آئی، مگر فوراً بجھ گئی۔ ”تم تھیں بھی۔“
”نہیں۔“ اس نے بہت آہستہ کہا۔ ”میں آسان تھی۔“
احمد نے اس کی طرف دیکھا۔
”تم نے کہا تھا، ‘تم سے بات کرنا آسان ہے۔ تمہارے سامنے انسان
اپنا بوجھ رکھ سکتا ہے۔’ یہی میری خوبصورتی تھی نا؟“
کھڑکی کے باہر ہوا نے شیشے کو ہلکا سا
ہلایا۔ احمد کے حلق میں خشکی اترنے لگی۔
”زینب…“
”آج میں نے تمہارے کمپیوٹر کی ہسٹری دیکھی۔“
یہ جملہ کمرے میں نہیں گرا، سیدھا
احمد کے اندر کہیں گرا تھا۔
اس کے ذہن میں ایک دم کئی اسکرینیں
روشن ہوئیں۔ پوشیدہ فولڈرز۔ نام بدل کر محفوظ کی گئی فائلیں۔ رات گئے کی ای میلز۔
وہ عورت… وہ جھوٹ… وہ تمام چھوٹی چھوٹی احتیاطیں جن پر اسے فخر تھا۔
اس نے بولنے کی کوشش کی۔ ”میں
سمجھا سکتا ہوں—“
”جھوٹ ہمیشہ سمجھایا جا سکتا ہے، احمد۔“
زینب اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ اس کی طرف بڑھی، مگر اس کے قدموں
کی کوئی آواز نہیں آئی۔ جیسے فرش نے اس کے وزن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔
”تم جانتے ہو…“ اس نے قریب آکر کہا، ”آسان لوگ سب سے زیادہ خطرناک تنہائی
جیتے ہیں۔“
احمد نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں
غور سے دیکھا۔
وہ آنکھیں… وہ وہی نہیں تھیں۔
ان میں ایک عجیب پرانی تھی۔ جیسے کسی
نے برسوں تک خاموش رہ کر اندر ہی اندر عمر گزار دی ہو۔ جیسے ہر معافی نے ان کی چمک
تھوڑی تھوڑی کھا لی ہو۔
”تم… ٹھیک تو ہو؟“
زینب ہلکا سا مسکرائی۔
وہ مسکراہٹ نہیں تھی۔ زخم پر پڑی
باریک دراڑ تھی۔
”تم نے کبھی سوچا… جو عورت ہر بار تمہیں معاف کر دیتی ہے، وہ
اپنی تکلیف کہاں رکھتی ہوگی؟“
احمد نے نظریں چرا لیں۔
”تم دیر سے گھر آتے رہے۔ میں نے پوچھا نہیں۔ تم فون چھپاتے رہے۔
میں نے دیکھا نہیں۔ تم خاموش ہوتے گئے، اور میں نے تمہاری خاموشی کو بھی محبت سمجھ
لیا۔“
وہ ایک لمحہ رکی۔
”مگر انسان جب بہت دیر تک کسی اور کا بوجھ اٹھاتا ہے نا… تو
آہستہ آہستہ اُس کا اپنا چہرہ بدلنے لگتا ہے۔“
کمرے کی ہوا مزید سرد ہوگئی۔
احمد نے بےاختیار پیچھے ہٹنا چاہا،
مگر اسے محسوس ہوا جیسے اس کے پاؤں فرش میں دھنس گئے ہوں۔
زینب نے اپنی بند مٹھی کھولی۔
اس کی ہتھیلی پر ایک پرانی پاکٹ واچ
رکھی تھی۔
احمد کا سانس رک گیا۔
وہی گھڑی۔
وہی، جو ایک سال پہلے گم ہوئی تھی۔
اُس رات… جب اس نے پہلی بار اپنی شادی سے باہر قدم رکھا تھا۔
”یہ… تمہیں کہاں ملی؟“
”گھڑیاں کبھی گم نہیں ہوتیں، احمد۔” اس کی آواز اب مدھم نہیں
رہی تھی۔ ”وقت صرف چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔“
احمد نے دیکھا، گھڑی کی سوئیاں الٹی
سمت میں چل رہی تھیں۔
ٹک۔
ٹک۔
ٹک۔
ہر آواز کے ساتھ کمرہ جیسے اور پرانا
ہوتا جا رہا تھا۔
دیواروں کا رنگ پھیکا۔ پردوں پر نمی۔
چھت کے کونوں میں سائے۔
اور پھر اس نے آئینہ دیکھا۔
بڑا سا آئینہ، جو صوفے کے سامنے دیوار
پر لگا تھا۔
اس میں زینب کھڑی تھی۔
اور اس کے پیچھے… کئی اور چہرے۔
ایک لڑکی، جو شاید پہلی محبت کے زمانے
کی تھی۔ ایک عورت، جس کی آنکھوں میں نئی شادی کی روشنی تھی۔ ایک چہرہ، جو مسلسل
جاگنے سے تھک چکا تھا۔ ایک اور… جو روتے روتے پتھر ہوگیا تھا۔
سب زینب تھیں۔
سب اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
احمد کے حلق سے آواز نہ نکلی۔
”یہ کیا ہے…؟“
”یہ میں ہوں۔“ زینب نے سرگوشی کی۔ ”وہ سب، جنہیں تم نے کبھی دیکھا ہی
نہیں۔“
آئینے کے اندر موجود تمام چہروں کی
آنکھیں ایک ساتھ اس پر جم گئیں۔
احمد نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوف
چیخ سے نہیں، خاموشی سے پیدا ہوتا ہے۔
زینب نے پاکٹ واچ اس کی طرف بڑھائی۔
”تم کہتے تھے نا… مشکل وقت میں ساتھ دینا چاہیے؟“
اس کے ہونٹ ہلے، مگر آواز پھر بھی نہ
نکلی۔
”آج میرا وقت مشکل ہے، احمد۔“
اس کی آواز اب ایک نہیں تھی۔ جیسے کئی
دبی ہوئی آوازیں ایک دوسرے کے اندر سے بول رہی ہوں۔
”میرے آنسو پونچھ دو۔ میری تنہائی بانٹ لو۔ میری خاموشی اپنے
اندر رکھ لو… اگر واقعی تم وہ انسان ہو جس کا دعویٰ کرتے رہے ہو۔“
گھڑی کی سوئیاں تیزی سے الٹی گھومنے
لگیں۔
کمرے میں کہیں بہت دور سے ہنسی کی ایک
مدھم آواز آئی… یا شاید کوئی رو رہا تھا۔
احمد نے دوبارہ آئینے کی طرف دیکھا۔
اب اس کی اپنی تصویر دھندلا رہی تھی۔
صرف آنکھیں باقی تھیں۔
اور اُن آنکھوں میں پہلی بار اسے اپنا
اصل چہرہ نظر آیا— ایک ایسا آدمی، جو محبت چاہتا تھا، مگر کسی دوسرے انسان کے درد
کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔
”اب بتاؤ، احمد…“
زینب کی آواز جیسے آئینے کے اندر سے
آئی۔
”کیا میں اب بھی خوبصورت ہوں؟“
کمرے میں موجود تمام چہرے خاموش تھے۔
صرف گھڑی چل رہی تھی۔
الٹی سمت میں۔
اور احمد نے محسوس کیا، بعض سوالوں کا
جواب زبان سے نہیں دیا جاتا… انسان پوری زندگی دے کر ادا کرتا ہے۔
مرکزی خیال:
یہ افسانہ رشتوں میں موجود خاموش
استحصال، جذباتی غفلت اور ”آسان” سمجھے جانے والے انسانوں کے
اندر دفن ہوتے دکھ کی کہانی ہے۔ محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ دوسرے کے
زخم دیکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ جب ایک انسان مسلسل نظرانداز ہوتا ہے تو وہ ٹوٹتا
نہیں، اندر ہی اندر ایک خوفناک سچ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
• مانوس — جان پہچان والا، شناسا
• پراسرار — جس میں راز یا بھید ہو
• سرگوشی — بہت دھیمی آواز میں بات
• دراڑ — شگاف، ٹوٹنے کی باریک لکیر
• استحصال — کسی کے جذبات یا کمزوری کا
ناجائز فائدہ اٹھانا
• تجسیم — کسی خیال یا کیفیت کو جیتی
جاگتی شکل دینا
• مدھم — دھیمی، کم روشن
• الم ناک — شدید دکھ سے بھرا ہوا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں