چوکھٹ
(1)
ثناء کی چیخ ابھی تک اُس اسپتال کی
دیواروں میں پھنسی ہوئی تھی۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ
کے باہر لمبے، نم آلود کوریڈور میں عارف لوہے کی بنچ پر بیٹھا تھا۔ سفید بتیوں کی
بے رحم روشنی میں اُس کا چہرہ راکھ جیسا لگ رہا تھا۔ ہوا میں فینائل، دوا، خون اور
پسینے کی ملی جلی بُو تیر رہی تھی۔ دور کہیں ایک بچہ رویا، پھر خاموش ہو گیا۔ جیسے
اس عمارت کے اندر ہر آواز تھوڑی دیر بعد مر جاتی ہو۔
عارف نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔
اُس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ہوئی تھیں۔ دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں چل رہی
تھیں، مگر وقت رکا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ جیسے پوری دنیا ایک ایسی چوکھٹ پر کھڑی ہو
جہاں سے آگے یا تو زندگی تھی… یا اندھی خاموشی۔
اچانک دروازہ کھلا۔
”عارف میاں؟“
سفید یونیفارم میں نرس کھڑی تھی۔ اُس
کی آواز میں تھکن تھی، ہمدردی نہیں۔
عارف تقریباً دوڑتا ہوا اندر گیا۔
کمرے میں تیز روشنی تھی۔ اتنی تیز کہ
آنکھیں جلنے لگیں۔ ثناء اندر اسٹریچر پر پڑی تھی۔ بال ماتھے سے چپکے ہوئے، ہونٹ
پھٹے ہوئے، سانس بے ترتیب۔ اُس کی انگلیاں ہوا میں کسی سہارے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
ڈاکٹر نے ماسک نیچے کیا۔ آنکھوں کے
گرد نیند اور بے بسی کے سیاہ حلقے تھے۔
”بچہ اُلٹ پوزیشن میں ہے۔ فوراً سیزرین کرنا پڑے گا۔“
عارف نے جلدی سے سر ہلایا۔ ”جی…
کر دیں … “
ڈاکٹر چند لمحے خاموش رہا۔ پھر خشک
لہجے میں بولا، ”یہاں سہولت نہیں۔ اوزار نہیں ہیں۔ خون
بھی نہیں۔ مریضہ کو پرائیویٹ لے جائیں۔“
”مگر… ابھی؟“
”ابھی۔“
”کتنے پیسے…؟“
”کم از کم پچاس ہزار۔“
یہ رقم سن کر عارف کے اندر کچھ بیٹھ
گیا۔ جیسے کسی نے سینے میں مٹھی بھر برف بھر دی ہو۔
پچاس ہزار۔
اُس نے زندگی میں کبھی ایک ساتھ اتنے
پیسے نہیں دیکھے تھے۔
اُس نے کانپتے ہاتھ سے جیب ٹٹولی۔
بارہ سو روپے۔ دو مہینوں کی بچت۔ پسینے اور دھول سے بوسیدہ نوٹ۔
”ڈاکٹر صاحب…“ اُس کی آواز رندھ گئی، ”کچھ
کر لیں… خدا کے لیے…
“
ڈاکٹر نے نظریں چرا لیں۔ ”وقت
ضائع نہ کریں۔“
پھر وہ اگلے مریض کی طرف بڑھ گیا۔ جیسے
ثناء کوئی انسان نہیں، فائل ہو۔
عارف باہر نکل آیا۔ اُس نے ایک ایک کر
کے سب کو فون کیے۔ بھائی، ماموں، دوست، محلے کا دکاندار، رکشہ اڈے کا مالک۔
”یار ابھی ہاتھ تنگ ہے… “
”کل تک انتظار کر لو… “
”میں شہر سے باہر ہوں… “
”بھائی، معاف کرنا… “
ہر آواز کے بعد اُس کے اندر ایک اور
چیز ٹوٹتی گئی۔ پھر اُس نے اپنے مالک کو فون ملایا۔
”مالک… میری بیوی مر جائے گی… “
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
”دیکھ عارف، ابھی حساب بند ہے۔ مہینے کے آخر میں—“
اسی لمحے اندر سے ثناء کی چیخ ابھری۔
ایسی چیخ جو انسان کے جسم سے نہیں،
اُس کی روح سے نکلتی ہے۔
”عا…رف…
“
فون اُس کے ہاتھ سے پھسل گیا۔
نرسیں ثناء کو باہر لائی تھیں۔
ایمبولینس ابھی تک نہیں آئی تھی۔ اسٹریچر کوریڈور سے نکل کر سیڑھیوں کے پاس روک
دیا گیا۔ باہر سرد ہوا چل رہی تھی۔ اسپتال کے برآمدے کی زرد روشنی میں ثناء کا
چہرہ موم کی طرح سفید لگ رہا تھا۔
عارف اُس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ
گیا۔
“ثناء… سنو… بس آ رہی ہے ایمبولینس… “
ثناء نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔ اُن
آنکھوں میں درد تھا، خوف تھا… اور ایک عجیب سا یقین بھی، جیسے وہ سب سمجھ گئی ہو۔
”بچہ…
“
”کچھ نہیں ہوگا۔ خدا بڑا ہے… “
وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ دونوں جانتے
تھے۔
ثناء نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انگلیاں
برف کی طرح ٹھنڈی تھیں۔
”عارف…
“
”ہاں…
“
”گھر کی کھڑکی بند کر دینا… رات کو ہوا آتی ہے… “
عارف کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔
یہ عورت مرنے سے پہلے بھی گھر کے بارے
میں سوچ رہی تھی۔ پھر ثناء کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکلی۔ صرف ایک ہلکی سی سسکی۔ اور
پھر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ اتنی آہستہ کہ پہلے پہل عارف کو یقین ہی نہ آیا۔
اُس نے ثناء کا ہاتھ زور سے تھاما
رکھا۔ جیسے گرفت مضبوط کرنے سے موت واپس مڑ جائے گی۔ مگر کچھ چیزیں ایک بار ہاتھ
چھوڑ دیں تو دوبارہ نہیں ملتیں۔ دور کہیں ایمبولینس کا سائرن سنائی دیا۔
بہت دور۔ بہت دیر سے۔
اور اُس لمحے، اسپتال کی سفید چوکھٹ
پر بیٹھا عارف پہلی بار واقعی تنہا ہوا۔
(2)
ایک سال بعد بھی وہ رات اُس کے اندر
زندہ تھی۔
عارف اب بھی رکشہ چلاتا تھا۔ وہی ٹوٹی
سڑکیں، وہی دھواں، وہی مسافر۔ مگر اُس کے اندر کا آدمی کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ اب
وہ کم بولتا تھا۔ اکثر سرخ بتیوں پر رکے رکے خلا میں دیکھتا رہتا۔ لوگ اُسے آواز
دیتے تو چونک جاتا۔ جیسے ہر وقت کسی اور جگہ موجود ہو۔
اُس نے ایک عجیب عادت اپنا لی تھی۔ وہ
ہمیشہ اپنے ساتھ پچاس ہزار روپے رکھتا۔ سیون بیلٹ کے اندر، کپڑوں کے نیچے۔ ہر رات
اُنہیں گنتا۔ پچاس ہزار۔ وہی رقم جس نے ثناء اور اُس کے بچے کے درمیان دیوار بنائی
تھی۔
کبھی کبھی وہ نوٹوں کو دیر تک گھورتا
رہتا، جیسے اُن پر خون کے دھبے اب بھی باقی ہوں۔
ایک دوپہر، چوک پر سگنل بند تھا۔
گاڑیوں کی لمبی قطار کھڑی تھی۔ گرمی میں پگھلتی سڑک سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ تبھی
ایک بھکاری لنگڑاتا ہوا گاڑیوں کے درمیان آیا۔ اُس کی گود میں ایک نحیف بچہ تھا جس
کی ٹانگ ٹیڑھی مڑی ہوئی تھی۔
“اللہ کے نام پر دے دو… بچہ بیمار ہے… “
لوگ شیشے اوپر کر رہے تھے۔
کوئی موبائل دیکھنے لگا، کوئی دوسری
طرف منہ موڑ گیا۔
عارف کی گردن آہستہ سے اُس طرف مڑی۔
بچے کی آنکھیں نیم وا تھیں۔ خشک۔ بے
آواز۔
اُسے ایک لمحے کے لیے ثناء یاد آئی۔
وہی بے بسی۔ وہی انتظار۔
اُس نے بیلٹ کے اندر ہاتھ ڈالا، چند نوٹ
نکالے اور بھکاری کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
بھکاری پہلے نوٹوں کو دیکھتا رہا، پھر
عارف کو۔
اُس کی آنکھوں میں اچانک ایسی روشنی
ابھری جو شاید برسوں بعد آئی تھی۔
”اللہ تجھے سلامت رکھے، بھائی… “
عارف نے فوراً نظریں پھیر لیں۔
یہ دعا اُس کے لیے بہت دیر سے آئی
تھی۔
(3)
اُسی رات ایک بڑے ہوٹل کے باہر اُس نے
سواری اتاری۔ اندر کسی کاروباری تقریب کا شور تھا۔ قہقہے، موسیقی، جگمگاتی
روشنیاں۔
وہ کرایہ گن رہا تھا کہ قریب کھڑے
رپورٹر کی آواز اُس کے کان میں پڑی۔
”سر، آپ کی کامیابی کا راز؟“
سامنے کھڑا نوجوان مہنگے سوٹ میں
ملبوس تھا۔ چہرے پر چمکتی ہوئی مسکراہٹ۔ ہاتھ میں جدید موبائل۔
وہ ہنسا۔
”خوشی کا پیسے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اصل خوشی اندر سے آتی
ہے۔“
قریب کھڑے لوگ تالیاں بجانے لگے۔
عارف ساکت کھڑا رہا۔
اُسے اچانک محسوس ہوا جیسے کسی نے اُس
کے زخم پر انگلی رکھ دی ہو۔
اُس نے اپنی قمیص کے نیچے بندھے نوٹ
محسوس کیے۔
پچاس ہزار۔
اُسی رقم سے کسی کے لیے فلسفہ جنم
لیتا تھا۔
اُسی رقم سے کسی کی بیوی مر جاتی تھی۔
اُس رات پہلی بار عارف نے خواب میں
ثناء کو نہیں دیکھا۔
صرف ایک سفید چوکھٹ دیکھی… اور اُس کے
دونوں طرف کھڑے لوگ۔
ایک طرف قہقہے تھے۔
دوسری طرف سسکیاں۔
(4)
ایک ہفتے بعد، شہر کے پوش علاقے میں
واقع اُس نوجوان کاروباری کے بنگلے کے باہر ایک ڈبہ ملا۔
چھوٹا سا۔
سادہ۔
اندر خون آلود، پھٹے ہوئے نوٹ تھے۔
پورے پچاس ہزار۔
اوپر ایک خط رکھا تھا، پرانی سیاہی سے
لکھا ہوا۔
”تم کہتے ہو خوشی کا پیسے سے کوئی تعلق نہیں۔ میری بیوی کی
سانسوں کی قیمت بھی یہی تھی۔ اب بتاؤ… کون جھوٹ بول رہا تھا؟“
— وہ آدمی جو اسپتال کی چوکھٹ پر بیٹھا تھا”
خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔
پولیس نے تحقیقات شروع کیں، مگر عارف
کہیں نہ ملا۔ اُس کا رکشہ بھی غائب تھا۔ جیسے وہ آدمی کبھی موجود ہی نہ تھا۔
اخبار میں ایک کالم چھپا: ”یہ
کسی مجرم کا خط نہیں۔ یہ اُس طبقے کی چیخ ہے جسے ہم روز مرتا دیکھتے ہیں اور پھر
بھی کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔“
کچھ دن بعد لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ
نوجوان اب کم ہنستا ہے۔
وہ اسپتالوں کو چندے دینے لگا، فلاحی
اداروں کی تصویروں میں آنے لگا، مگر اُس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے گہرے ہوتے گئے۔
کہتے ہیں اُسے ہر سفید دیوار کے پاس
ایک آدمی دکھائی دیتا ہے۔
خاموش۔
گرد آلود کپڑوں میں۔
جس کی جیب میں پچاس ہزار روپے ہیں…
مگر بہت دیر سے۔
اور شاید عارف واقعی کہیں موجود ہے۔
کسی شہر میں۔
کسی سڑک پر۔
کسی اسپتال کے باہر۔
جہاں ایک اور آدمی بے بسی سے کسی
دروازے کو دیکھ رہا ہو۔
کیونکہ بعض اوقات انسان کو مارنے کے
لیے گولی نہیں چاہیے ہوتی۔
صرف ایک بند دروازہ کافی ہوتا ہے۔
اور ہر شہر میں ایک ایسی چوکھٹ ضرور
ہوتی ہے… جہاں دولت اور موت ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔
مرکزی خیال:
یہ افسانہ غربت، طبقاتی بے حسی اور
صحت کے غیر مساوی نظام کے اُس المیے کو سامنے لاتا ہے جہاں انسان کی جان بھی رقم
کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔ “چوکھٹ” صرف اسپتال کی دہلیز نہیں بلکہ دو طبقوں، دو
سچائیوں اور دو انسانی تجربوں کے درمیان کھڑی ایک علامتی سرحد ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
- کوریڈور
— راہداری
- بے رحم
— جس میں رحم نہ ہو
- سسکی —
دبے ہوئے رونے کی آواز
- نحیف —
کمزور، لاغر
- پوش
علاقہ — امیر لوگوں کا رہائشی علاقہ
- فلسفہ
— سوچ یا نظریہ
- دہلیز
/ چوکھٹ — دروازے کا نچلا کنارہ، علامتی حد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں