اَنگُوٹھے کا نِشان
سردیوں کی دُھند ابھی پوری طرح زمین
پر نہیں اُتری تھی، مگر سیالکوٹ کی گلیاں پہلے ہی دھوئیں، گرد اور تھکن سے اَٹی
پڑی تھیں۔ تھانے کے صحن میں کھڑی سفید وین کے نیچے تیل کی باریک لکیر رینگ رہی
تھی، جیسے کوئی زخمی جانور پوری رات کراہتا رہا ہو۔
راحت نے سگریٹ دانتوں میں دبایا،
آئینے میں اُسے دیکھا اور بےدِلی سے بولا: ”وین نہیں مرتی، عابدہ… آدمی گھِس جاتا ہے۔“
پیچھے بیٹھی اِنْسپکٹر ترسیل فاطمہ —
جِنہیں سب “آپا” کہتے تھے — ایک بوسیدہ فائل کے کنارے سیدھے کر رہی تھیں۔ اُن کے
ناخنوں میں نیلی سیاہی جمی ہوئی تھی۔
نورکوٹ پہنچتے پہنچتے شام زرد پڑ
گئی۔ بازار آدھے کھلے، آدھے سوئے ہوئے تھے۔ دیواروں پر چسپاں اِنتخابی پوسٹر ہوا
میں پھڑپھڑا رہے تھے، جیسے بارش میں بھیگے کفن رسیوں پر ڈال دیے گئے ہوں۔ تھانے کے
اندر نمی اور باسی چائے کی بُو تھی۔ محرر نے فائل میز پر سرکائی۔ ” 302۔ باپ
نے جوان بیٹے کو گولی مار دی۔“ یاسمین
نے چونک کر پوچھا، ”وجہ؟“ محرر نے کندھے اُچکائے۔ “زمین۔“ لفظ مختصر تھا، مگر کمرے
میں دیر تک بجتا رہا۔
حوالات نمبر پانچ میں بوڑھا آدمی
زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ سفید داڑھی میں گرد اٹکی ہوئی تھی۔ دائیں ہاتھ
کے اَنگُوٹھے پر نیلی سیاہی کا دھبہ جما تھا اور آستین پر سوکھے خون کے چھینٹے
ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی نے بےدھیانی میں سرخ رنگ پھینک دیا ہو۔ وہ مسلسل سامنے
دیوار کو دیکھ رہا تھا… جیسے وہاں کوئی کھڑا ہو۔ ”نام؟“
”عبدالمجید۔“
”بیٹے کو کیوں
مارا؟“ بوڑھے نے فوراً جواب نہ
دیا۔ پہلے ہتھیلی کو دیر تک گھورتا رہا، پھر آہستہ بولا: ”میں نے نہیں مارا… زمین نے مارا ہے۔“ کمرے میں جیسے سانس رک گئی۔ وہ ہلکا سا کھنکارا اور دیوار سے ٹیک لگا
لی۔
”پہلے
وہ میرے ساتھ کھیت جاتا تھا۔ مٹی ہاتھ پر لگتی تو ہنستا رہتا۔ کہتا، بابا… ہمارے
ہاتھوں میں خوشبو رہتی ہے۔“ اُس
کے ہونٹوں پر ایک بجھی ہوئی مسکراہٹ آئی اور فوراً مر گئی۔ ”پھر اُس کی شادی ہو گئی۔“ خاموشی۔
”اور اُس نے
ہاتھ دھونا شروع کر دیے۔“
یاسمین نے سگریٹ سلگائی، مگر کش لیے
بغیر ہی راکھ جھاڑ دی۔
بوڑھا بولتا رہا، ”روز ایک کاغذ لاتا۔ کہتا، اَنگُوٹھا لگا
دو۔ میں کہتا، پتر… زمین بانٹ دوں گا، مگر قبر میں کہاں لے جاؤ گے؟“ اُس کی آواز اب ریت کی طرح خشک ہو رہی تھی۔
”کل رات بندوق
لے آیا۔ اُس کی عورت باہر صحن میں کھڑی تھی۔ کہنے لگا، آج اَنگُوٹھا لگاؤ… یا گھر
چھوڑ دو۔“ بوڑھے نے اپنے اَنگُوٹھے
کو یوں دیکھا جیسے پہلی بار دیکھا ہو۔ ”میں
نے صرف بندوق نیچے کرنے کی کوشش کی تھی…“
اُس نے جملہ اَدھورا چھوڑ دیا۔ کمرے
میں لٹکا پنکھا چرچراتا رہا۔ رات گئے آپا فائل پڑھتی رہیں۔ باہر آوارہ کتے وقفے
وقفے سے بھونکتے تھے۔ راحت نے چائے کا کپ میز پر رکھا۔
”آپا… سچ بول
رہا ہے؟“
آپا نے عینک اُتاری۔ آنکھوں کے گرد
نیند کے نیلے حلقے تیر رہے تھے۔
”تھانے میں سچ
کبھی اکیلا نہیں آتا، راحت۔ اُس کے ساتھ یا خوف ہوتا ہے، یا لالچ… یا پچھتاوا۔“ پھر اُنہوں نے فائل بند کر دی۔
”لیکن ایک بات
صاف ہے…“ وہ
کچھ دیر خاموش رہیں۔
”گھر پہلے ٹوٹا
تھا، گولی بعد میں چلی۔“
صبح واپسی کے وقت دھند اور گہری ہو
چکی تھی۔ کھیتوں میں کہیں کہیں کسان ہل چلا رہے تھے۔ ایک جگہ ایک آدمی اپنے چھوٹے
بیٹے کو کندھے پر بٹھائے مٹی اُلٹ رہا تھا۔ بچہ دونوں ہاتھوں سے اُس کے سر کو پکڑے
ہنس رہا تھا۔
راحت نے بےاختیار گاڑی آہستہ کر
دی۔وین میں دیر تک کوئی نہ بولا۔ پھر عابدہ نے دھیرے سے کہا: ”عجیب بات ہے نا… بچپن میں باپ کے کندھے
پر بیٹھنے والا بیٹا، بڑا ہو کر اُسی کے سینے پر چڑھ جاتا ہے۔“
کسی نے جواب نہیں دیا۔ صرف شیشے پر
جمتی دھند انگلیوں کی طرح پھیلتی رہی۔ تھانے پہنچ کر آپا نے فائل الماری میں رکھی
تو ایک دستاویز پھسل کر نیچے آ گری۔ کاغذ پر سرخ سیاہی میں اَنگُوٹھے کا نشان ثبت
تھا۔ آپا دیر تک اُسے دیکھتی رہیں۔
”عجیب چیز ہے
یہ اَنگُوٹھا بھی…“
میں نے پوچھا: ” کیا؟“
اُنہوں نے کاغذ روشنی کے سامنے کیا۔
”انسان مر جاتا
ہے… نشان زندہ رہ جاتے ہیں۔“
اِسی لمحے باہر شور بلند ہوا۔ مرنے والے
لڑکے کے رشتے دار تھانے کے دروازے پر کھڑے چیخ رہے تھے، ”زمین ہماری ہے!“
آپا نے کھڑکی بند کر دی، مگر آوازیں
اندر آتی رہیں۔اور حوالات نمبر پانچ میں بیٹھا بوڑھا اپنے اَنگُوٹھے کو یوں دیکھ
رہا تھا جیسے اُسے پہلی بار احساس ہوا ہو کہ انسان کے جسم پر سب سے بھاری چیز شاید
یہی ایک نشان ہوتا ہے۔
------
مرکزی خیال
یہ افسانہ زمین، وراثت اور ملکیت کی
ہوس کے ہاتھوں ٹوٹتے ہوئے خونی رشتوں کی کہانی ہے، جہاں ایک اَنگُوٹھے کا نشان محض
قانونی تصدیق نہیں رہتا بلکہ انسان کے ضمیر، محبت اور خاندان کے بکھرنے کی علامت
بن جاتا ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی
|
الفاظ |
معنی |
|
بوسیدہ |
پُرانا، خستہ |
|
مُصحف |
قرآنِ مجید |
|
حوالات |
تھانے میں قیدی رکھنے کی جگہ |
|
چسپاں |
چپکایا ہوا |
|
آلتی
پالتی |
دونوں
ٹانگیں موڑ کر بیٹھنے کی حالت |
|
ثبت |
نقش
ہونا، لگ جانا |
|
حلقے |
آنکھوں
کے گرد سیاہ نشان |
|
چرچراتا |
کڑکڑاہٹ
جیسی آواز نکالنا |
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں