مونا

مجھے شعبہ تدریس سے وابستہ بیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران میں نے بہت سے بچوں کو علم کے نور سے منور کیا ہے۔ ان بیس سالوں میں میرے بہت سے شاگرد ہوئے ہیں اب اگر ان میں سے کوئی میرے سامنے بھی آئے تو میں اس کے نام اور شکل سے بھی واقف نہیں ہوگا لیکن چند ایک طالب علم ایسے بھی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی یاد نہیں مٹتی وہ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ شاید وہ یاد رہنے کے قابل ہوتے ہیں، ایسے ہی شاگردوں میں سے میری ایک ہونہار شاگرد مونا بھی تھی جس کی موت کا سن کر مجھے شدید صدمہ ہوا ہے اور میرے ہاتھ آج زندگی میں پہلی بار اپنی ذاتی ڈائری لکھنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
یہ آج سے بیس برس پہلے کا واقعہ ہے جب میں بی اے کرنے کے بعد نہ صرف اپنے گھر پر بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا تھا بلکہ کچھ طالب علموں کو ان کے گھر جا کر بھی پڑھایا کرتا تھا۔ ایک روز بادل کھل کر برسے تھے اور بارش رکنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ اس وقت میں اپنے شاگرد کو پڑھانے اس کے گھر گیا ہوا تھا چنانچہ میں بارش رکنے کا خیال کرکے اپنے اسی شاگرد کے ہاں رک گیا اور کافی دیر بارش رکنے کا انتظار کرتا رہا لیکن بارش تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ مجھے بارش رکنے کا انتظار کرتے کرتے رات کے دس بج چکے تھے چنانچہ میں نے مجبوراً بارش میں ہی اپنے گھر کی راہ لی۔ بارش میں تو میں گھر کے لیے نکل آیا تھا لیکن بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے کے سبب مجھے کوئی سواری نہیں مل سکی تھی چنانچہ میں پیدل ہی گھر کی راہ پر چل پڑا تھا۔ پیدل گھر آنے کے لیے مجھے شارٹ کٹ راستوں کا انتخاب کرنا پڑا تھا تاکہ میں کم سے کم راستوں سے ہوتا ہوا اپنے گھر پہنچ سکوں، انہی شارٹ کٹ راستوں میں سے میرا گزر قبرستان سے بھی ہونا تھا جب میں قبرستان کے نزدیک پہنچا تو اس وقت بارش کا زور کافی حد تک ٹوٹ چکا تھا لیکن بارش برس ضرور رہی تھی اور جب میں قبرستان کے اندر داخل ہوا تو میرے کانوں نے لڑکی کی آواز سنی وہ کسی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی چنانچہ میں ٹھٹھک گیا کہ اتنی رات گئے اور اس طوفانی بارش میں ناجانے کون لڑکی کو لے کر قبرستان میں آگیا ہے۔ دوسرا میرے ذہن میں یہ بھی خیال ابھر رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس لڑکی کو کوئی بہلا پھسلا کر بری نیت سے قبرستان میں لے آیا ہو کیونکہ پچھلے ہفتے ہی اس قبرستان میں ایک نوعمر لڑکی کی لاش ملی تھی جس کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کی بنا پر میں سمجھ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے اس لڑکی کو بھی ویسی ہی نیت سے نہ لایا گیا ہو۔ چنانچہ میں محتاط انداز سے قبرستان کے چاروں طرف دیکھنے لگا کہ کہیں کوئی مشکوک شخص نظر تو نہیں آرہا اور ساتھ ساتھ میں آنے والی آواز کی سمت بھی دیکھتا کیونکہ قبرستان میں اندھیرا تھا جس کی وجہ سے مجھے آواز کی ٹھیک سمت کی طرف دیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ چنانچہ میں ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچا تھا کہ مجھے لڑکی کا ہویلا دکھائی دیا وہ بارش کی وجہ سے بھیگ چکی تھی اور جلد جلد قدم اٹھاتی ہوئی قبرستان کی حدود سے باہر نکل رہی تھی۔ میں نے لڑکی کا پیچھا کرنا مناسب نہ سمجھا ہاں البتہ میں قبرستان میں ہی اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں سے وہ مجھے دکھائی دی تھی۔ میں اس شخص کو پکڑنا چاہتا تھا جس کے ساتھ وہ ملاقات کرنے کے لیے اتنی رات گئے یہاں آئی تھی لیکن بسار کوشش کے باوجود میری کوشش رائیگاں گئی اور مجھے کہیں بھی کوئی شخص نظر نہ آیا ہاں البتہ جس قبر کے پاس بیٹھ کر وہ کسی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی وہاں پر صرف ایک ہی شخص کے قدموں کے نشان تھے جو اسی لڑکی کے معلوم ہو رہے تھے۔ قبرستان مِیں مَیں کسی دوسرے شخص کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا اور مایوس ہوکر قبرستان سے باہر نکل آیا کہ اچانک میری نظر اسی لڑکی پر پڑ گئی جو شاید قبرستان کے سامنے والی گلی میں پانی کھڑا ہونے کے سبب دوسری گلی سے ہوتی ہوئی بڑی سڑک کی طرف چلی جا رہی تھی چنانچہ اُس لڑکی پر نظر پڑتے ہی میں نے نہ آﺅ دیکھا نہ تاﺅ سیدھا اس کے پیچھے چل پڑا اور میرا خیال بالکل ٹھیک تھا کہ وہ لڑکی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے دوسری گلی سے ہو کر آئی تھی۔ میں دو دو فٹ کھڑے پانی سے گزر کر تیز تیز ڈگ بھرتا ہوا لڑکی کے پاس پہنچنے ہی والا تھا کہ اچانک کسی نے میرا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ راستہ روکنے والے کا وجود میری آنکھوں سے اوجھل تھا۔ میں اس کی کوشش کو محسوس تو کرسکتا تھا لیکن اس کا وجود دیکھ نہیں پاتا تھا پہلے تو میں اس کو اپنا وہم تصور کرتا رہا اور مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہا کہ اچانک نہ نظر آنے والے وجود نے مجھ پر گھونسوں اور تھپڑوں کی بارش کر دی۔ اس کے گھونسوں اور تھپڑوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ جو سایہ ہے یقیناً کسی مرد کا سایہ ہے۔ میں سائے کی مار سے نڈھال ہو کر سائے کی منت سماجت کرنے لگا۔ میری آہ و زاری سُن کر اَروس پڑوس کے لوگ اکٹھے ہوگئے جس کی وجہ سے شاید اس سائے نے مجھے مارنا پیٹنا چھوڑ دیا تھا چنانچہ لوگوں کے پوچھنے پر میں نے ان کو بتایا کہ پھسلن کی وجہ سے گر گیا تھا۔ میرے اندر اٹھنے کی ہمت نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے میرے اندر سے آہ و زاری نکل پڑی تھی۔ چنانچہ لوگوں نے مجھے پانی پلا کر اس قابل کر دیا کہ میں اپنی منزل تک پہنچ سکوں۔ اتنی مار کھانے کے بعد میں مزید اس لڑکی کا پیچھا نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی اب اس کی خواہش تھی کیونکہ مجھے یہ یقین ہوچکا تھا کہ وہ لڑکی کسی مرد سے ملنے کے لیے نہیں بلکہ کسی روح سے ملنے کے لیے گئی تھی یا پھر وہ لڑکی روح ہی تھی جو کچھ بھی تھا میں اس کو اپنا وہم جان کر ڈرا ڈرا گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر کے سارے راستے چلتے ہوئے مجھے یہ خیال ستاتا رہا کہ کہیں پھر وہ روح دوبارہ مجھ پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ اپنے اندر کے ڈر کو دور کرنے کے لیے میں نے درود شریف کا ورد شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے میرے اندر کا خوف قدرے کم ہوگیا تھا لیکن ختم نہیں ہوا تھا اور گھر جا کر میں سیدھا کچھ کھائے پیئے بغیر اپنے بستر پر دراز ہوگیا۔
اس واقعے کو گزرے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے کہ مجھے نامور اکیڈمی میں ایوننگ ٹائم میں پڑھانے کی ملازمت مل گئی۔ اکیڈمی میں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ وہی لڑکی جس کو میں نے قبرستان میں دیکھا تھا اور جس کا پیچھا کرتے ہوئے مجھے کسی سائے نے خوب مارا پیٹا تھا وہ میری کلاس میں زیرِتعلیم ہے۔ پہلے تو میں اس سے بات کرنے سے ہچکچاتا تھا کہ نہ جانے پھر وہی روح ناراض ہو کر اسی کلاس روم میں مجھے مارنے پیٹنے ہی نہ لگ جائے۔ لیکن رفتہ رفتہ میں نے اپنے خوف پر قابو پایا اور اس سے قبرستان والے واقعے کے مطلق جاننے پر آمادہ ہوگیا۔ پہلے پہل تو وہ لڑکی مجھ سے اس موضوع پر بات کرنے سے کترا رہی تھی لیکن جب میں نے اس کو اعتماد میں لے کر اپنی کہانی اور روح کا تذکرہ کیا تو وہ یہ اقرار کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ وہ میں ہی تھی جو اس رات قبرستان میں گئی تھی لیکن میں کسی غلط مقصد اور ارادے کے ساتھ نہیں گئی تھی بلکہ اپنے باپ کی روح سے ملاقات کرنے کے لیے گئی تھی۔
جب اس نے روح کا تذکرہ کیا تو میرے اندر اشتیاق ابھرا کہ میں اس سے پوری کہانی سنوں لیکن وہ اپنی کہانی کسی بھی صورت میں سنانا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے اس کے اعتماد میں مزید اضافہ کیا اور اسے یقین دلایا کہ اگر تم سمجھتی ہو کہ میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں تو مجھے ضرور بتا دوں۔ میں اگر تمہارے کسی کام نہ آسکا تو تجھے اپنی چھوٹی بہن سمجھتے ہوئے اچھا مشورہ ضرور دے دوں گا۔ اگر تم مجھ پر اعتبار اور اعتماد کرتی ہو تو مجھے ضرور ضرور اس واقعے کے متعلق بتا دو اور تمہاری کہی ہوئی بات میرے سینے میں رہے گی۔ لہٰذا وہ مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے مجھے اپنی کہانی سنانے لگی۔
اس نے مجھے بتایا کہ میرے باپ کو میری ماں اور دادا نے مل کر مارا ہے۔ اس الزام کا اس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا لیکن پھر بھی اسے پختہ یقین تھا کہ اس کا باپ اپنی بیوی اور اپنے سگے باپ کی سازش کے نتیجے میں مارا گیا ہے۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ تم کس بنا پر اتنی بڑی بات کہہ سکتی ہو تو اس نے بتایا ایک روز میں اپنے باپ کی قبر پر گئی تو وہاں پر میرے باپ کی روح مجھ سے باتیں کرنے لگ پڑی پھر میں ہر جمعرات کی شام قبرستان پر چلی جاتی اور گھنٹوں اپنے باپ کی روح کے ساتھ باتیں کیا کرتی۔ میرے باپ کی روح نے ہی مجھے بتایا تھا کہ میں اپنی بیوی اور باپ کی سازش کا شکار ہوا ہوں کیونکہ میں نے ان دونوں کو نازیبا حرکات کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور انہوں نے مجھے پکڑ کر میرا گلا گھونٹ کر مار ڈالا اور عنقریب تجھے بھی مارنے والے ہیں۔
میں نے اس کے الزام کی تصدیق بھرپور انداز سے لیکن خفیہ طریقے سے کی لیکن مجھے ایسی کوئی شہادت نہیں ملی تھی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مونا کی ماں اور اس کے دادا کے درمیان کوئی ناجائز تعلقات استوار ہے اور نہ ہی مونا کے پاس کوئی ایسی ٹھوس شہادت موجود تھی جس سے اس کے شک کو تقویت ملتی ہو۔ جب کوئی ثبوت ہی موجود نہیں تھا تو میرا استاد کی حیثیت سے یہ فرض بنتا تھا کہ میں اس کو سمجھاﺅ کہ خواہ مخواہ اپنی ماں اور دادا پر شک کرنا مناسب نہیں ہے چنانچہ میں نے اس کو یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کی کہ تم کو قبر پر کوئی شیطانی سایہ ملتا ہے جو تمہیں بہکاتا ہے لہٰذا تم کو اس سے بچنا چاہیے اور آئندہ سے قبرستان کا رُخ نہیں کرنا چاہیے، ویسے بھی اتنی رات کو تو کوئی مرد بھی قبرستان میں فاتحہ خوانی کے لیے نہیں جاتا۔ سو تم کو قبرستان میں جانے سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس شیطانی سائے کی ہر بات کو درست تسلیم نہیں کرنا چاہیے لہٰذا تم کو ڈاکٹروں کی رائے کو سچ مان لینا چاہیے کہ تمہارا باپ واقعی اچانک ہارٹ اٹیک کی بنا پر انتقال فرما چکا ہے۔ میں نے اپنی بات عقل کی بنیاد پر سمجھانے کی کوشش کی جس کی بنا پر اسے میری بات کی سمجھ آگئی اور آئندہ سے اس نے قبرستان میں چوری چھپے جانے سے اجتناب کرلیا۔
اِسی سال مجھے سرکاری سکول میں ملازمت مل گئی اور میں دوسرے شہر ملازمت کے لیے چلا گیا۔ پھر ملازمت میں ہی دن، مہینے، سال گزرتے رہے اب جب میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہا ہوں تو میری ترقی ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر کرکے محکمے نے مجھے میرے ہی آبائی شہر کے سکول میں ہیڈ ماسٹر بنا پر بھیج دیا۔
ایک روز میں سکول سے واپسی پر گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک راستے میں مجھے ایک عورت مل گئی اس نے مجھے نہایت ادب سے سلام کرنے کے بعد کہا کہ سر میں آپ کی پرانی شاگرد ہوں اور آپ کو سلام کرنے کے لیے رک گئی تھی۔ علیک سلیگ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ میرے اکیڈمی والے زمانے کی طالب علم ہے جہاں میں سرکاری ملازمت ملنے سے پہلے پڑھایا کرتا تھا یہاں پر میں بامشکل ایک سال ہی پڑھا پایا تھا کہ مجھے سرکاری ملازمت مل گئی تھی۔ اسی اکیڈمی میں میری مونا بھی شاگرد تھی جس کو میں نے قبرستان میں پہلی بار دیکھا تھا لہٰذا میرے ذہن میں خیال ابھرا کہ ہو نہ ہو یہ مونا کو بھی اچھی طرح سے جانتی ہو، اس لیے میں اس سے مونا کے متعلق پوچھنے لگا تو اس نے سرد آہ بھر کہا:
”سر وہ تو میٹرک کا امتحان دے رہی تھی کہ اس کا انتقال ہوگیا۔“
میں ششدر رہ گیا اور فوراً اس نے پوچھنے لگا:
”کیسے؟“
”سر میں کیا بتاﺅں آپ کو بتاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہو رہی ہے۔“
”بیٹا اصل بات بتاﺅ استاد کا رتبہ باپ کے برابر ہوتا ہے۔“
”سر اخبارات کے ذریعے میرے علم میں یہ بات آئی تھی کہ اس کی ماں کے کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جس کی بنا پر اس نے اپنے سسر اور بیٹی کو اپنے آشنا کے ساتھ مل کر قتل کر دیا اور اپنے سسر کی تمام جائداد سمیٹ کر ملک سے فرار ہوگئی۔“
وہ عورت مونا کے متعلق یہ باتیں بتا کر چلی گئی لیکن مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر گئی کہ کیا میں نے مونا کو اپنے باپ کی قبر پر جانے سے روک کر غلطی کی تھی کیونکہ وہ اس کو پل پل کی خبریں پہنچا دیا کرتا تھا۔
—————

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد