اِنتِظار
ہر صبح ٹھیک سات بجے وہ پارک کی سب سے پُرانی بینچ پر آ بیٹھتا۔ لوہے کی اُس بینچ کا سبز رنگ جگہ جگہ سے اُکھڑ چکا تھا اور بارش کے بعد اُس میں سے زنگ کی ایک بُو اُٹھتی تھی۔ بوڑھا ہمیشہ سفید کُرتا، خاکی پتلون اور سر پر میلی سی ٹوپی پہنے ہوتا۔ ہاتھوں میں ایک بوسیدہ کاغذ دبا رہتا، جیسے کسی ڈوبتے آدمی نے آخری لکڑی پکڑی ہو۔
پارک کے درخت بھی اب اُس کے معمول سے واقف ہو چکے تھے۔ صبح کی ہوا آتی،
پتے ہلتے، کوّے شور مچاتے، بچے اسکول جاتے، دوڑنے والے پسینہ پونچھتے گزر جاتے…
مگر وہ وہیں بیٹھا رہتا۔ کبھی آہستہ سے کاغذ کھولتا، دیر تک اُسے دیکھتا، پھر بڑی
احتیاط سے تہہ کر کے جیب میں رکھ لیتا، جیسے کاغذ نہیں، کوئی سانس ہو۔
عالیہ کئی دن سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ وہ روز صبح دوڑنے آتی تھی۔ پہلے
اُس نے صرف تجسس سے دیکھا، پھر اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس بینچ کے گرد وقت ذرا
دھیرے چلتا ہے۔
ایک صبح وہ دوڑتے دوڑتے اُس کے سامنے رُک گئی۔
” چچا جان… آپ روز یہاں کس کا انتظار کرتے ہیں؟“
بوڑھے نے گردن اُٹھائی۔ آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی، جیسے بہت پرانا
پانی۔
”کسی کا نہیں بیٹی… وقت کا۔“
عالیہ ہنس دی۔ ”وقت
کا بھی کوئی انتظار کرتا ہے؟“
بوڑھے نے سامنے گرتے ہوئے پتے کو دیکھا۔
”جب وقت رُک جائے نا… تب آدمی اپنی اصل آواز سن
لیتا ہے۔“
عالیہ نے اُسے نیم دیوانہ سمجھ کر کندھے اُچکا دیے، مگر اگلے دن پھر وہ
اُسی بینچ کے پاس آ رُکی۔ آج بوڑھے کے ہاتھ میں کاغذ نہیں، ایک پُرانی تصویر تھی۔
تصویر میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔ بال کھلے ہوئے، ہنسی بےفکر۔
عالیہ نے آہستہ سے پوچھا، ”آپ
کی بیٹی ہے؟“
بوڑھے کی انگلی تصویر کے کنارے پر ٹھہر گئی۔
”تھی… شاید۔“
”شاید؟“
”کچھ رشتے مرنے کے بعد بھی پورے نہیں ہوتے۔“
ہوا میں نمی بڑھ رہی تھی۔ دور مالی گھاس پر پانی دے رہا تھا۔ مٹی کی
خوشبو آہستہ آہستہ پارک میں پھیل رہی تھی۔
”کہاں گئی وہ؟“
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادل بہت نیچے آ گئے تھے۔
”ایک ایسی جگہ… جہاں جانے کے لیے آدمی کو پہلے
خود سے گزرنا پڑتا ہے۔“
عالیہ نے مزید کچھ نہ پوچھا۔
اس دن کے بعد اُن کے درمیان خاموشیوں کی ایک عادت بن گئی۔ عالیہ کبھی
اُس کے لیے چائے لے آتی، کبھی بس چند منٹ اُس کے پاس بیٹھ جاتی۔ بوڑھا کم بولتا
تھا، مگر جب بولتا تو یوں لگتا جیسے لفظ اُس کے اندر بہت دیر سے بند پڑے ہوں۔
ایک دن بارش اچانک ٹوٹ پڑی۔
لوگ درختوں کے نیچے بھاگے۔ دوڑنے والے اپنی گاڑیوں کی طرف لپکے۔ بچے
چیختے ہوئے نکل گئے۔ مگر بوڑھا اُسی بینچ پر بیٹھا رہا۔ بارش اُس کے کندھوں سے بہہ
رہی تھی۔
عالیہ دوڑتی ہوئی اُس تک پہنچی اور چھتری اُس پر تان دی۔
”آپ بھی عجیب ضدی ہیں۔ بیمار ہو جائیں گے۔“
بوڑھے نے پہلی بار اُسے غور سے دیکھا۔
”کچھ لوگ بہت پہلے بیمار ہو جاتے ہیں بیٹی… پھر
بخار صرف جسم کو آتا ہے۔“
واپسی پر عالیہ اُسے اُس کے گھر چھوڑنے گئی۔ گلی تنگ تھی۔ دیواروں سے
نمی جھڑ رہی تھی۔ ایک بلب دروازے کے اوپر پیلی روشنی میں کانپ رہا تھا۔
دروازے پر پہنچ کر بوڑھا رُکا۔
”تمہیں لگتا ہے میں پاگل ہوں؟“
”نہیں۔“
”جھوٹ اچھا بول لیتی ہو۔“
عالیہ مسکرا دی۔
بوڑھے نے جیب سے وہ بوسیدہ کاغذ نکالا، انگلیوں میں دبائے رکھا مگر
کھولا نہیں۔
”ہر اِنتظار کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے… اور ہر
کہانی کے پیچھے ایک گناہ۔“
”آپ نے کیا گناہ کیا تھا؟“
بوڑھے نے دروازہ کھولا۔ اندر اندھیرا تھا۔
”میں نے ایک دن جلدی واپس آنے کا وعدہ کیا تھا۔“
اور وہ اندر چلا گیا۔
اگلے دن بینچ خالی تھی۔
عالیہ نے پہلی بار اُس خالی جگہ کو محسوس کیا۔ جیسے پارک کے بیچ سے
کوئی آواز اُٹھا لی گئی ہو۔ اُس نے خود کو سمجھایا، شاید طبیعت خراب ہو گی۔
مگر دوسرے دن بھی بینچ خالی رہی۔
تیسرے دن اُس نے دوڑنا چھوڑ دیا۔
ساتویں دن وہ اُس گلی میں پہنچی۔ دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اندر سے دھیمی
قرآن خوانی کی آواز آ رہی تھی۔
ایک درمیانی عمر کی عورت سامنے آئی۔
”جی؟“
”وہ… بابا جی… پارک والے… “
عورت کی پلکیں جھک گئیں۔
”ابّا تین دن پہلے گزر گئے۔“
عالیہ کے اندر کچھ آہستہ سے بیٹھ گیا۔
عورت نے الماری سے ایک لفافہ نکالا۔
”یہ آپ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ کہا تھا، اگر وہ
لڑکی آئے تو دے دینا۔“
عالیہ کے ہاتھ کانپ گئے۔
لفافے میں وہی بوسیدہ کاغذ تھا۔
اُس نے کھولا۔
”پیاری بیٹی،
چالیس سال پہلے میری بیٹی اِسی پارک سے گم ہوئی تھی۔ اُس
دن اُس نے ضد کی تھی کہ جھولا مزید جھولنا ہے، اور میں نے کہا تھا، ‘میں ابھی
آیا۔’ آدمی بعض اوقات چند منٹ کے لیے جاتا ہے… اور پوری زندگی واپس نہیں آتا۔
میں ہر روز اُس بینچ پر بیٹھتا رہا۔ پہلے یقین کے ساتھ، پھر عادت کے
ساتھ، پھر سزا کے طور پر۔
پھر ایک دن تم آ گئیں۔
تمہارے ہنسنے میں وہی لاپروائی تھی۔ بارش سے بچتے وقت تم بالکل ویسے ہی
ناک سکیڑتی تھیں جیسے وہ سکیڑتی تھی۔
میں ڈر گیا تھا۔
اس لیے کبھی تمہارا نام نہیں پوچھا۔
مجھے خوف تھا… اگر نام بھی وہی نکلا تو شاید میرا بچا ہوا صبر مر جائے
گا۔“
عالیہ کی آنکھوں سے آنسو کاغذ پر ٹپکنے لگے۔
نیچے ایک اور سطر لکھی تھی۔
”اور ہاں… وہ تصویر میری بیٹی کی نہیں تھی۔“
عالیہ چونک گئی۔
لفافے میں ایک چھوٹی تصویر اور تھی۔
وہ خود تھی۔
پارک کی بینچ کے پاس کھڑی، ہاتھ میں پانی کی بوتل، بال ہوا میں بکھرے
ہوئے۔
تصویر کے پیچھے لکھا تھا: ”بعض لوگ خون کے رشتے نہیں ہوتے… مگر روح اُنہیں پہچان لیتی ہے۔“
عالیہ دیر تک تصویر کو دیکھتی رہی۔ کمرے میں خاموشی تھی۔ صرف دیوار پر
لگی گھڑی کی ٹِک ٹِک۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ لوگ دراصل کسی انسان کا انتظار نہیں
کرتے… وہ اُس لمحے کا انتظار کرتے ہیں جہاں اُن کی ٹوٹی ہوئی زندگی دوبارہ سانس لے
سکے۔
اب ہر صبح سات بجے ایک لڑکی اُس پُرانی بینچ پر آ بیٹھتی ہے۔
لوگ اُسے دیکھتے ہیں۔ کچھ اُسے تنہا سمجھتے ہیں، کچھ اداس۔ مگر وہ
جانتی ہے، ہر بینچ پر بیٹھا شخص کسی اور کا نہیں، اپنے کھوئے ہوئے حصّے کا انتظار
کر رہا ہوتا ہے۔
اور کبھی کبھی…
وقت واقعی ٹھہر جاتا ہے۔
مرکزی خیال:
یہ افسانہ انتظار، گمشدگی، یاد اور انسانی تعلق کی اُس خاموش پیاس کے
بارے میں ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔ بعض رشتے خون سے نہیں بلکہ روح
کی پہچان سے بنتے ہیں۔ انسان اکثر دوسروں میں اپنے کھوئے ہوئے وجود کو تلاش کرتا
رہتا ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
• بوسیدہ — پُرانا اور خستہ
• تجسس — جاننے کی خواہش
• لاپروائی — بےفکری
• سزا کے طور پر — بطور عذاب
• روح — باطنی وجود
• نمی — ہلکی سی تری
• تہہ — موڑ کر بند کرنا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں