نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اندھیرے کا قرض

وہ قرض جو روشنی میں نہیں نپتا — اندھیرے کی زکوٰۃ کہہ لیجیے۔




وہ چھت پر بیٹھا تھا۔

نیچے شہر کی روشنیاں — تھرتی، بجھتی، پھر جلتی۔

اوپر تارے۔ بےآواز۔


کبھی اونچا دیکھتا، کبھی نیچے۔

درمیان میں صرف خلا تھا — اور ایک بےنام سی خاموشی۔


باہر، راستے پر، ایک بچہ کھڑا تھا۔

اندھیرے میں صرف اس کے جوتے چمک رہے تھے۔ پرانے۔ پالش شدہ۔

اس نے اوپر دیکھا۔

نہ آواز دی، نہ ہاتھ ہلایا۔

بس دیکھتا رہا — جیسے کہہ رہا ہو: میں انتظار نہیں کر رہا، میں پہچان رہا ہوں۔


آدمی نے چھت سے ایک لمبا پائپ نیچے لٹکایا۔

سٹیل کا، کھوکھلا، اندر سے سرد۔

بچے نے اسے پکڑا۔

پکڑا اور ٹھہر گیا — جیسے تول رہا ہو۔

پھر، دھیمی اُنگلیوں سے، پائپ کے اندر کچھ رکھا۔

اور چلا گیا۔

بغیر مڑے۔


آدمی نے پائپ اٹھایا۔

اندر ایک کاغذ کا پرانا نوٹ تھا — چھوٹے ہاتھوں سے مڑا ہوا، کونوں پر نمی۔

نوٹ پر لکھا تھا:


"تم نے مجھے اندھیرا دیا تھا۔ یہ اس کا سود ہے۔"


اس نے نوٹ پلٹا۔

دوسری طرف کچھ نہ تھا۔

خالی۔

مگر خالی اتنا بھاری کہ سانس رک گئی۔


نوٹ سینے سے لگا لیا۔

کوئی آواز نہیں نکلی۔

نہ سسکی، نہ آہ۔

صرف ہاتھ کپکپائے — جیسے کسی ٹوٹے برتن کو جوڑ رہا ہو۔


پھر اس نے اٹھ کر چھت کے ایک کونے سے ایک پرانا مٹی کا دیا اٹھایا — جو کبھی اس کی ماں جلایا کرتی تھی۔

اس میں تیل نہ تھا، نہ بتی۔

دیے کو ہاتھوں میں لے کر وہ تھوڑی دیر کھڑا رہا۔

پھر اسے نیچے رکھ دیا — بالکل اسی جگہ جہاں سے اس نے پائپ لٹکایا تھا۔

خالی دیا۔

منہ آسمان کی طرف۔


بارش شروع ہو گئی۔

پہلے ہلکی — چھت کو چھونے میں شرماتی ہوئی۔

پھر تیز۔ ایسی کہ پتے چیخنے لگے۔

بچہ جا چکا تھا۔ صرف جوتوں کے نشان تھے — اور وہ بھی دھلتے۔


آدمی نے پائپ کو احتیاط سے توڑا۔

آدھا اپنے پاس رکھا — کھوکھلا سٹیل، جیسے یادداشت کا سن۔

آدھا نیچے رکھ دیا — جہاں کبھی کوئی اسے دیکھ لے۔

دیکھے تو جانے: یہاں کوئی اندھیرا بیچ کر گیا ہے۔


شہر کی روشنیاں بجھنے لگیں۔

پہلے دور والی، پھر قریب والی۔

صرف ایک کھڑکی میں چراغ جل رہا تھا۔

اور اس کا سایہ — دیوار پر بیٹھی چڑیا کی مانند — چونچ میں ایک خاموش قرض لیے۔


اس کھڑکی کے نیچے، چھت پر، وہ مٹی کا خالی دیا بارش میں بھیگ رہا تھا۔

اور اس کے اندر — پانی کھڑا ہو گیا تھا۔

اتنا صاف کہ اس میں تارے دکھائی دیتے تھے۔


---


مرکزی خیال


احسان کا حقیقی وزن اس کی خاموشی میں ہے — جب تم کسی کی مدد کرتے ہو بغیر اسے احساس دلائے، تو وہ مدد قرض بن جاتی ہے جو کبھی بھی، کسی بھی شکل میں، واپس آ سکتی ہے۔ یہاں خالی دیا، جو پانی سے بھر کر آئینہ بن جاتا ہے، کہتا ہے: وہی جو جلتا نہیں، وہی دوسروں کی روشنی دیکھ سکتا ہے۔


مشکل الفاظ کے معنی


· زکوٰۃ : پاکیزگی، یہاں مراد وہ عطیہ جو دل کی گہرائی سے بغیر کسی مطالبے کے دیا جائے۔

· تھرتی : کانپتی ہوئی، بےثبات

· سسکی : رکتے ہوئے رونے کی آواز


---

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ

سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو زندگی، شخصیت اور فن کا جائزہ پیدائش : ۱۱ مئی ۲۱۹۱ئ بہ مقام : سمرالہ (ضلع لدھیانہ) وفات : ۸۱ جنوری ۵۵۹۱ئ خاندانی نام: سعادت حسن ”منٹو“ سعادت حسن کی ذات تھی منٹو اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”کشمیر کی وادیوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں جن کو ”آل“ کہتے ہیں۔ جیسے نہرو، سپرو، کچلو، وغیرہ ”نٹ“ کشمیر زبان میں تولنے والے بٹے کو کہتے ہیں۔ ہمارے آباﺅ اجداد اتنے امیر تھے کہ اپنا سونا چاندی بٹوں میں تول تول کر رکھتے تھے۔۱ والد کا نام : مولوی غلام حسین بڑی بہن : اقبال بیگم اباو اجداد  علامہ اقبال کی طرح منٹو کے اسلاف بھی کشمیری پنڈت تھے۔ منٹو کے جدامجد خواجہ رحمت اللہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آباد ہوگئے۔ وہ سوداگر تھے اور پشیمنے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ  ۱ سعادت حسن منٹو ”میری کہانی“ ماہنامہ علم و ادب۔ سالگرہ نمبر ۲۵۹۱ئ عبدالغفور تھے اور خواجہ عبدالغفور کے بیٹے خواجہ جمال الدین منٹو کے دادا تھے۔ انہوں نے لاہور کے بجائے امرتسرمیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ ان کے پانچ بیٹے...

بگل والا ........ تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

"بگل والا: خودداری، آنسو اور بے رحم نظام کے خلاف آخری بغاوت۔" یہ کہانی مجھے اُس نے سنائی جس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُسے اصرار ہے کہ اس کہانی سے اُس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک عام آدمی ہے اور ایک عام سی جگہ پر مجھے اچانک ہی مل گیا تھا۔ شاید اچانک نہیں کہ میں اس کا منظر تھا اور اس سے یہ کہانی سننا چاہتا تھا۔ کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی، دوسری، تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔ انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔ بہرحال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے، جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔ یہاں وہاں، کہیں بھی، لیکن نہیں یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی ا، ب، ج کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام تو شناخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہے ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا، نہ ہوئے تو کیا۔ ایک چھوٹی سی چھاﺅنی میں کہ اس وقت چھاﺅنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں، آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاﺅنی نہیں ہوتا تو اس چھوٹی سی چھاﺅنی میں ایک بگل چی رہتا تھا، اس کے بگل پر چھاﺅنی جاگتی تھی، صبح سویرے گہری نیند سوتے فوجی بگل کی آواز پر چونک کر اٹھتے، جلدی جلدی کپڑے...

ڈوبتی پہچان ......... تحریر : ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے ...