![]() |
ایک مضبوط، تاریک اور اندر تک اتر جانے والا نفسیاتی افسانہ جو انسان کو انسان ہی کے آئینے میں مجرم بنا دیتا ہے۔
ڈاکٹر علیم کے ہاتھوں میں جراحی کا
چاقو کانپ رہا تھا، مگر یہ لرزش خوف کی نہیں تھی؛ یہ اُس لمحے کی بے یقینی تھی جب
علم، اخلاق کو روند کر اپنی ہی حدوں سے آگے نکل جاتا ہے۔ آپریشن تھیٹر کی سفید، بے
رحم روشنی میں خون ایک سیاہ سرخی کی طرح پھیل رہا تھا۔ میز پر پڑا جسم اب جسم نہیں
رہا تھا—صرف ایک خاموش پڑی ہوئی کہانی تھی جس کا آخری صفحہ ابھی لکھا جانا باقی
تھا۔ مگر علیم کی نظریں مریض پر نہیں، اُس سینے میں کھلے زخم کے اندر پیوست ایک
چمکتی ہوئی دھات پر جمی تھیں، جو دل کی بے ترتیب دھڑکن کے ساتھ ہلکی نیلی روشنی
چھوڑ رہی تھی۔
"ڈاکٹر صاحب… مریض تو…" نرس زہرہ کی آواز ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں بکھر گئی۔
"خاموش!" علیم نے تیزی سے کہا، جیسے لفظ نہیں، حکم گرا ہو۔
"یہ صرف تجربہ ہے… سائنس کے سامنے اخلاق کی کوئی حیثیت نہیں۔"
زہرہ کی آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔
علیم دھات کو احتیاط سے نکال رہا تھا۔ وہ دھات نہیں تھی—ایک ایسی شے تھی جو جیسے
انسانی اندرونی خاموشیوں کو سانس دے رہی ہو۔
"یہ کیا ہے؟" زہرہ نے لرزتے ہوئے پوچھا۔
علیم کے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ
آئی جو جیت کی نہیں، زوال کی پیش گوئی تھی۔
"یہ جذبات کا کنٹرولر ہے۔ میں نے اسے
بنایا ہے۔ اب ثابت ہوگا کہ انسان اخلاق کے بغیر زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔"
اسی شام لیبارٹری میں خاموشی تھی، مگر
یہ خاموشی عام نہیں تھی۔ یہ اُس کمرے کی خاموشی تھی جہاں انسانی حصے توڑ کر شیشے
میں بند کر دیے گئے ہوں۔ میز پر رکھے چھوٹے شیشے کے ڈبوں میں جذبات قید تھے: محبت،
ہمدردی، شرم، افسوس۔ ہر ڈبا جیسے کسی زندہ شے کی سانس روک رہا تھا۔
"اب میں مکمل آزاد ہوں…" علیم نے آہستہ سے کہا۔ "نہ
اخلاق، نہ کمزوری۔"
مگر آزادی ہمیشہ باہر نہیں ہوتی… بعض
اوقات وہ اندر کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
اگلے دن ہسپتال میں ایک بوڑھی عورت
روتی ہوئی آئی۔ اس کی آواز میں وہ ٹوٹا ہوا پن تھا جو صرف ماں کے دکھ میں ہوتا ہے۔
"ڈاکٹر صاحب… میرا بیٹا حادثے میں…"
"میرے پاس وقت نہیں،" علیم نے سرد لہجے میں کہا۔
"اپنے مسائل خود حل کریں۔"
عورت خاموش ہو گئی۔ مگر اس کی خاموشی
چیخ سے زیادہ بھاری تھی۔
گھر میں ثنا نے اسے دیکھا۔ اس کی
آنکھوں میں سوال تھے، مگر اب علیم سوالوں کے پار جا چکا تھا۔
"تم بدل گئے ہو…" ثنا نے آہستہ کہا۔
"میں بہتر ہو گیا ہوں،" علیم نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
"نرمی کمزوری ہے۔"
رات گہری تھی جب لیبارٹری میں پہلی
بار خاموشی نے حرکت کی۔ دیواروں کے سائے جیسے سانس لینے لگے۔ کمپیوٹر اسکرین پر
ایک جملہ ابھرا:
"جو تم نے نکالا ہے، وہ تمہیں واپس ملے گا—مگر اب دشمن بن کر۔"
علیم نے اسے مذاق سمجھ کر نظر انداز
کر دیا۔
دن گزرتے گئے۔ ہسپتال اب اس کے لیے
تجربہ گاہ بن چکا تھا۔ انسان مریض نہیں رہے تھے، اعداد بن گئے تھے۔ اور جذبات… وہ
قید خانے میں چیختے رہے۔
ایک رات ڈبے ہلنے لگے۔ ہلنا پہلے ہلکا
تھا، پھر بے قابو۔
"یہ ممکن نہیں…" علیم نے سرگوشی کی۔
پھر "ہمدردی" کے ڈبے سے ایک
آواز پھٹی:
"تم نے ہمیں قید کیا تھا… اب ہم تمہیں اندر سے قید کریں گے۔"
شیشہ ٹوٹا۔
اور پہلی بار علیم نے محسوس کیا کہ اس
کے اندر کچھ گر گیا ہے۔
اگلے دن وہ روتا بھی تھا، اور اگلے
لمحے ہنستا بھی نہیں تھا—بس بکھر رہا تھا۔ غصہ اس کے ہاتھوں میں تھا، مگر وجہ غائب
تھی۔
بوڑھی عورت مر گئی۔
اور اس کی موت نے علیم کے اندر پہلی
بار دراڑ ڈالی۔
وہ لیبارٹری کی طرف بھاگا۔ ہر ڈبا ہل
رہا تھا۔
"ہم واپس نہیں جائیں گے…" آوازیں تھیں۔ "اب ہم تمہارے
اندر رہیں گے—تمہارے دشمن بن کر۔"
ایک ایک کر کے شیشے ٹوٹے۔ جذبات ہوا
نہیں بنے—وہ جسم میں داخل ہو گئے۔ مگر یہ واپسی نہیں تھی، یہ سزا تھی۔
آخری ڈبا "شرم" کا تھا۔ وہ
پھٹا تو روشنی نے کمرے کو اندھا کر دیا۔
جب روشنی ہٹی تو علیم زمین پر تھا۔ اس
کی آنکھیں کھلی تھیں مگر دیکھنے سے انکاری۔ اس کے ہونٹ بار بار ایک ہی جملہ دہرا
رہے تھے:
"انسان… اخلاق کے بغیر… درندہ ہے…"
ٹوٹے شیشوں میں اس کے کئی چہرے
تھے—بکھرے ہوئے، لڑتے ہوئے، چیختے ہوئے۔
زہرہ دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔ اس نے
ڈائری اٹھائی۔ آخری صفحہ:
"میں نے جذبات کو قید کیا تھا، مگر اصل میں میں نے خود کو
انسانیت سے آزاد نہیں کیا تھا… میں نے خود کو درندگی کے حوالے کر دیا تھا۔"
وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔
ہسپتال میں روشنی معمول کے مطابق جل
رہی تھی۔ ایک بچہ اپنی ماں کا ہاتھ تھامے ہنس رہا تھا۔
اور اندر ایک انسان پڑا تھا—جس نے سب
کچھ جان لیا تھا، مگر اب اس کے پاس کچھ باقی نہیں تھا جاننے کے لیے۔
کیونکہ بعض علم انسان کو بلند نہیں
کرتے… صرف کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
----------------
مرکزی خیال:
انسان کی اصل شناخت اس کے اخلاقی
جذبات میں پوشیدہ ہے؛ جب وہ انہیں طاقت کے نام پر رد کرتا ہے تو وہ اندر سے ٹوٹ کر
اپنی ہی درندگی کا شکار بن جاتا ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
جراحی: آپریشن / سرجری
کنٹرولر: قابو کرنے والا آلہ
بے حسی: احساسات کا ختم ہو جانا
درندگی: حیوانی اور ظالمانہ رویہ
سرگوشی: آہستہ آواز میں بولنا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں