آپ نَہ ہُود

 ہَوا میں ایک عجیب سی بجلی گھُلی ہوئی تھی۔ وہ آسمانی بجلی نہیں تھی جو بادلوں کو چیرتی ہے، بلکہ وہ باریک، خفیف سنسناہٹ تھی جو آدمی کی جِلد کے نیچے رینگتی رہتی ہے۔ راہی نے اپنا کوٹ ذرا اور سمیٹا اور خاموشی سے گاڑی سے نیچے اُتر آیا۔ سامنے زنگ آلود بورڈ پر مدھم حروف اب بھی باقی تھے: سیلینٹ ویلیاور اُس کے نیچے ایک جملہ، جو نمی اور وقت کے باوجود صاف پڑھا جا سکتا تھا: یہاں آواز مر جاتی ہے۔”

راہی نے ایک لمحے کو وادی کی طرف دیکھا۔ دُور تک پھیلی ہوئی دھند، بے حرکت درخت، اور اُن کے درمیان ایسی خاموشی جو سکون نہیں دیتی تھی بلکہ آدمی کے اندر کسی پوشیدہ اضطراب کو جگا دیتی تھی۔ وہ خاموشی جو کانوں میں بَجتی ہے۔ وہ یہاں ایک گمشدہ سائنس دان، ڈاکٹر عرفان کی تلاش میں آیا تھا؛ وہی ڈاکٹر عرفان جو آواز کے غار” کے متعلق تحقیق کرتے کرتے خود لاپتا ہو گیا تھا۔

راہی نے قدم آگے بڑھائے۔ چند ہی لمحوں بعد اُسے احساس ہوا کہ اُس کے جوتوں کی چاپ بھی غائب ہو چکی ہے۔ اُس نے رُک کر انگلیاں چٹخائیں۔ کوئی آواز پیدا نہ ہوئی۔ اُس نے اپنا نام پکارا، مگر لفظ حلق سے نکل کر جیسے فضا میں تحلیل ہونے سے پہلے ہی مر گیا۔ اُسے بے اختیار ڈاکٹر عرفان کی ڈائری کا ایک جملہ یاد آیا: سَفر کی سِمت ہمیشہ آدمی کے اپنے ہاتھ میں رہتی ہے۔مگر یہاں تو سِمتوں کا احساس بھی مدھم پڑنے لگا تھا۔ درخت ساکت کھڑے تھے۔ ہَوا چل رہی تھی، مگر اُس کی سرسراہٹ موجود نہ تھی۔ سب سے خوف ناک بات یہ تھی کہ راہی اپنی سانسوں کی آواز تک نہیں سُن پا رہا تھا۔ اُس نے بیگ سے ہیڈفون نکالے۔ یہ ایک خاص آلہ تھا جو ڈاکٹر عرفان کے آخری سگنل سے جُڑنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ہیڈفون کانوں پر رکھتے ہی اُسے ایک مدھم، مسلسل ارتعاش سنائی دیا: دھم… دھم… دھم… یہ انسانی دل کی دھڑکن نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے زمین خود سانس لے رہی ہو۔

سگنل اُسے وادی کے اندر ایک شکستہ عمارت تک لے گیا۔ عمارت کے ٹوٹے ہوئے دروازے پر زنگ خوردہ تختی لٹک رہی تھی: اولڈ ریسرچ لیباندر اندھیرا تھا۔ راہداری آہستہ آہستہ ایک سرنگ میں بدل گئی۔ دیواروں پر نمی تھی اور فضا میں ایک بے نام گھٹن۔ راہی کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ زمین کے نیچے نہیں، اپنے ہی ذہن کے کسی بھولے ہوئے حصّے میں اُتر رہا ہو۔ سرنگ کے آخری سِرے پر ایک فولادی دروازہ تھا۔ اُس پر عجیب لفظ کندہ تھے: آپ نَہ ہُود”

راہی چند لمحے اُن لفظوں کو دیکھتا رہا، پھر اُس نے دروازہ دھکیل دیا۔ کمرہ چھوٹا تھا، مگر اُس کی خاموشی غیر معمولی تھی۔ درمیان میں شیشے کا ایک گول ڈوم رکھا تھا، جس کے اندر سفید دھند مسلسل گردش کر رہی تھی۔ ڈوم کے سامنے ایک کرسی پر ڈاکٹر عرفان بیٹھے تھے۔ اُن کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ چہرے پر نہ خوف تھا نہ سکون، صرف ایک گہری تھکن۔

راہی اُن کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک ایک آواز اُس کے ذہن میں گونجی۔ خوش آمدید… وہ چونک گیا۔ یہ آواز کانوں سے نہیں، براہِ راست اُس کے شعور میں اُتری تھی۔تم آخرکار خود کو سُننے یہاں آ ہی گئے۔ یہ ڈاکٹر عرفان کی آواز نہیں تھی۔ بلکہ یوں لگتا تھا جیسے ہزاروں آوازیں ایک دوسرے میں گھل گئی ہوں۔ رونے، ہنسنے، خوف، ندامت، خواہش اور تنہائی کی آوازیں۔

راہی نے محسوس کیا کہ ڈوم کے اندر گردش کرتی دھند محض دھند نہیں تھی۔ وہ جیسے انسانی شور کا نچوڑ تھی۔ ڈاکٹر عرفان کی نظریں آہستہ آہستہ اُس کی طرف اٹھیں۔ یہ آواز کا غار نہیں… اُن کے ہونٹ بمشکل ہلے، …خاموشی کا مرکز ہے۔ راہی ساکت کھڑا رہا۔ عرفان نے دھیرے سے کہا: یہ جگہ باہر کی تمام آوازیں جذب کر لیتی ہے… پھر آدمی کو اُس کی اپنی آواز کے سامنے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ کمرے کی خاموشی مزید گہری ہو گئی۔

شروع میں مجھے لگا تھا یہی سکون ہے۔ دنیا کے شور سے آزادی۔ مگر انسان زیادہ دیر صرف اپنے اندر نہیں رہ سکتا۔ ایک وقت آتا ہے جب اُس کی اپنی آواز بھی اُسے کھانے لگتی ہے۔

راہی نے ڈوم کی طرف دیکھا۔ سفید دھند اب تیزی سے گردش کر رہی تھی۔ پھر وہی ہزاروں آوازوں کا سنگم اُس کے ذہن میں ابھرا: یہیں رہ جاؤ… یہاں باہر کی دنیا تمہیں زخمی نہیں کرے گی…

ایک لمحے کے لیے راہی کے اندر واقعی خواہش جاگی کہ وہ یہیں ٹھہر جائے۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی بے یقینی، نہ لوگوں کی آوازیں۔صرف خاموشی۔صرف اپنا آپ۔مگر اگلے ہی لمحے اُسے احساس ہوا کہ مکمل خاموشی بھی ایک قید ہو سکتی ہے۔اُس نے آگے بڑھ کر ڈوم کو چھو لیا۔اچانک ایک شدید ارتعاش پورے کمرے میں پھیل گیا۔خاموشی ٹوٹ گئی۔ایک ہی لمحے میں ہزاروں آوازیں پھٹ پڑیں۔ چیخیں، قہقہے، رونے کی آوازیں، بچوں کی ہنسی، ٹوٹتے برتن، بارش، اذان، ٹریفک، ہوا… راہی نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اُسے لگا جیسے پوری دنیا ایک ساتھ اُس کے اندر اُتر آئی ہو۔ اِسی شور میں ڈاکٹر عرفان کی آواز سنائی دی: خاموشی علاج نہیں ہے… سُننا علاج ہے۔

ڈوم میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ سفید دھند آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگی۔ کمرے میں پہلی بار حقیقی ہَوا محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر عرفان کرسی سے اُٹھے۔ اُن کی آنکھوں کی ویرانی کچھ کم ہو چکی تھی۔ اُنہوں نے راہی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ راہی نے اُن کا ہاتھ تھام لیا۔ اب وہ اپنی سانسوں کی آواز سُن سکتا تھا۔ اپنے دل کی دھڑکن بھی۔ دونوں سرنگ سے باہر نکل آئے۔

وادی کی خاموشی ٹوٹ چکی تھی۔ درختوں میں ہَوا کی سرسراہٹ واپس آ گئی تھی۔ کہیں دُور پرندے بول رہے تھے۔

راہی نے پلٹ کر آخری بار اُس دروازے کو دیکھا: آپ نَہ ہُود اور اُسے اچانک اُس کا مفہوم سمجھ آ گیا۔ یہ صرف ایک لفظی معمّا نہیں تھا۔  آپ — یعنی آدمی کا اپنا وجود۔ نَہ ہُود — یعنی وہ حالت جب انسان اپنے اندر کی سچّی آواز سُننا چھوڑ دے۔

وہ وادی دراصل ایک تنبیہ تھی: اگر آدمی صرف دنیا کے شور سے بھاگتا رہے اور کبھی اپنے باطن کا سامنا نہ کرے، تو وہ اندر سے خالی ہو جاتا ہے۔ باہر نکل کر راہی نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ ریڈیو پر ایک پُرانا گانا چل رہا تھا۔ اُس نے آواز آہستہ سے بڑھا دی۔ اب شور اُسے خوف ناک نہیں لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر عرفان ساتھ والی نشست پر خاموش بیٹھے تھے اور کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے۔ راہی نے سڑک پر نظریں جمائیں۔ پانی چاہے کتنا ہی بے قرار کیوں نہ ہو جائے، کشتی کا پتوار آخرکار آدمی کو خود ہی تھامنا پڑتا ہے۔

---

 

مرکزی خیال

یہ افسانہ انسان کے باطنی خوف، ذہنی شور، تنہائی، اور اُس خاموشی کے بارے میں ہے جسے لوگ سکون سمجھ بیٹھتے ہیں۔ افسانہ یہ بتاتا ہے کہ مکمل خاموشی نجات نہیں، بلکہ اپنے اندر اور باہر دونوں آوازوں کو قبول کرنا اصل شعور ہے۔ انسان دنیا کے شور سے بھاگ کر خود سے نہیں بچ سکتا۔

---

 

مشکل الفاظ کے معنی

لفظ

معنی

ارتعاش

لرزش، تھرتھراہٹ

مدھم

دھیمی، ہلکی

ساکت

بالکل خاموش

نچوڑ

خلاصہ، حاصل

تنبیہ

خبردار کرنا 

شعور

آگہی، سمجھ

معمّا

پہیلی

اضطراب

بے چینی

تحلیل

ختم ہو جانا، بکھر جانا

 

---------------

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد